اگرحکومت بچ گئی تو؟؟؟؟؟

38

سیاسست کاقومی کھیل شروع ہوچکاہے ، اس بار یہ کھیل انتہائی سنجیدگی سے کھیلا جارہااورایمپائربھی نیوٹرل ہے ،کسی بھی وقت کھیل کارزلٹ سامنے آسکتاہے،اس سیاسی کھیل میں متوقع نتائج ہمارے سامنے ہیں جس کے مطابق کسی بھی وقت قومی سیاست ایک نئے رخ کی جانب مڑ سکتی ہے مگریہ بہت مشکل مرحلہ ہے کیونکہ اس عمل سے وزیراعظم عمران خان کی سیاست ختم ہوجائے گی ،آس پاس کی ساری بیساکھیاں ختم متصورہوںگی،اورتحریک انصاف کیلئے ایک امتحان شروع ہوجائے گا،،پارٹی کاوجودخطرے میںپڑسکتاہے،کیونکہ غیرکے ٹانگے کی سواریاں کسی بھی وقت اپنی اصل منزل پراترسکتی ہیںجیساکہ حالیہ دنوں میںوزیراعظم کے مشیرندیم افضل چن اپنے اصل گھرمیںواپس آگئے،اسی طرح کئی سیاسی سواریاں ایسی ہیںجواپنے اپنے گھرمیں واپسی کیلئے راستے تلاش کررہی ہیں۔
عمران خان جس تیزی سے میدان سیاست میں آئے تھے ،اسی تیزی سے اپنے سیاسی زوال کی طرف بڑھ رہے ہیںکیونکہ انہوںنے قومی سیاسست کی بجائے انتقام کی سیاست کوفروغ دیا،اس لئے ان کے اختتام کایہی متوقع رزلٹ تھا،ماضی میںسابق وزیراعظم محمدنوازشریف نے سابق صدرجنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے انتقام کی سیاست شروع کی جس سے وہ نہ سنبھل سکے ،لیکن اس کے برعکس آصف علی زرداری نے دانشمندی سے کام لیا ،جس سے نہ صرف انہوںنے بطورصدراپنی مدت پوری کی بلکہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے بھی اپنے پانچ سال پورے کئے،سابق صدرآصف علی زرداری کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ذکاء اشرف کے یارغارہیں،راقم نے ایک بار ان کی رہائش گاہ میں شہیدمحترمہ بے نظیربھٹوکے پرویزمشرف اور چوہدری پرویزالٰہی سمیت دیگرکے بارے میںآخری خط کے مندرجات بارے استفسارکیا توانہوںنے کہاکہ انتقام بھٹوخاندان اورزردری خاندان میںاہمیت نہیں رکھتا، بلکہ ملک اہمیت رکھتاہے،عوام اہمیت رکھتے ہیں، جمہوریت اہمیت رکھتی ہے ،اس لئے ہم شخصیات سے انتقام لینے کی بجائے اس مخصوص سوچ سے انتقام لینے کیلئے میدان میںہیں،جوجمہوریت کونہیںچلنے دیتے، اوریہ چند ایک ہیں،یہی وجہ ہے کہ ہم نے ملک میںجمہوری استحکام کیلئے سابق صدرکوبیرون ملک جانے کی اجازت دی۔
پاکستان کاسیاسی کھیل دلچسپ مرحلہ میںداخل ہوچکاہے ، ’’کل کے ہیروآج کے زیرو ‘‘ہوچکے ہیں، لیکن اپوزیشن جماعتوںکے تینوںقائدین مسلم لیگ ن کے صدرشہبازشریف ،پیپلزپارٹی کے چیئرمین /سابق صدرآصف علی زرداری ا ورمولانا فضل الرحمان نے حکومت کو چندماہ کی محنت کے بعد ناکوں چنے چبوا دیئے،جس کی وجہ سے آج یہ وقت ہے کہ وہ وزیراعظم جوایم کیوایم،ق لیگ اورجی ڈی اے کولفٹ نہیںکراتاتھا آج کبھی ق لیگ کے درپرحاضری دیتاہے ،کبھی ایم کیوایم کے دفترحاضری دیتاہے،ایک وقت تھاکہ عمران خان ق لیگ اورایم کیوایم دونوںکی لیڈرشپ کوچور،ڈاکو ا ورقاتل قراردیتے تھے،چوہدری شجاعت حسین سروسزہسپتال داخل تھے ان کی خیریت پوچھنابھول جاتے