خدا را سب سے پہلے ملک

11

اِن دنو ں وطنِ عز یز میں سیا سی گہما گہمی نہیں، بلکہ سیا سی گرما گرمی خطر نا ک حد ود کو کراس کرگئی ہے۔ دوسرے لفظو ں میںتحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے حتمی مرحلے سے قبل وفاقی دارالحکومت میں سیاسی جماعتوںکے پاور شو موجبِ تشویش ہیں۔ حزبِ اختلاف والے 23 مارچ سے اسلام آباد کی جانب سفر کا عندیہ دے رہے ہیںجبکہ حکومت نے 27 مارچ کا دن جلسے کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ جبکہ اس خاص موقع پر اسلام آباد میںمختلف سیاسی جماعتوںکے حامیوںکو بڑی تعداد میں اکٹھا کرنا سیاسی اعتبار سے نہایت خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس دوران حکومت کے بعض اہم اور ذمہ دار عہدوںپر فائز شخصیات کے بیانات تشویش کو دوچند کردیتے ہیں۔ جیسا کہ وفاقی وزیراطلاعات نے کہا ہے: تحریک عدم اعتماد میںرائے دینے والوںکو حکومت کے حامیوںکے مجمعے سے گزر کر جانا پڑے گا اور کس میںہمت ہے کہ وہ اس صورت میں وزیراعظم کے خلاف ووٹ دے۔ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے میںآئین، قانون اور پارلیمانی روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کوئی نئی تاریخ رقم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جس طرح دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا جارہا ہے اور حالات جس جانب سرکتے نظر آتے ہیں، لگتا ہے سیاسی دھڑے تصادم کے کنارے پر کھڑے ہیں جبکہ بعض وزرا کے بیانات جلتی پر تیل کا کام کررہے ہیں۔ ایسے آتشیں بیانات داغنے کا مقصد سوائے اس کے کیا ہوسکتا ہے کہ مخالف بھی تیاری کرکے آئیں۔ افسوس کہ کوئی بھی اس خوفناک صورت حال کے نتائج کو نہیں دیکھ رہا۔ تنائو سے بھرے سیاسی حالات میں بیک وقت لاکھوں کے ہجوم کو اسلام آباد میں جمع کرنے کا نتیجہ خدانخواستہ خوفناک تصادم کی صورت میں سامنے آسکتا ہے اور اس کی لہریں ملک بھر میں محسوس کی جائیں گی؛ نتیجتاً ملک سیاسی اعتبار سے تشویشناک صورت حال سے دوچار ہوسکتا ہے۔ ملک کو اس سیاسی تصادم سے پیدا ہونے والے انتشار سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے سیاسی جلسوں کے پروگرام منسوخ کریں۔ یہ جلسے تحریک عدم اعتماد کے حتمی مراحل طے ہونے کے بعد میں بھی ہوسکتے ہیں۔ نیز ایک شہر میں ایک ہی وقت میں دو مخالف سیاسی کیمپوں کے جلسے شہری زندگی کو بھی مفلوج کرکے رکھ دیں گے۔ اسلام آباد کے شہری ابھی سے اس تشویش کو محسوس کرنے لگے ہیں۔ کیونکہ ماضی قریب میں اس شہر نے اجتماعات کے نام پر طویل مدتی دکھ سہے ہیں، تاہم سیاسی جماعتوں کے آمنے سامنے آجانے کے نتائج زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔ ایسی کوئی صورت حال ہمارے سماج کے تانے بانے ہلا کر رکھ دے گی اور سماجی ہم آہنگی، جو کسی بھی سماج کی بنیاد ی ضرورت ہے، شدید طور پر متاثر ہوگی۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی قائدین کا منصب قوم کو شعور بخشنا ہے مگر ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس محسوس ہوتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس کام میں حکومت پیش پیش ہے۔ اسلام آباد کا ڈی چوک
