گالی نہیں رواداری اور برداشت

23

تحریکِ عدمِ اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے اپوزیشن نے اجلاس بلانے کی قرارداد جمع کرائی ہے جس پر ابھی فیصلہ ہونا ہے قرین قیاس یہی ہے کہ چوبیس مارچ تک صورتحال واضح ہو جائے گی لیکن سیاسی منظر نامہ ہیجان انگیز ہو نے سے ملک میں بے یقینی کی فضا بڑھ رہی ہے جس سے حکومتی صفوں میں موجوداعتماد ختم ہونے کے ساتھ ریاستی رٹ بھی متاثر ہوئی ہے لیکن بحران کو ختم یا کم کرنے کے لیے کوئی خاص کوشش کرنے کے بجائے غیرسنجیدگی کا تاثرہے حالانکہ عدمِ اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے سے ملک کا سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ہوسکتا ہے ناکامی کی صورت میں بھی رٹ کی بحالی میں وقت لگے گا انجام کا ر عام انتخابات ناممکن نہیں اِس طرح فتح اور شکست کا فیصلہ کرنے کا اختیار ایک بارپھر عوام کے پاس چلاجائے گا۔
اپوزیشن حلقوں کے مطابق ایک ہفتہ قبل تحریکِ عدمِ اعتماد کا مسودہ تیار کیاگیا جس میں کہا گیا ہے کہ ملک اقتصادی زبوں حالی کا شکارہے لیکن معاشی بحرانوں سے نکلنے کاحکومت کے پاس کوئی واضح روڈ میپ نہیں خارجہ پالیسی کی ناکامی، سیاسی عدمِ استحکام اور بے یقینی کوبھی جواز بناتے ہوئے کہاگیا ہے کہ قائدِ ایوان اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں لہذاگُڈ گورننس کے لیے موجودہ حکومت کو ہٹانا ضروری ہو گیا ہے پی پی ،ن لیگ،جمعیت علمائے اسلام ،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گرو پ اورعوامی نیشنل پارٹی کے اراکین نے مسودے پر دستخط کیے ہیں جن کی تعداد سوکے لگ بھگ ہے قومی اسمبلی ہو یا پنجاب کی صوبائی اسمبلی،حکومتی اور اپوزیشن بینچوں میں کچھ زیادہ فرق نہیںحکومتی جماعت میں تشکیل پانے والے گروپوں اور اتحادیوں کو ساتھ ملا کر تحریک کو کامیاب بنانا کوئی مشکل نہیںمگر ملک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے دوران بے یقینی کی یہ فضا کسی طور ملک کے لیے سودمند نہیں لیکن حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے جس سے سیاسی تلخی کم نہیں ہو رہی اب تو سنجیدہ عناصربھی مایوس ہوکرافہام و تفہیم کی راہ نکالنے کے بجائے لاتعلقی ہوچکے ہیں ویسے بھی سیاسی تلخی کم کرنے کی زیادہ ذمہ داری حکومتی حلقوں کی ہے مگر وہ ایوانوں کی لڑائی جلسے ،ریلیوں اور مظاہروں تک لے گئے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ کہیں ملک میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال مزیدخراب نہ ہو جائے کیونکہ ماضی میں جب بھی اقتدار کی جنگ شروع ہوئی اور ایوانوں کی لڑائی نے جلسے جلوسوںاور سڑکوں پر جلائو گھیرائو کی صورت اختیارکی تو غیر جمہوری قوتوں کو آگے آنے کا موقع ملا عدمِ اعتماد کی موجودہ تحریک غیر جمہوری نہیں بلکہ اقتدار کی تبدیلی کا پُرامن راستہ ہے مگر ملک میں جس قسم کی غیرجمہوری فضا بنادی گئی ہے یہ لائق تحسین نہیں۔
ناقص حکومتی کارکردگی سے اگر قائدِ ایوان اکثریت کے اعتماد سے محروم ہو جائیں تو حزبِ اختلاف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کوبحرانوں سے نکالنے کے لیے آگے آکر تبدیلی کا جمہوری راستہ اپنائے عدمِ اعتماد پیش کرنا انہونی توہے نہیںلیکن فیصلہ ہونے سے پہلے ہی حکومتی بزرجمہروں کے ہاتھ پائوں پھول چکے ہیں میلسی
