تحریک عدم اعتماد اور بھارتی میزائل

19

وطنِ عزیز میں تحریکِ عدمِ اعتماد کے غلغلہ کی شدت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیاسی صورتِ حال ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد یکسر تبدیل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہر کالم نویس کی یہ ضرورت بن چکی ہے کہ وہ مسلسل اپنے قارئین کو بدلتی ہوئی صورتِ حال سے آگاہ رکھے۔ مگر کیا کیجئے کہ اس دوران اے بولٹ فرام بلیو کے موافق بھارت کے فائر کیے ہوئے میزائل کا پاک سر زمین پہ آ گرنا اپنی جگہ توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ لہٰذا زیرِ نظر کالم دو مختلف موضوعات پہ مشتمل ہے۔ تو تحریکِ عدمِ اعتماد کے غلغلہ سے بات شروع کرتے ہوئے کہنا یہ مقصود ہے کہ یوں لگتا ہے تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں مناقشہ شروع ہو چکا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے اپوزیشن کے خلاف دھواں دار بیانات اور خطابات برقرار ہیں جبکہ گزشتہ سہ پہر اپوزیشن رہنماؤں مولانا فضل الرحمن اور شہباز شریف نے ان بیانات پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے وارننگ دی کہ وہ اپنی زبان کو لگام دیں ورنہ بات دور تک جائے گی۔ یوں ایک دستوری معاملہ جسے ایوان کے اندر جمہوری اور آئینی طریقے سے نمٹایا جا سکتا ہے اور نمٹایا جانا چاہیے، حکومت اور اپوزیشن کے مابین تنازع کا باعث بن چکا ہے اور معاملہ محض سیاسی رہنماؤں تک محدود نہیں رہا بلکہ آگے اب سیاسی ورکر اور سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیمیں بھی متحرک ہو رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ڈی چوک میں جو کچھ ہوا، یہ ایک مثال ہے شعلہ فشانیوں کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو معاملات قابو میں نہیں رہیں گے اور حالات نقص امن کا شکار ہو جائیں گے، یعنی چنگاریاں شعلوں میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اس لیے محتاط رہنے اور سوچ سمجھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی معاملات کو دیکھتے ہوئے نجانے کیوں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ماضی اور تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے سیاسی غلطیوں کے اعادے پر مصر رہتے ہیں۔ پوری قوم دائرے کے اس سفر کا نجانے کتنی دہائیوں سے مشاہدہ کر رہی ہے۔ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری نسل سیاسی محاذ آرائی کی نذر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ نوے کی دہائی کی سیاسی مناقشت کس سے ڈھکی چھپی ہے جب مخالفین کی ذات پر کیچڑ اُچھالنے سمیت ہر حربے کو نا صرف جائز بلکہ سیاسی مقابلے کے لیے لازم سمجھا گیا۔ اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سیاسی مخالفین کی تضحیک کو ہوا دی گئی اور ان کے مضحکہ خیز نام رکھنے کی جو روایت ڈالی گئی، وہ بھی ملکی سیاسی تاریخ کے سیاہ اوراق کا حصہ ہے۔ نجانے کیوں ہماری سیاسی اشرافیہ غلطیوں سے سبق سیکھنے اور پھونک کر قدم آگے بڑھانے کے بجائے انہی رستوں کا دوبارہ انتخاب کرتی نظر آ رہی ہے۔ نوے کی دہائی سیاسی منافرت کا انجام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے کچھ سال پہلے میثاقِ جمہوریت کیا، جس میں سیاسی رواداری اور اختلافی معاملات میں بہرصورت آئینی و قانونی راہ اپنانے پر زور دیا گیا اور الزام و بہتان تراشی سمیت زبان درازی کی مذمت کی گئی تھی، تو امید
