تبدیلی کا کچھ بھرم تو رہنے دیں!

30

کچھ روز پہلے تک ہم مکمل طورپر اِس یقین میں مبتلا تھے وزیراعظم خان صاحب بڑے مضبوط اعصاب کے مالک ہیں، جس طرح وہ بار بار عوام کو یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں ’’بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘‘ اُسی طرح خواہ کتنی بھی مشکلات خواہ وہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی کا شکار ہوتے ہوئے وہ نظر آئیں، وہ خودبھی نہیں گھبرائیں گے‘‘…پرپچھلے کچھ عرصے سے جس قسم کے اُن کے اقدامات ہیں، جس قسم کی اُن کی سیاست ہے، خصوصاً جس قسم کی اُن کی گفتگو ہے، اُس سے تو رتی بھر یہ شک نہیں رہا دوسروں کونہ گھبرانے کا درس دینے والے اب خود اتنے گھبرائے ہوئے ہیں کہ گھبراہٹ کے اِس عالم میں اُن سے ہر اُس حماقت کی توقع کی جاسکتی ہے جس کا نقصان بالآخر ملک کو ہی ہوگا، اُن کی زندگی کا اول وآخر مقصد شاید وزیراعظم بننا تھا، سو وہ بن گئے۔ اب مزید دس بار بھی وہ وزیراعظم بن جائیں، اُس کے بعد اُن کے نام کے ساتھ ’’ سابق وزیراعظم ‘‘ہی لگے گا، ویسے گزشتہ چاربرسوں میں جو اُن کی پرفارمنس ہے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں اُن کی زندگی کا اول وآخر مقصد وزیراعظم بننانہیں بلکہ وزیراعظم بن کر کچھ نہ کرنا تھا، وہ شاید کسی کو یہ یقین دہانی کرواکے آئے تھے ’’میں نے وزیراعظم بن کے کچھ نہیں کرنا، جوکچھ کرنا ہے آپ نے کرنا ہے‘‘…سو اب جو کچھ وہ کررہے ہیں، اُمید ہے خان صاحب اِس کا بُرا نہیں منائیں گے، اپنی خیر منائیں گے، عوام کو سوائے مہنگائی، کرپشن ،بدامنی ،بدیانتی اور تقریباً ہر شعبے میں تباہی کے کچھ حاصل نہیں ہوسکا، ہمارے عوام بے چارے اتنے بدقسمت ہیں اور اپنے بے شمار اعمال کی وجہ سے وہ اِس بدقسمتی کے مستحق بھی ہیں کہ اپنے حکمرانوں کے حوالے سے وہ ہمیشہ ’’پھولوں‘‘ کی آرزو کرتے ہیں، اُن کی آنکھ میں ’’موتیا‘‘ اُترآتا ہے جیسے اطہر شاہ خان کا شعر ہے ’’ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی …آنکھ میں موتیا اُتر آیا‘‘…پہلے زرداری کی صورت میں ’’کالا موتیا ‘‘ اُترا پھر سفید اُترے… خان صاحب کو قدرت نے وزیراعظم تو بنادیا مگر وہ قدرت کے اِس فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوئے۔ اپنے کسی طرزعمل سے اُنہوں نے کبھی یہ ثابت نہیں کیا وہ وزیراعظم ہیں، ہم تو اُن کی پہلی تقریر سے ہی مایوس ہوگئے تھے جب وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھانے کے فوراً بعد اُنہوں نے فرمایا تھا’’ہم ’’پبلک ٹائیلٹس ‘‘ کی حالت بہتر کریں گے‘‘…بندہ پوچھے جو باتیں ایک کونسلر یاایک میونسپل افسر کے سوچنے کی ہیں وہ آپ کیوں سوچتے ہیں؟ کیا وزیراعظم کا کام یہی رہ گیا ہے وہ پبلک ٹائیلٹس ٹھیک کرے؟ اور وہ بھی نہیں ہوئے، بلکہ مزید خراب ہوگئے،…اللہ انسان کو جب اُس کی اوقات سے یا اُس کی اہلیت سے بڑھ کر نوازتا ہے اُس کے بعد اگر اُس میں عاجزی نہیں آئی، دوسروں کو معاف کرنے کا یا دوسروں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو درگزر کرنے کا جذبہ نہیں آتا، دوسروں سے بدلہ لینے کی یا انتقام لینے کی فطرت مزید بڑھ جاتی ہے، اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے قدرت نے وہ عہدہ اُسے کسی انعام کے طورپر نہیں آزمائش کے طورپر بخشا ہے، یہ دیکھنے کے لیے کہ اُس پر تعینات ہونے کے بعد وہ گند ڈالتا ہے یا اپنی اصلاح کرتا ہے؟؟؟ یا اُس عہدے کے حصول کے بعدوہ کس قسم کے ظرف کا مظاہرہ کرتا ہے؟۔ خان صاحب نے تقریباً ہرمعاملے میں جتنی کم ظرفیوں کے مظاہرے کیے اُس کا ملک کو جو نقصان ہوا، وہ تو ہوا، ذاتی طورپر اُن کو اِس کا نقصان یہ ہوا اُن کے کئی مخلص ساتھی اُن سے دُور ہوگئے، جنہیں ایک بار پھر اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی اِن دنوں وہ بھرپور کوشش میں ہیں، مگر اب کے بار اِس کوشش میں اُن کی کامیابی کی زیادہ توقع اِس لیے نہیں اُن کے قریبی لوگوں پر اُن کی فطرت مکمل طورپر آشکار ہوگئی ہے، اور یہ حقیقت بھی آشکار ہوگئی ہے ’’فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی‘‘ اب مزید کسی دھوکے کا شکار ہونے کے لیے وہ تیارنہیں ہیں، جہانگیر ترین اور علیم خان کو منانے کی ہرکوشش فی الحال ناکام ہی ہورہی ہے،…جس جہانگیر ترین کے بارے میں اُن کی حکومت یا اُن کی پارٹی نے یہ تاثر دیا وہ کرپٹ ہے یا اُنہوں نے عمران خان کی حکومت سے ناجائز فائدے اُٹھائے ہیں، اب کس منہ سے اُسی جہانگیر ترین کو وہ فون کررہے ہیں ؟ جہانگیر ترین کوئی آج بیمار ہوا ہے؟ جو خان صاحب کے ’’ٹائوٹ‘‘ یہ فرمارہے ہیں کہ اُنہوں نے تو جہانگیر ترین کی عیادت کرنے کے لیے اُنہیں کال کی تھی‘‘…جس علیم خان کو اپنے مقاصد کے لیے تقریباً جہانگیر ترین جتنا ہی اُنہوں نے استعمال کیا، اقتدار میں آنے سے پہلے ہی نہیں اقتدار میںآنے کے بعد بھی …اب کس کردار یا کس منہ سے اُسی علیم خان کو منانے کے لیے اپنے گورنروں کو اُن کے پاس وہ بھیج رہے ہیں؟، میرے خیال میں یہ وہی کردار اور وہی منہ ہے جس سے چودھریوں کو وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو اور شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی نہ رکھنے کی بات وہ کرتے تھے …علیم خان جیسا دریا دل اور اعلیٰ ظرف انسان شاید ہی اُن کی پارٹی میں کوئی ہوگا، بجائے اِس کے اُن کی وہ قدرکرتے اُنہیں ٹھکانے لگانے کا ہربندوبست وہ فرماتے رہے ،علیم خان کا تو کچھ نہیں بگڑا، وزیراعظم خان صاحب کے حوالے سے البتہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوگیا، یا یہ حقیقت مزید کھل کر سامنے آگئی کہ وہ انتہائی بے دید، بدلحاظ، بے مروت، طوطا چشم اور لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے بھرپور استعمال کرکے پھینک دینے والے اللہ جانے کیا ہیں ، انسان تو کم ازکم ایسے نہیں ہوسکتے، خصوصاً وہ انسان تو بالکل ایسا نہیں ہوسکتا جو باتیں ہروقت ریاست مدینہ کی کرے اور اُس کے اکثر اعمال اُس کے برعکس ہوں، …اُن کے اپنے اعمال کے ساتھ ساتھ اُن کی ٹیم کے جو اخلاقی معاملات ہیں، وفاقی کابینہ میں جس جس قماش کے لوگوں کواُنہوں نے بھرتی کررکھا ہے، وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں ریاست مدینہ کی باتیں اُنہیں زیب دیتی ہیں ؟، اُن کے مدمقابل جو سیاستدان ہیں اُن کی اکثریت یقیناً کرپٹ ہوگی، مگر اِس حوالے سے اُنہیں خان صاحب پر فوقیت حاصل ہے مختلف اقسام کی گندگیوں کے مظاہرے کم ازکم ریاست مدینہ کے نعرے کی آڑ میں اُنہوں نے نہیں کیے، … خان صاحب اس وقت سیاسی و حکومتی طورپر بظاہر کمزور دکھائی دے رہے ہیں، یہ وقت اُن کے اعمال پر جارحانہ تنقید کا نہیں، اُن کے کچھ اچھے کاموں کی تعریف کا ہے۔ کم ازکم میری یہ فطرت نہیں کوئی حکمران جو بظاہر کمزور ہوتا ہوا، گرتا ہوا دکھائی دے میں قلم لے کر اُس کے پیچھے پڑ جائوں ۔پر میں کیا کروں خان صاحب اپنی کچھ حرکتوں سے مجھے اِس پر مجبور کردیتے ہیں !!

تبصرے بند ہیں.