کامیاب معاشی پالیسیوں کو استحکام دینا ضروری ہے!

17

حکومت کی طرف سے کہا گیا تھا کہ سال 2020-21 میں پاکستان کی معیشت کی مجموعی پیداوار میں شرح نمو 5.37 فیصد رہی جو گذشتہ 14 برسوں کے دوران دوسری سب سے زیادہ شرح ہے۔یہ دوسری مرتبہ ہے کہ پاکستان کی سال 2020/21 میں معیشت کی شرح نمو کو تبدیل کیا گیا ہے، پہلے 2020 کے سالانہ بجٹ میں اسکا ہدف 2.3 فیصدرکھا گیا، جسکے بعد اسے 3.9 فیصد کر دیا گیا تھا۔نئی بیس لائن کے بعد پاکستان کی مجموعی معاشی پیداوار کا حجم 346.76 ارب ڈالر ہو گیا ہے، جبکہ فی کس سالانہ آمدن 1666 ڈالر ہو گئی ہے۔ اگر ری بیسنگ کے بعد حساب لگایا جائے تو 2020-21 میں شرحِ نمو 5.57 فیصد ہو جاتی ہے۔ تاہم مجموعی پیداوار کی اچھی شرح نمو اور بہتر فی کس آمدن کے اعداد و شمار کے باوجود کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں عام عوام کی جیب پر اسکا اثر دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح میں 12.3 فیصد اضافہ ہوا۔ دسمبر 2021 میں مہنگائی کی شرح اس سے پچھلے سال اسی ماہ کے مقابلے میں 12.3 فیصد بڑھی۔ اگر پاکستان کا موازنہ ایشیا کی دیگر کامیاب معیشتوں سے کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ بنگلہ دیش کی فی کس مجموعی قومی پیداوار پاکستان اور انڈیا سے بھی کئی گنازیادہ ہے۔ گلوبل اکانومی درجہ بندیوں کے غیر مساوی ترقی کے انڈیکس میں انڈیا کانمبر 61 واں ہے جبکہ بنگلہ دیش کا نمبر 71واں بنتا ہے اور پاکستان کا نمبر 82واں ہے۔ ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، 1971 میں انڈیا کی قومی مجموعی پیداوار 67 ارب ڈالر تھی جب پچھلے برس یعنی سنہ 2020 میں 2622 ارب ڈالر تھی، یعنی7.7 فیصد سالانہ اوسط شرح نمو اور 49 برسوں میں 38 گنا اضافہ ہوا ہے۔2019 میں انڈیا کا جی ڈی پی 2871 ارب ڈالراور2020 میں فی کس آمدن 1900 ڈالر تھی۔دوسری جانب بنگلہ دیش کی 1971 میں قومی مجموعی پیداوار 8.7 ارب ڈالر تھی جو پچھلے برس سنہ 2020 تک 324 ارب ڈالر تھی، یعنی 7.71 فیصد سالانہ اوسط شرحِ نمو، جبکہ 49 برسوں میں 38.1 گنا اضافہ ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کا جی ڈی پی 2019 میں 302 ارب ڈالر اور 2020 میں فی کس آمدن 1968 ڈالر تھی، یعنی انڈیا سے بھی زیادہ، تاہم پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 1971 میں 10.6 ارب ڈالر تھی جو کہ پچھلے برس تک 263 ارب ڈالر تھی یعنی سالانہ اوسط شرح نمو 6.68 فیصد تھی اور 49 برسوں میں 23 گنا اضافہ ہوا۔ 2019 میں پاکستان کے جی ڈی پی کی مالیت 288 ارب ڈالر تھی جو کہ 2018 میں 314 ارب ڈالر تھی۔اس دوران مشرقی ایشیا کی معاشی طاقتوں کا موازنہ کریں تونظر آتا ہے کہ 1980ء تک چین دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل تھا جسکی 80 فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی ایک امریکی ڈالر سے کم تھی اور تمام بالغ افراد کا صرف ایک تہائی حصہ تعلیم یافتہ تھا۔2000 تک غربت کا تناسب کم ہو کر تقریباً 16 فیصد رہ گیا تھا۔ 2008 اور 2018 کے درمیان چین کاجی ڈی پی 4.6 ٹریلین ڈالر سے 18 ٹریلین تک بڑھ گیااور دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن گیا۔آج اسکی فی کس آمدنی دس ہزار ڈالر ہے اور 700 ملین آبادی کو غربت سے نکالنے میں اسکی کامیابی ہے جس میں 500 ملین لوگ متوسط طبقے کے طرز ِزندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ چین آج دنیا کادوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے جسکے پاس دنیا میں سب سے زیادہ زرِمبادلہ کے ذخائر 3.2 ٹریلین ڈالر ہیں جو 13 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔ 1960 میں کوریا اور پاکستان کی فی کس آمدنی 100 ڈالر تھی۔ کوریا اب بڑھ کر او ای سی ڈی ملک بن چکا ہے۔ اسکی فی کس آمدنی 27500 ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہم نے ابھی 1600 کی حد عبور کی ہے۔