پارلیمانی علاقے کے قریب پڑتا ہے اور اسی حساسیت کے پیش نظر ماضی میں اس مقام پر جلسے وغیرہ کی اجازت نہیں رہی۔ مگر حیرت ہے کہ حکومت خود اس پابندی کو توڑنے کا تہیہ کیے بیٹھی ہے۔ اسلام آباد میں حکمران جماعت کا ایک بڑا اجتماع جس میں بقول وزیروں کے ایک ملین افراد جمع ہوں گے، اس وقت اس کی کیا ضرورت و اہمیت ہے؟ یہ سب اس لیے کیا جارہا ہے کہ حکومت کے خلاف حزبِ اختلاف کے اراکین عدم اعتماد کی تحریک پیش کرچکے ہیں، جس کی گنجائش انہیں آئین دیتا ہے۔ یہ بات پہلے بھی کئی مرتبہ دہرائی جاچکی ہے کہ حکومت کو اگر یقین ہے کہ اسے پارلیمان کا اعتماد حاصل ہے تو اس کے لیے عدم اعتماد کی تحریک میں پریشانی کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے۔ پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ کس مائی کے لعل کا کلیجہ ہے کہ دس لاکھ کے مجمعے سے گزر کر وزیر اعظم کے خلاف ووٹ ڈالے اور واپس جائے۔ ایسی بیان بازی حکومت کے اپنے مؤقف کو کافی دھچکا پہنچارہی ہے۔ اس دھمکی آمیز بیانیے کو مرعوب کرنے کے ہتھکنڈے کے طور پر دیکھا جائے گا اور اپوزیشن ضرور اس کی تشریح اسی طرح کرے گی کہ حکومت کو اعتماد حاصل نہیں، اس لیے دھمکیاں دینے پر اُتر آئی ہے۔ مگر یہ کسی ایک حکومت یا سیاسی پارٹی کی بقا کا مسئلہ نہیں، یہاں تو ملک کے جمہوری نظام کی بازی لگی ہوئی نظر آرہی ہے۔ ہر کوئی پارلیمان اور پارلیمینٹیرینز کی عزت کے دعوے کرتا نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی ہوتی ہے عزت؟ صرف اپنے مفادات کا خیال نہ کریں، کچھ اپنے ملک اور عالمی برادری میں اس کی عزت، وقاراور ساکھ کا بھی لحاظ کریں! حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں ایسے فوری اقدامات کی ضرورت ہے جو ملک کو کسی سیاسی تصادم سے بچا سکیں۔ پاکستان کی سیاست اب تک زیادہ تر بیانیے کی لڑائی تک محدود رہی ہے مگر حالیہ کچھ عرصے میں سیاست کو جس سمت ہانکنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کے نتائج کسی لحاظ سے بھی ملک و قوم کے لیے بہتر نہیں۔ اس سیاسی محاذ آرائی کا نتیجہ سوائے انتشار کے کچھ نہیں ہوسکتا۔ لوگ اپنے مسائل کے لیے پریشان ہیں اور اگر عالمی منظرنامے پر ایک نظر ڈال لی جائے تو وہاں تیزی سے تغیرپذیر حالات ہوشیار اور چوکس رہنے کا تقاضا کررہے ہیں جبکہ سیاسی رہنمائوں کی نظریں اپنے اپنے مفادات سے آگے نہیں بڑھ پارہیں۔ اس ناپسندیدہ روش کو فی الفور ترک کرنا اور ملک و قوم کے مفاد میں سیاسی ہم آہنگی کے ساتھ جمہوری سسٹم کو چلانا ہوگا۔ ان حالات میں بزرگ سیاسی رہنما چودھری شجاعت حسین کی یہ تجویز صائب معلوم ہوتی ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف دونوں اسلام آباد میں اپنے سیاسی جلسے منسوخ کریں۔اس کے بغیر کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا۔ ایک ہی وقت میں متحارب سیاسی دھڑے اسلام آباد میں اکٹھے ہوئے تو تصادم کا اندیشہ خارج از امکان نہیں۔ ویسے بھی یوم پاکستان کے موقع پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی مناسبت سے مارچ کے آخری ہفتے میں اسلام آباد عالمی توجہ کا مرکز ہوگا۔ اس موقع پر پُرامن، محفوظ اور مہذب دارالحکومت کے طور پر اسلام آباد کا تشخص اجاگر کرنا قومی تقاضا ہے اور سب کی مشترکہ ذمہ داری بھی۔ ایسے موقع پر لایعنی سیاسی مظاہرے اور جلسے جلوس کے لیے سیکورٹی انتظامات انتظامی مشکلات کا سبب بنیں گے اور عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا موجب بھی۔ اس حوالے سے آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ کی یہ ہدایت قابل توجہ ہے کہ او آئی سی کونسل آف وزرائے خارجہ کے اجلاس اور یومِ پاکستان کی پُرامن پریڈ کے لیے جامع حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ اسلام آباد کو میدانِ جنگ بنانے کا سوچنے والوں کے لیے یہ اشارہ کافی ہونا چاہیے!

تبصرے بند ہیں.