سیاست میں ناشائستہ زبان کا چلن

14

سیاست کے کھیل میں بہت کچھ روا سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کی سیاست میں تو چال بازیاں، قلا بازیاں، بے وفائیاں، طوطا چشمیاں، ہیرا پھیریاں، وعدہ خلافیاں، ابن الوقتیاں، خو د فروشیاں اور کہہ مکرنیاں فنِ سیاست کے اجزائے ترکیبی بن چکی ہیں۔ جنہیں کامرانیوں اور کامیابیوں کا زینہ خیال کیا جاتا ہے۔ جو سیاست دان اس فن میں زیادہ طاق اور مشاق ہے وہی باکمال ہے۔ ہماری قومی تاریخ میں عام دنیا دار سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ، بات بات پر اللہ اور رسول کا نام لینے اور اپنے خطبات کو قرآن و حدیث سے مزین کرنے والی جماعتیں بھی اپنی عبائیں اور قبائیں داغدار ہونے سے نہ بچا سکیں۔ اسے ایک المیہ سمجھا جانا چاہئے کہ پاکستانی سیاست کو ایک بے وقار سرکس بنا دیا گیا حالانکہ مہذب دنیا میں بہت سی سیاسی گنجائشوں اور رعایتوں کے باوجود سیاست کو اخلاقی ضابطوں سے عاری حیا باختہ کھیل نہیں بننے دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ روا ہوتا ہے لیکن محبت دیوانگی کی حدیں چھونے کے بعد بھی کچھ قرینے رکھتی ہے۔ اس لئے حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں کو سیاسی اختلافات کے اظہار میں اپنے لب و لہجے اور طرزِ گفتار پر بھی توجہ دینی چاہئے۔
پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستان میں نا شائستہ زبان اور بد تمیزی کا چلن عام ہے اور اس حوالے سے سیاست دان سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن نے گزشتہ تین چار برسوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور توہین و تضحیک کا نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دونوں نے اپنی خوبیاں اور دوسرے کی خامیاں پوری شرح و بسط کے ساتھ اجاگر کر دی ہیں اور حیران و پریشان عوام ان سے اچھی طرح واقف ہو گئے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں تحریکِ عدم اعتماد کے آنے کے بعد سے ملکی سیاست نے جو رخ اختیار کیا ہے اس کا نتیجہ اختلافِ رائے سے پیدا ہونے والی روایتی محاذ آرائی سے زیادہ تصادم اور مار کٹائی کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ پارلیمنٹ لاجز میں تصادم کی صورت میں سامنے آیا۔ اختلافِ رائے کو جمہوریت کا حسن کہا گیا ہے جس میں خیر کے بہت سے پہلو ہیں کیونکہ ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے اختلاف رکھنے والے فریق دلائل سے دوسرے کو اپنی رائے کی اصابت
سے قائل کرتے ہیں یا خود قائل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کسی بھی مسئلے کا اتفاقِ رائے سے حل نکل آتا ہے مگر ہمارے ہاں اس وقت جو صورتحال نظر آتی ہے اس میں قومی معاملات کو دلائل و براہین سے حل کرنے کی جگہ سارا زور اپنے کہے ہوئے کو مستند منوانے کے لئے دوسرے کی پگڑی اچھالنے، کج بحثی، گالی گلوچ اور طعنہ زنی پر لگایا جا رہا ہے۔ کرپٹ ہیں، انہیں نہیں چھوڑوں گا، یہ چور ہیں، ڈاکو ہیں، سڑکوں پر گھسیٹیں گے، وہ سلوک کریں گے کہ یاد کریں گے، قوم کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا، نالائق ہیں، شکل سے ہی غدار لگتے ہیں، سیاسی یتیم وغیرہ وغیرہ۔ ایسی باتیں سن سن کر عوام کے کان پک گئے ہیں۔
اس وقت ایسی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی کہ تصادم اور محاذ آرائی کی طرف بڑھتے معامالت کو روکا جا سکے۔ اپوزیشن کو اعتماد ہے کہ جو کچھ وہ کر رہی ہے اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اگر چہ اس حکومت کے خاتمے کے لئے تحریکِ عدم اعتماد آئینی اور قانونی راستہ ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عدم اعتماد کر کے حکومت کو فارغ کیا جا سکتا ہے، لیکن دونوں جانب سے ایک دوسرے کے بارے میں جیسے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جس طرح جلسوں کی کالیں دی جا رہی ہیں، اس سے واضح طور پر محسوس ہو رہا ہے کہ تصادم کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ سیاسی تصادم کا کوئی نہ کوئی حل نکالا جایا جانا چاہئے۔ بظاہر جس کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ دونوں طرف سے لچک کا مظاہرہ بھی نہیں ہو رہا ہے۔ لگ اس طرح رہا ہے کہ ڈی چوک پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اسمبلی سے باہر ہی معرکہ پڑ جائے گا۔فریقین کے کارکن یہاں ایک دوسرے کے سامنے آ سکتے ہیں جس سے اسلام آباد کا امن و سکون تباہ ہو سکتا ہے اور پھر یہ سلسلہ یہیں پر ختم نہیں ہو گا بلکہ پورے ملک میں بھی پھیل سکتے ہیں۔ ان حالات میں جب کہ پاکستان کی معیشت کئی وجوہات کی بناء پر کمزور ہے اور اسے استحکام کے دورانیہ کی ضرورت ہے لگتا ہے کہ معیشت کا کسی کو خیال نہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور محاذ آرائی سے ملک کو نقصان ہو گا، معیشت اس کا سب سے بڑا شکار ہو گی۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا کوئی فریم ورک بن جائے اور معاملات مذاکرات کے ذریعے حل ہو پائیں۔
سیاسی تدبر کا تقاضا ہے کہ اراکینِ پارلیمنٹ کو اخلاقیات کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور فلور کراسنگ کی شق کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے ۔ بالفرض کوئی سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دینا ہے تو اس کا جمہوری طریقہ یہی ہے کہ وہ پہلے اپنی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے اور پھر دوبارہ اس پارٹی جس کو ووٹ دینا چاہتا ہے اس کے انتخابی نشان پر منتخب ہو کر اسمبلی آئے اور ووٹ دے۔  ایک ایسے وقت میں جب کہ ملک کے اندر سیاسی کشیدگی کی فضا قائم ہے۔ سیاسی لیڈروں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ تلخیوں کو بڑھانے کی بجائے سنجیدگی کا، افہام تفہیم اور دلیل و منطق پر مبنی طرزِ گفتار اپنائیں اور یہ مت بھولیں کہ موجودہ حالات ملک میں سیاسی ہنگامہ آرائی کا مطلب ان دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو پورا کرنا ہے جو پاکستان کے داخلی انتشار میں مبتلا کرنے کے خواہشمند ہیں۔
دنیا میں جمہوریت کو روشناس کرانے والوں نے ایک جمہوری اخلاقیات کو بھی روشناس کرایا ہے۔ کتنا بے وفا ہے ہماری سیاست کا مزاج اور اس قدر بے اصولی اس بازار کا سکہ رائج الوقت ہے۔ اگر کچھ ہے تو مفادات کا لین دین ہے، وفاداریوں کی قیمت کے تخمینے ہیں۔ تمام دوستیاں، رشتے ناتے، تعلقات اور محبتیں منڈی کے اس نظام کی خود غرضی اور خود پرستی کے زہر سے آلودہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ سچائی، دیانت داری اور انسانیت کا احساس کرنا ایک معاشرتی برائی بن چکا ہے۔ غنڈہ گردی اور قبضہ گروپوں کا سیاست پر راج ہے۔ کالا دھن اہم فیصلے کرواتا ہے۔ کالے دھن نے اپنے مفادات کے لئے جس جنون کو ایک کاروبار بنایا ہے اس سے جنم لینے والے خوف و ہراس نے پورے سماج کو ایک مسلسل نفسیاتی زد میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خود کونمایاں کرنے کی ضرورت ہر ضرورت سے اہم ہے۔ ایک دھڑا کرسی کے دفاع اور دوسرا دھڑا سب کرسیوں کے حصول کے لئے اس قوم کا بچا کھچا تن من دھن داؤ پر لگائے جا رہا ہے اور جمہوریت بال کھولے سرِ عام ناچ رہی ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ کوئی انہیں ٹوکنے والا نہیں کیونکہ یہاں ہر کرسی اپنے اپنے کھیل میں مصروف ہے۔ کاش اس ملک کی سیاست کو گندا کرنے والوں کو روکنے والا کوئی ہوتا ۔ کاش ملک میں کوئی ایک ادارہ ایسا ہوتا جو اس ملک کی سیاست سے لوٹا سازی کی صنعت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس طرح خاتمہ کرتا کہ اس ملک میں نہ کوئی خریدار کی عزت ہوتی اور نہ ہی مالِ مسروقہ کی۔

تبصرے بند ہیں.