منحرف ارکان کی اخلاقی حیثیت

66

یہ بات واضح ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے فن سے بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ جب سیاسی مقبولیت کی بلندی کا سفرطے کر رہے تھے تو اس وقت ان کا ایک پاؤں ماڈرنائزیشن کی سیڑھی پرہوتا تھا اور دوسرے پاؤں طالبان کی سیڑھی پر، وہ مخلوط جلسوں کا ایک ایسا کلچر متعارف کروا رہے تھے جس میں بہت سارے لچے اور لفنگے صرف ٹی وی سکرینوں پر دکھائی جانے والی دلکش لڑکیوں کے پیچھے انصافیے ہوئے پھرتے تھے تو دوسری طرف ان کی تقریر کا آغاز ایاک نعبد و ایاک نستعین سے ہوتا تھا اور اختتام ریاست مدینہ کے وعدوں پر۔مجھے آج بھی وہی عمران خان نظر آ رہا ہے جو خود پر عدم اعتماد کرنے والوں کو کم از کم پارلیمنٹ میں داخلے سے روکنے اور شائد جان تک سے مار دینے کے لئے ایک آئینی تحریک کے موقعے پر لاکھوں کااجتماع کرنے کی دھمکی دے رہا ہے اورا س غیر اخلاقی اجتماع کا نام امر باالمعروف بھی رکھ رہا ہے۔
ایک شور بپا ہے کہ حکمران جماعت کے ارکان لوٹے ہو گئے ہیں، انہیں غدار اور بکاؤ بھی کہا جار ہا ہے۔ حکومتی خوشامدی ایک فرضی لسٹ بھی شئیر کر رہے ہیں جس میں ارکان اسمبلی کی قیمتیں پندرہ سے پچیس کروڑ روپوں تک درج کی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ لسٹ درست ہے کہ ایک جیسی اہمیت کے حامل ارکان اسمبلی کی قیمتوں میں دس، دس کروڑ کا فرق کیوں ہے۔ یہ سب بظاہر جھوٹ ہے جس کی فضا بنانے کے لئے ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور سندھ ہاؤس پر حملے کئے جا رہے ہیں، ارکان اسمبلی کلمے پڑھ کر گواہی دے رہے ہیں کہ وہ اپنے ہی حکمرانوں کے تکبر، نااہلی ، کرپشن اور اس کے نتیجے میں مہنگائی جیسی لعنت سے اتنے تنگ آچکے ہیں کہ وہ ان کا مزید ساتھ نہیں دے سکتے۔ لوٹے ہونے کی ایک روایتی تعریف رہی ہے جس میں ہمیشہ حزب اختلاف کے ارکان، اپوزیشن کی تلخی اور مشکلات سے تنگ آ کر، حزب اقتدار کو جوائن کرتے ہیں جیسے پنجاب میں نواز لیگ کے چھ لوٹے ہوئے مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ یہاں حکومت چھوڑ کر اپوزیشن جوائن کرنے والوں کولوٹے کہا جارہا ہے۔ وہ ارکان اسمبلی جن کے اپنے حلقے ہیں اور وہ اپنے عوام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ان کی اپنی الگ نفسیات اور سیاسی نفسیات ہوتی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی وابستگی جس پارٹی کے ساتھ ہو وہ حکومت میں آ کے کارکردگی کامظاہرہ کرے۔ اس وقت ہم صحافی اپنے قلم اور مائیک لے کر جس گلی ، کوچے ، بازار میں نکل جاتے ہیں وہاں لوگ ہمیں مہنگائی اور کرپشن کی دہائی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لوگوں کی چیخیں آٹے اور گھی کی قیمتوں سے ہی نکلی ہوئی ہیں۔ ایسے میں وہ ارکان اسمبلی بہت ہی بے حس اور بے کار قسم کے ہوں گے جو ردعمل ظاہر نہیں کریںگے ،اس نااہلی، مہنگائی اور بدعنوانی کے محافظ بنے رہیں گے۔
یہ دلیل عمومی طور پر دی جا رہی ہے کہ جب یہی ارکان جہانگیر ترین کے طیارے میں عمران خان سے مل کر اپنے گلے میں پٹے پہننے کی شرمناک رسم ادا کر رہے تھے تو اس وقت اسے اپوزیشن کی وکٹیں گرنا کہا جا رہا تھا ، تب وہ عمران خان کے ٹائیگر تھے اور آج اگر وہ ان کی خود پسندی اور تکبر کے سامنے بغاوت کر گئے ہیں تو لوٹے ہو گئے ہیں یعنی خود کریں تو رام لیلا ہے اور دوسرے کریں تو کریکٹر ڈھیلا ہے۔ جناب عمران خان کی ان دو خصوصیا ت کی انتہا دیکھئے کہ وہ اس موقعے پر بھی اتحادیوں اور ارکان کے تحفظات دور کرنے کے بجائے انہیں اپنے اداروں سے دھمکیاں دلوا رہے ہیں، ان پر اپنے ٹائیگروں کے ذریعے حملے کروا رہے ہیں، ٹی وی سکرینوں پر سندھ ہاؤس کو کوٹھا کہا جار ہا ہے۔ ان کا غیر سیاسی اور غیر منتخب ترجمان ٹی وی سکرین پر بیٹھ کے دھڑلے سے رکن قومی اسمبلی کو دلا کہہ رہا ہے اور ایک بار نہیں بلکہ بار بار کہہ رہا ہے۔ عمران خان حیرت انگیز طور پر ارکان اسمبلی کی شکایات دور کرنے کے بجائے جلسے کر رہے ہیں اور انہیں بجا طور پر کہا جا رہا تھا کہ وہ دس، بارہ لاکھ افراد جمع کرنے کے بجائے اپنے دس، بارہ ارکان کو تلاش کریں مگر انہوں نے غلط حکمت عملی استعمال کی۔ وہ مسخروں، سازشیوں اور خوشامدیوں میں گھرے ہوئے ہیں اور پھر یوں ہوا کہ وہ بارہ افراد بڑھ کر ایک دعوے کے مطابق چھتیس ہو چکے ۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ جس وقت ان کی پارٹی کے جنرل سیکرٹری اپنے چودہ منحرف ارکان کو شوکاز نوٹسز جاری کر رہے تھے عین اسی وقت چار مزید ارکان عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مختلف ٹی وی سکرینوں پر منظر عام پر آ رہے تھے۔ عمران خان اس وقت اقتدار کے پہاڑ کی ڈھلوان پر ہیں، وہ نیچے کی طرف لڑھک رہے ہیں اور اب تک گزرنے والے ہر لمحے میں ان کے گرنے کی رفتار تیز ہوتی جا رہی ہے۔
عمران خان کی سب سے بڑی قوت سوشل میڈیا کے غیر حقیقت پسند بلکہ عقل وفہم سے کروڑوں میل دور فالوورز ہیں۔ یہ فالوورز جو عملی سیاسی جدوجہد سے دور ہوتے ہیں ہمیشہ سیاسی جماعتوں کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں چاہے وہ عمران خان کے پیچھے ہوں یا مریم نواز کے پیچھے۔ یہ دماغ سے ہی نہیں بلکہ تربیت،اخلاق اور شرم سے بھی عار ی ہوتے ہیں۔ ان لوگوں نے مقتدر اداروں کے خلاف مہم چلانی شروع کر دی ہے، گالیاں بکی جا رہی ہیں۔ اس کی بنیاد بھی عمران خان کی وہ حماقت ہے جو انہوں نے جلسے میں کی اور نیوٹرل ہونے والوں کے لئے جانور کا لفظ استعمال کیا۔ میں نواز شریف کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے جیل تک بھگتنے کے باوجود مقتدراداروں کے لئے خلائی مخلوق کا لفظ استعمال کیا یا بعد میں محکمہ زراعت معروف ہوا ، جانور تو انہوں نے بھی نہیں کہا جن کے ساتھ واقعی جانوروںجیسا سلوک ہوا۔میں قدرت کے قانون پر حیران ہورہاہوں کہ وہ کون سی بات ہے جو عمران خان کے منہ پر پلٹا کر نہیں مار دی گئی۔ اس وقت تک کی صورتحال بتا رہی ہے کہ چند روز کے بعد عمران خان اقتدار سے باہر ہوں گے۔ وہ اور ان کے حواری اس وقت اپنے ہی ارکان اسمبلی پر چڑھ دوڑتے ہوئے اپنے ووٹروں کی دہائی دے رہے ہیں گویا وہ باالواسطہ طور پر’ ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ جب عمران خان ایوان وزیراعظم سے ایک آئینی اور قانونی عمل کے ذریعے نکالے جائیں گے تو کیا وہ سوال نہیں کریں گے، ’مجھے کیوں نکالا‘، وہ ضرور کریں گے اور میں جواب میں کہوں گا کہ اللہ حق ہے، وہ صمد ہے، وہ انتقام لینے پر قادر ہے۔
بات ارکان اسمبلی کی ہو رہی ہے تو مجھے کہنا ہے کہ ان تمام ارکان کو علم ہے کہ وہ حکومت چھوڑ رہے ہیں۔ وہ چاہتے تو خوشامدیوں اور کاسہ لیسوں کے ساتھ مل کرڈھیٹوں اور بے شرموں کی طرح حکومتی حلوہ کھاتے رہتے مگر انہوں نے عوام کے مفاد کی پاسبانی اور ریاست کے مقاصد کی ترجمانی زیادہ مناسب سمجھی۔ یہ تمام ارکان جانتے ہیں کہ وہ پہلے مرحلے میں اپنی اپنی نشستوں سے اور اس کے بعد پی ٹی آئی کی ٹکٹ سے محروم ہوجائیں گے اور انہیں اس کے لئے نواز لیگ کی قیادت کا مرہون منت ہونا پڑے گا مگر وہ اپنے ضمیر کی آواز اور حلقے کے عوام کے آہ وہ بکا پر جرأت مندانہ اور بہادرانہ فیصلے کر رہے ہیں۔ان کے بارے فکری مغالطے پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، ایک نااہل ، کرپٹ اور عوام دشمن حکومت سے اپوزیشن میں آ نے والے لوٹے نہیں بلکہ ضمیر کے قیدی ہوتے ہیں، عوامی مفادات کے محافظ ہوتے ہیں، جمہوریت کے مجاہد ہوتے ہیں۔ دعا ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں شدید ترین ہمہ جہتی دباؤ کے باوجوداپنے موقف پر قائم رہیں، ڈٹے رہیں، سربلند رہیں۔

تبصرے بند ہیں.