1960ء کی دہائی کے آخر میں پاکستان کی برآمدات انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور فلپائن کی مجموعی برآمدات سے زیادہ تھیں۔ جنگ سے تباہ شدہ ویت نام 1985 اور 2020 کے درمیان 100 فیصد سے زیادہ کی برآمدات کے ساتھ اپنی اوسط فی کس آمدنی میں 12گنا اضافہ کرنے میں کامیاب رہا۔ویت نام میں غربت کی شرح 70 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد پر آگئی۔ دو دہائیاں قبل پاکستان کی برآمدات 10 ارب ڈالر اور ویت نام کی 14 ارب ڈالر تھیں۔ 2020 میں ویت نام کی برآمدات281 بلین سے تجاوز کر چکا تھا جبکہ ہم اسکا تقریباً دسواں حصہ ہیں۔ جبکہ یہ تمام ممالک آگے بڑھ چکے ہیں۔ پاکستان اب بھی 1666ڈالر فی کس آمدنی، غربت کی شرح تقریباً 24 فیصد اور 30 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کے ساتھ تاحال ایشیا کی پہلی 20 مضبوط معیشیتوں میں بھی جگہ نہ بنا سکاہے اورملک کی شرح نمو بھی دوسروں سے پیچھے رہ گئی ہے۔
پاکستان نے اگر1960 کی دہائی کی اپنی معاشی ترقی کو برقرار رکھا ہوتاتو اسکی معیشت دیگرمشرقی ایشیائی معیشتوں کی طرح ہوتی اور اب تک درمیانی آمدنی والے گروپ میں شامل ہو چکی ہوتی۔
سوال یہ ہے کہ مسلسل سیاسی عدم استحکام، حکومتی نااہلیوں، 1990 دہائی کے ایشیائی بحران، 2008 کی عالمی کساد بازاری اور حالیہ کوویڈ کے اثرات سے کیسے معیشت کا مقابلہ کریں؟ ہمیں بھی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے تیز تر کوششوں سے اشیا اور خدمات کی درآمد اور برآمد دونوں کو اس طرح بڑھانا پڑے گا۔
چین ایک ایسا محور بن چکا ہے جس پر خطے کے ممالک انحصار کرتے ہیں۔دوسری طرف جنوبی ایشیا دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں علاقائی انضمام برائے نام ہے۔تعلیم، صحت، پینے کے پانی، صفائی ستھرائی، غذائیت اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کے ذریعے انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کی جائے جس نے مشرقی ایشیائی ممالک میں غربت میں کمی اور سماجی اشاریوں میں بہتری میں اہم کردار ادا کیا۔ خصوصی توجہ صحت کی سہولیات پر مرکوز کی جائیں جوکم آمدنی والے طبقے کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ کامیاب ایشیائی ممالک میں خواندگی کی شرح تقریباً 100 فیصد ہے۔ ان ممالک کی معیشتوں اور سماجی بہتری کے اشاریوں پر تعلیم کے اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں، انسانی ترقی کا گہرا تعلق افرادی قوت کی بہترتربیت اورسکلز ڈیولپمنٹ سے ہوتا ہے۔ ایشیائی ممالک نہ صرف تعلیم یافتہ کارکنوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کارکنوں کو نئے علوم، پیداوار کی تکنیک یا پروسیسنگ میں بہتری کے لیے مسلسل تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستان کو بھی فرسودہ نظام اور طریق کار کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری اور برآمدات کیلیے معیشت کو کھولنا ہوگا۔ ٹیرف کی شرح یکساں طور پر کم کرکے نان ٹیرف رکاوٹیں ہٹانے ضروری ہے۔کامیابی کے سفر کیلئے کامیاب ماڈلز کے تجربات کی طرزپر طویل مدت اصلاحاتی معاشی پالیسیوں کو استحکام دینا ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.