عدم اعتماد کی کارروائی آئین کے مطابق ہونی چاہیے: سپریم کورٹ

119

 

اسلام آباد:   چیف جسٹس عمر عطا بندیا ل نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کی کارروائی آئین کے مطابق ہونی چاہیے،عدم اعتماد کا تعلق سیاست سے ہے،سیاسی عمل میں عدالت کی کوئی دلچسپی نہیں۔

 

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل  اسلام آباد میں جلسے رکوانے سے متعلق سپریم کورٹ بار کی درخواست پر  سماعت ہوئی۔دوران سماعت  چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اخبار کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 63 اے کے معاملے پر عدالت آ رہی ہے، ہم نے از خود نوٹس نہیں لیا، دائر درخواست کو سن رہے ہیں۔چیف جسٹس نے مزید  ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب !سپریم کورٹ بارنےعدالت سےرجوع کیاہے، بارایسوسی ایشن چاہتی ہےقانون پرعملدرآمدکیاجائے،، آپ بھی عدالت سےرجوع کرناچاہتےہیں؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے پر ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہواہے، پیر تک صدارتی ریفرنس دائر کیا جائے گا ، صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ بار کی درخواست سے علیحدہ رکھا جائے۔

 

سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے عدم اعتماد لانے والی سیاسی جماعتوں کو فریق بنا دیاہے اور آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تبصرے بند ہیں.