پی ٹی آئی کے 12 ایم این اے اپوزیشن نے چھپا رکھے ہیں: پرویز الہٰی

54

 

لاہور: مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ کوئی یوٹرن نہیں لیا۔ کل والے بیان پر قائم ہوں، وزیراعظم رابطہ نہیں کرتے۔ اپوزیشن نے وزارت اعلیٰ کی پیش کش کی ہے ۔ تحریک انصاف کے 10 سے 12 ارکان اپوزیشن نے چھپا رکھے ہیں

 

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے چودھری پرویز الٰہی  نے کہا کہ ہمارے نمبرز شامل ہوں گے تو اپوزیشن کی پوزیشن بہتر بنے گی ۔ہم اتحادی جماعتیں 17 لوگ ہیں ۔ جہانگیر ترین گروپ آج بھی مائنس بزدار کی بات کر رہا ہے، یہ باتیں تو پی ٹی آئی کے سارے لوگ کہہ رہے ہیں۔

 

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عثمان بزدار کے والد ہماری پارٹی میں تھے ۔ بڑی تگ و دو کے بعد تحصیل ناظم بنوایا تھا۔ ان کے والد کہتے تھے اس کوسمجھ نہیں آئی آپ نے ساتھ لیکر چلنا ہے ۔ عثمان بزدار سے رشتہ ختم نہیں ہوا، ان کو سمجھا سکتے ہیں اگر وہ خود ہی ٹکر ماریں گے تو پھرسمجھانے کا فائدہ نہیں ہوگا۔

 

چودری پرویز الٰہٰی نے کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے عمل کو وسیع کیا ہے ۔ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا جس سے پی ٹی آئی کو نقصان ہو ۔ آصف زرداری کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، ابھی وقت ہے، مشاورت کا عمل جاری ہے، وزارت اعلیٰ کی پیشکش توہوتی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  شہبازشریف، مولانا فضل الرحمان نے بھی وزارت اعلیٰ کی بات کی تھی ۔ عمران خان نے گھر آکر کسی چیز کا ذکر نہیں کیا تھا، عمران خان چودھری شجاعت کی خیریت دریافت کرنے آئے تھے، ہم نے عمران خان سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کی تھی۔

 

چودھری پرویز الہٰی کہتے ہیں کہ وزیراعظم رابطہ نہیں کرتے، کل رات پرویز خٹک نے مونس الہیٰ سے بات کی تھی، پرویزخٹک، اسدعمر، اسد قیصر سے رابطہ رہتا ہے۔  شہباز شریف سے فون پر بات ہوئی تھی، ابھی ملاقات نہیں ہوئی۔ نیب نے مونس الٰہی کو کلیئر قرار دیا، پی ٹی آئی کے ترجمان آف دی ریکارڈ کہتے ہیں ان کے پاس نیب، ایف آئی اے ہے۔ باپ پارٹی اور ایم کیوایم کا جھکاؤ فی الحال اپوزیشن کی طرف ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ کل والے بیان پر قائم ہوں، نئے فیصلے کے لیے مشاورت کا عمل جاری ہے ۔ وزیراعظم نے گھر آکر کوئی بات ہی نہیں کی، جب کوئی بات ہی نہیں کرے گا تو پھرخود ہی اندازہ لگا لیں ۔ قصور اتحادیوں کا تو نہیں ہے، پی ٹی آئی کی ٹکٹ والے ممبران پر ووٹ دینے کے بعد ایکشن لیا جاسکتا ہے۔ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ کسی ممبر کو ووٹ دینے سے روکا جائے۔

 

چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال ہر لمحے پی ٹی آئی کا ساتھ دیا۔ ہم الگ نہیں ہوئے ہیں، ہم نے چیزوں کو درگزر کرتے ہوئے ساڑھے تین سال ساتھ دیا۔ شیخ رشید میڈیا میں بڑا کچھ کہتے ہیں  وزیر داخلہ ہی وزیراعظم کو مشورہ دیں کہ تصادم سے نقصان ہوگا ۔ ماضی میں حکومتوں کے جانے کی وجہ تصادم ہی بنی ہے ۔ اسلام آباد میں تصادم ہونے کا خطرہ ہے، جلسے خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔

 

سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ  تصادم روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ کوئی دوست ملک یا ادارہ اس کام کے قریب نہیں آرہا، جلسوں کے اعلان سے خطرہ دیکھ رہا ہوں۔ کبھی ایسا ہوا ہے کہ حکومت نے بھی جلسے کا اعلان کیا ہو، مشیر کچھ بھی کہے ذمہ داری وزیراعظم پر ہی آئے گی یہ کہنا کہ جلسے کرنے ہیں تو پھر ٹکراؤ سے نقصان ہی ہوگا۔

 

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ شیخ رشید مشرف کے زمانے میں اسپیکر بننا چاہ رہے تھے، شیخ رشید کو مشرف دور میں کہا تھا آپ وزیر بن رہے ہیں تو پنگے بازی نہ کریں ۔ وزیر داخلہ کو ہر چیز کی جلدی ہوتی ہے، نوازشریف کو جب بھاری اکثریت ملی تو شیخ رشید کو کوئی وزارت نہیں دی تھی ۔ شیخ رشید نے اس وقت نوازشریف کو گالیاں نکالی تھیں ۔ شیخ رشید کو کہا تھا خدا کا خوف کرو ۔

تبصرے بند ہیں.