تھے حالانکہ چوہدری شجاعت حسین کے ہسپتال میں ہونے کے دوران جی او آرمیںآتے اوراجلاس بھی کرتے تھے ،انہیںبتایابھی گیامگروہ ق لیگ کے روح رواںچوہدری شجاعت حسین کو Ignoreکرگئے ،مگرآج جھک کراورشرمسارہوکر ان کے درپرجاتے دکھائی دیتے ہیں،چوہدری برادران کوخوش کرنے کیلئے چوہدری مونس الٰہی سے سیاسی محبت دکھارہے ہیں،اسی طرح جہانگیرترین اوررعبدالعلیم خان جن کی محبت نفرت میںبدل گئی تھی ،اب ان کے پیچھے پیچھے ہیں،بڑے بز رگوں کے مطابق اسی کومکافات عمل کہتے ہیں،یعنی دوست دشمن سوچ کربنانے چاہئے،میرا مطلب مشیران ریاست مدینہ عمران خان کولے ڈوبے،عمران خان کی سیاست خطرے میںپڑ گئی،
عمران خان کی حکومت کے عروج وزوال کا حقیقت میںتجزیہ قانون فطرت کے عین مطابق ہے ،ایک وقت تھاکہ ق لیگ کی طرح تحریک انصاف کی ٹکٹ سیاسی میدان میں بلیک میں نہیںملتی تھی مگر اگلے عام انتخابات کیلئے اب کی بارسیاسی ونڈو پر امیدوار مشکل کا شکارہیں کہ کیا کریں ؟؟؟عمران خان کی سیاسی کشتی خطرناک بھنور میںپھنس چکی ہے ،اور انہیں پھنسانے میں اپوزیشن لیڈرزنے اچھی Moveکی ہے،میںپہلے بھی متعدد بارلکھ چکاہوںکہ پیپلزپارٹی کے پی ڈی ایم کوخیربادکہنے کے باوجود شہبازشریف واحد ایسے قومی رہنما تھے جوسب کوایک Page پرلاسکتے تھے ا ورپھرایسا ہی ہوا،اورپھروزیراعظم عمران خان اورشیخ رشید احمدکے تمام Pagesپرپانی پھرگیا،،،اب صرف ایک ہی National Pageسامنے آیاہے جس پرنعرہ Go Imran Go درج ہے۔
عمران خان تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد اپنی آخری سیاسی بازی کھیلنے کیلئے قانونی مشیران سے رابطے میںہیں،سوچ وچارجاری ہے،مارچ کامہینہ اہم ہے،اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کیTiming بہت سوچ سمجھ کررکھی گئی ہے جس میںایک طرف حکومت تحریک عدم اعتمادپرپھنسی ہوگی اوردوسری طرف وزیراعظم عالمی رہنمائوں کے استقبال کیلئے پھنسے ہونگے ،اورپھر23مارچ کوپی ڈی ایم لانگ مارچ کرے گی ۔
آخرمیںایجنڈہ ہے کہ اگرتحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھرسپیکرقومی اسمبلی اسد قیضر، پھر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزداراورآخرمیںسپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی باری آئے گی ،لیکن یہ ترتیب تحریک عدم اعتماد کی کامیابی پرمنحصرہے ،پنجاب میںسیاسی طوررپرن لیگ کوجہانگیرترین اورعبدالعلیم خان کوزارت اعلیٰ آفرکر دینی چاہئے کیونکہ حالات بہت نازک مرحلہ سے گذررہے ہیں،جہانگیرترین کاتونہیںمگرمجھے ابھی عبدالعلیم خان پرشک ہے کہ وہ کبھی بھی ادھر ادھر ہوسکتے ہیں،ا س لئے اپوزیشن کوسیاسی ڈیل کوفائنل کرلیناچاہئے۔اس سے نہ صرف چوہدریوںکی سیاست کوشدید دھچگا لگے گا بلکہ تحریک انصاف کو پنجاب سے کلین سویپ کرنے کاموقعہ ملے گا ،،،،، آخرمیں یہ بات ضرورکرونگاکہ ہرمعاملہ میںIf & but ہمیشہ رہتے ہیں ،اگرحکومت بچ گئی تو کیاہوگا؟؟؟ اس پربھی سوچئے !!!!

تبصرے بند ہیں.