پیدا ہوئی کہ حالات کا رخ درست منزل کی جانب ہو جائے گا۔ لیکن آج ڈیڑھ دہائی بعد قومی سطح پر ہم خود کو دوبارہ نوے کی دہائی کا اسیر پاتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ ہمارا سیاسی سفر بیک گیئر کا شکار ہے۔ جن گڑھوں میں ہم پہلے گرے تھے، انہی میں دوبارہ، سہ بارہ قدم رکھتے ہیں۔ زیادہ دن نہیں گزرے کہ سب نے دیکھا، کس طرح ایک تنظیم نے قومی شاہراہوں کو بلاک کر دیا تھا اور پھر فوج کو معاملات طے کرانا پڑے تھے۔ ثباتِ عقل کو راستہ ملنا چاہیے۔ ضروری ہے کہ معاملات کو اس سطح تک نہ جانے دیا جائے جہاں سے واپسی ناممکن ہوتی ہے؛ چنانچہ یہ طے ہے کہ اخلاقیات سے متجاوز بیانات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ آئینی عمل کو آگے بڑھنا چاہیے! ایک اہم معاملہ تحریک عدم اعتماد ہی کے تناظر میں فوج کے نیوٹرل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں قیاس آرائیاں ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ قومی ادارہ نیوٹرل ہوا ہے تو اپوزیشن کو حکومت کے خلاف کھل کھیلنے کا راستہ ملا جبکہ کچھ کا موقف اس کے برعکس ہے۔ بہرحال ڈی جی آئی ایس پی آر نے جمعرات کی شام پریس کانفرنس میں یہ واضح کر دیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ اس وضاحت کے بعد یہ نیوٹرل اور نان نیوٹرل والا باب بند ہو جانا چاہیے کہ سیاسی کشمکش میں قومی اداروں کو ملوث کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
اب آ تے ہیں کالم کے دوسرے حصے یعنی بھارتی میزائل کے معاملے کی جانب۔ قارئین کرام، آپ جان چکے ہوں گے کہ بھارت کی وزارتِ دفاع نے اعتراف کیا کہ بدھ 9 مارچ کو پاکستان کے ضلع خانیوال کی تحصیل میاں چنوں میں گرنے والا میزائل حادثاتی طور پر بھارت سے فائر ہوا تھا۔ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ میزائل روزمرہ کی دیکھ بھال کے دوران تکنیکی خرابی کے سبب فائر ہو گیا تھا۔ اس روز شام کے وقت میاں چنوں کے علاقے میں ایک انتہائی تیز رفتار شے مقامی رہائشی علاقے پر گری تھی۔ بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ بھارت کی طرف سے ایک غیر مسلح ’سپر سونک فلائنگ آبجیکٹ‘ پاکستانی حدود میں داخل ہوا جس کی نشاندہی پاک فضائیہ کے مرکز (ایئر ڈیفنس آپریشنز سنٹر) نے کی۔ فضائیہ نے اس فلائنگ آبجیکٹ کی مکمل نگرانی کی اور اسے مار گرایا۔ بعد ازاں پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی فائیو ممالک کے نمائندگان کو وزارتِ خارجہ میں مدعو کر کے ساری صورتِ حال سے آگاہ کریں گے۔ ہمیں توقع ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے گی، بھارت کو اس حرکت کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جارحیت کے قائل نہیں لیکن دفاع ہم نے کل بھی کیا تھا اور آئندہ بھی کریں گے۔ بالاکوٹ میں جابہ کے مقام پر بھارت کی نام نہاد ’سرجیکل سٹرائیک‘ ہو یا بھارتی آبدوز کی پاکستانی سمندری حدود میں دخل اندازی، بھارتی ڈرونز کا معاملہ ہو یا سرحدی اشتعال انگیزی، پاکستان نے ہمیشہ تحمل اور بردباری سے کام لیا۔ مگر محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کا نان پروفیشنل ازم نہ صرف اس خطے بلکہ دنیا بھر کے امن کو داؤ پر لگا دے گا۔ اگرچہ بھارتی وزارتِ دفاع نے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے؛ تاہم اسے یہ کام پاکستان کے ساتھ اشتراکِ عمل سے کرنا چاہیے تاکہ واضح ہو سکے کہ واقعتاً یہ کوئی انسانی غلطی تھی یا سوچی سمجھی سازش۔ کیونکہ اس سے قبل فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے بھی بھارت جنگی جنون اور اشتعال انگیزی کو ہوا دے چکا ہے۔ بھار ت کا پھسپھسا وضاحتی بیان غیر واضح، مبہم اور ادھورا ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابل قبول بھی ہے۔ کیا بھارت کا میزائل اور ڈیفنس سسٹم ایسا ہی ناقص ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی سمت میں جدید سپر سانک میزائل فائر کر سکتا ہے؟ اگر بالفرض یہ میزائل کسی طیارے سے جا ٹکراتا یا اس کے ساتھ ایٹمی وارہیڈز بھی ہوتے تو؟ اس کا تو گمان بھی ناقابل تصور ہے۔ بھارت کی یہ ایک ’’غلطی‘‘ کسی بڑے فضائی حادثے کے علاوہ دو ایٹمی قوتوں کے مابین جنگ پر بھی منتج ہو سکتی تھی۔ یقینا پاکستانی فوج اور حکام کا تحمل آمیز ردّعمل قابل ستائش ہے مگر بھارت کو اپنے طرزِ عمل پر معافی مانگنے اور ہرجانہ ادا کرنے کے علاوہ اپنے عسکری نظام کو بھی فول پروف بنانا ہو گا تاکہ آئندہ اس کی جانب سے ایسی کسی حماقت کا اعادہ نہ ہو سکے۔

تبصرے بند ہیں.