عوام کے لیے کیا ہے

13

جب تک تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ نہیں ہو جاتا ہر کوئی اس حوالے سے گفتگو کرتا ہوا نظر آئیگا۔ لکھنے والے اسی ایک موضوع پر لکھیں گے کہ مجموعی طور سے ہم سب سیاست کے میدان میں اتر چکے ہیں، اپنے اپنے ہم خیال سیاستدانوں کے ساتھ۔ لہٰذا ہر دھڑا اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کامیابی کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اگرچہ ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے عوام کو ہمیشہ بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہے، مہنگائیوں اور ٹیکسوں کے شدید وار ان پر کرتے رہے ہیں مگر جب وہ الم و مصائب سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ لپک کر ان کے گرد حفاظتی حصار قائم کر دیتے ہیں مگر ان کے سیاسی رہنما انہیں مسلسل مایوس کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس وقت واضح طور سے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے کسی نہ کسی وجہ سے خفا اور سخت بیزار تھے، تحریک عدم اعتماد کے ہنگامے میں ان کے ساتھ کھڑے ہو چکے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ کون غلط ہے اور کون ٹھیک ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگلی پچھلی حکومتوں نے انہیں کیا دیا اور کیا نہیں دیا۔ اسی طرح کے سیاسی رجحان کی بنا پر ہی سنجیدہ سیاست کاری نہیں ہو رہی کیونکہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کو معلوم ہے کہ وہ جو بھی کریں جو بھی کہیں اسے آخر کار عوام بھول جاتے ہیں، نہ بھولیں گے تب بھی وہ کسی نہ کسی گروپ یا جماعت کا حصہ بننا ضروری خیال کرتے ہیں۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں نظر آ رہا ہے کہ کل تک جو عوام کی اکثریت سیاسی سر گرمیوں سے لا تعلق اور بیگانہ دکھائی دیتی تھی مگر عمران خان کو اقتدار کے تخت سے نیچے گرانے کی صدائیں بلند ہوتے ہی اپنے اپنے سیاسی رہنماؤں کی ہاں میں ہاں ملانے لگی ہے۔ اور وہ چہک چہک کر عوام عوام کا راگ الاپ رہے ہیں، وہ ان سے نعرے بھی لگوا رہے ہیں، ان کو اپنی کارکردگی سے متعلق بھی بتا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ خدمت کی وہ خدمت کی۔ معذرت کے ساتھ کوئی بھی جماعت یہ بتانے کو تیار نہیں کہ اس نے سرمائے کے کھیل میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے لیے کیا کیا طریقے اختیار کیے یعنی وہ امیر کیسے بنے؟ بہرحال گھمسان کی جنگ جاری ہے حزب اختلاف اور حزب اقتدار دونوں عوام کو اطمینان قلب کی فراہمی میں مصروف ہیں۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کون آتا ہے اور کون جاتا ہے مگر اتنا ضرور عرض کریں گے کہ جس نے ہم عوام کو درد دیا وہ اقتدار میں نہیں آنا چاہیے یا رہنا چاہیے۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ کس کے دور میں کس نے کتنا درد دیا اس کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی نیا سیاسی منظر نامہ ابھرنا چاہیے۔ یہ ہماری خواہش ہے مگر ایسی خواہش ماضی میں بھی کی گئی جو پوری نہ ہو سکی کہ کسی کمزور اور مظلوم کی سنتا کون ہے۔ عام آدمی کی یہاں دلجوئی کرتا کون ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا ہی ہو گا کیونکہ تگڑے سبھی ایک ہیں، انہیں لوگوں سے ہمدردی نہیں۔ اگر ہوتی تو آج ہمیں ایسے مالیاتی اداروں کا دست نگر نہ ہونا پڑتا سرمائے کی حفاظت کی جاتی، دیانت اور شرافت کو فروغ دیا جاتا۔ ملک میں خوشحالی لانے کے منصوبے بنتے۔ انصاف کے حصول کو آسان اور مفت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے مگر یہ سب نہیں ہو سکا لہٰذا بدحالی نے اپنے پر پھیلا لیے، غربت کے عفریت نے آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ نا انصافی خوفناک حد تک ہونے لگی، ردعمل کے طور پر سماج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا۔ احساس محرومی نے جنم لے لیا۔ کمزوروں کی بہو بیٹیاں محفوظ نہ رہیں ان کی جائیدادیں حریص نگاہوں میں آ گئیں۔ لوگوں میں غم و غصے کی لہریں ابھرنے کا آغاز ہو گیا۔ نفرت کے طوفان اُمڈتے ہوئے دیکھے جانے لگے مگر کسی نے بھی سماج کی اس حالت اور کیفیت بارے سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ اہل اختیار کبھی بھی اس بڑے بگاڑ کو سدھارنے کے لیے مل بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہوئے لہٰذا آج مسائل کا انبار لگ چکا ہے اس سے جان چھڑانا آسان نہیں۔ کوئی بھی ایک فرد ایک جماعت کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ چوہتر برس کی خرابیوں اور خامیوں کو یکسر ختم کر سکے، اس کے لیے سب کو متحد اور متفق ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ جو تحریک عدم اعتماد لائی گئی ہے اس سے کیا ہو گا کیا عوام کے دن پھر جائیں گے ایسا نہیں ہو گا وہ جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔
اس کامیابی سے فقط عمران خان گھر چلے جائیں گے جو خاصے جذباتی ہو چکے ہیں اور خود کو خطرناک بنانے پر تل گئے ہیں جبکہ انہیں تحمل اور بُردباری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ عوام کو نرم اور مہذب انداز میں صورتحال سے متعلق بتانا چاہیے یہ کوئی انوکھی بات نہیں حزب اختلاف کا یہ حق ہے کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا سکتی ہے، اس میں غلط کیا ہے۔ مگر اسے ان لوگوں کا سہارا نہیں لینا چاہیے جنہیں وہ گزرے کل میں حکومت کی پیسے کی مشینیں کہتی تھی، انہیں آٹا چینی چور بھی کہا گیا۔ اب وہ ان کے بغیر صورتحال کو دیکھتی ہے تو وہ (عوام) اس کی سنجیدہ سیاست کاری کو سراہیں گے مگر اس سیاسی آپا دھاپی میں اس کا کسے خیال ہو گا کیونکہ عمران خان ہی اس کا ہدف ہے لہٰذا وہ کچھ بھی ہو انہیں حکمران نہیں دیکھنا چاہتی۔
بہر کیف حزب اختلاف اپنی چالیں خوب چل رہی ہے مگرحزب اقتدار بھی خود کو محفوظ بنانے کی غرض سے سوچ بچار کر رہی ہے۔ عمران خان وزیراعظم گرج برس بھی رہے ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر جو بھی طریقہ اختیار کریں تحریک سے بچنے کا، انہیں اس کا پورا حق حاصل ہے۔ اسی طرح حزب اختلاف بھی آئین و قانون کے حد میں رہ کر جو بھی کرے اسے اس کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، یہ جو افراتفری ہے اسے نہیں ہونا چاہیے۔ ادھر بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس گرما گرمی میں اضافہ کر رکھا ہے اور وہ ’’کانپیں ٹانگ‘‘ کہہ کر دلوں کو دہلا رہے ہیں۔ اگر وہ بُرا نہ منائیں تو ذرا اپنے صوبے پر نظر دوڑائیں وہاں کے وڈیروں، جاگیرداروں اور سرداروں کے حلقوں میں موجود غریب عوام اور کمزور لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، انہیں اب تک کم از کم پچاس فیصد ہی سہی بنیادی حقوق دے دینا چاہئے تھے یا انہیں بنیادی سہولتیں دے دیتے۔ آئندہ پانچ دس برس میں دے دیں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
خیر سوال ہمارا یہ ہے کہ ایک فریق جو اقتدار میں رہنا چاہتا ہے اور دوسرا آنا چاہتا ہے کیا وہ درپیش مسائل کو ختم کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ کوئی بھی جاں بلب لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھ سکے گا۔ تو پھر دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو ہا ہا کار ہے کس لیے ہے؟ لہٰذا عرض ہے تو اتنی کہ سب اپنی اپنی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے عوامی مفاد کی خاطر اکٹھے ہو جائیں۔ ایک قومی حکومت کے قیام پر اتفاق کر لیں کیونکہ اسی میں ہماری خوشحالی کا راز پنہاں ہے۔ یہ جو باہم دست و گریبان کی فضا ہے اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا کیونکہ لہجوں کی تندی بتا رہی ہے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور پھر منظر بدل جائیں گے پس منظر بدل جائیں گے!

تبصرے بند ہیں.