کے عوامی اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے جو لب و لہجہ اختیار کیا اُس کی کسی صورت حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی جنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنانے کا بل پیش کرنے اور پانچ سو ارب کا ترقیاتی پیکیج دینے کا اعلان اچھی بات ہے ہر حکمران کی پہلی ترجیح عوام کو ریلیف دینا ہوتا ہے کرپٹ عناصر کے خلاف خون کے آخری قطرے تک جنگ کرنے کا علان بھی غلط نہیں مگریہ کہنا کہ اپوزیشن کی عدمِ اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کو تیار ہوں اور اِس کی ناکامی کے بعد جو میں اُن کے ساتھ کروں گا وہ بھی اِس کے لیے تیار رہیںیہ دھمکی آمیز لہجہ کسی جمہوری حکمران کو زیب نہیں دیتا جمہوریت میں لڑائی جھگڑے ،مارپیٹ اور خون خرابے کے بجائے جب انتقالِ اقتدار کے پُرامن راستے موجود ہیں تو غیر جمہوری راستے پر چلنے ،حریفوں کو دیوارسے لگانے اور اقتدار بچانے کے لیے خونریزی کو دعوت دینا کہاں کی حُب الوطنی اور دانشمندی ہے؟۔
پی پی کا لانگ مارچ اسلام آبادکی طرف رواں دواں ہے جگہ جگہ خطاب کرتے ہوئے لاہور پہنچ کر بلاول بھٹو کے موقف میںلچک آگئی ہے انھوں نے حکومت کے خلاف عدمِ اعتماد کوایک مشکل ہدف کہتے ہوئے کامیابی کی سوفیصد گارنٹی دینے سے انکار کیا ہے اِس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن اب بھی تلخیاں بڑھانے سے محتاط ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ جب حریف سیاستدانوں کو بیماری ،فضلواور چوروڈاکو کہا جائے گا تو کیا کوئی دستِ تعاون بڑھا نے پر آمادہ ہوگا؟ظاہر ہے کسی کے لیے ایسے حالات میں تعاون کرنابہت مشکل ہے اسی لب ولہجے کی وجہ سے ملک کو برداشت،عدم برداشت،اعتماد اور بداعتمادی جیسے حالات کا سامنا ہے ایسے ہی حالات مزید عرصہ رہے تو ملک کی معاشی حالت زیادہ خراب ہوسکتی ہے عوام کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کا اولیں فرض حکمرانوں کا ہے انھیں اپنے رویے میں رواداری اوربرداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا ایک جمہوری قرارداد کا سامنا جمہوری انداز میں کرنے کے بجائے سڑکوں اور چوراہوں پر لانا تلخی کوفروغ دینے کے مترادف ہے ۔
عدمِ اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کے بارے ابھی وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ اپوزیشن کی صفوں میں بھی اختلافِ رائے ڈھکی چُھپی نہیں مگرحکومتی جماعت میں بھی سب اچھا نہیں بلکہ سب سے بُری صورتحال حکومتی جماعت کی ہے جہاں پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کی تبدیلی کی خواہش لیکر کئی ایک گروپ معرضِ وجودمیں آچکے ہیں جہانگیرترین کے بعد علیم خان کا الگ گروپ بنانااورپھر یکجا ہوکر عثمان بزدارپر تحفظات کا اظہار کرنے سے حکومتی مشکلات میں ہی اضافہ ہوگا گورنر سندھ عمران اسماعیل منانے البتہ لاہور پہنچ گئے ہیں مگر پنجاب حکومت سے مایوس لوگوں کو مطمئن ہونا مشکل ہدف ہے کیونکہ عثمان بزدارکے خلاف حکومتی جماعت کے گروپ بدستور مورچہ زن ہیں ویسے بھی جولوگ وزیرِ اعظم کی بات سُننے سے گریزاں ہیں وہ عمران اسماعیل کے کہنے پرمطالبات سے سرنڈر نہیں کرسکتے اپنی صفوں میں اتحادو اتفاق کی فضا بنانے کا طریقہ کار حکومتی جماعت نے ہی بنانا ہے علاوہ ازیں حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے بھی اب توواشگاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ عمران خان جلد بڑے فیصلے کر یں حالات تیزی سے اُن کے ہاتھ سے نکل رہے ہیں پھر بھی عثمان بزدار پر دستِ شفقت رکھا جاتا ہے تو حکمران جماعت کو کسی بڑے سانحے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔
ممکن ہے عدمِ اعتماد کے بجائے اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ تک محدود رہتیں مگر ا پنے ساتھیوں کو نظر انداز کرنے اور اتحادیوں سے بے رُخی نے سڑکوں اور چوراہوں پر جانے سے قبل ایوانوں میں طاقت کامظاہرہ کرنے کی راہ دکھائی ہے ن لیگ اور ق لیگ کی قیادت کو اسی رویے نے ایک میز پر لا بٹھایا جہانگیر ترین کے بعد علیم خاںنے بھی مسلسل نظراندا ز کرنے پر ہی گروپ تشکیل دیا جواب میں جس طرح اپنے ناراض اراکین سے عمران خان نے ملاقاتیں شروع کی ہیں اگر پہلے ہی سب سے عزت سے پیش آتے تو موجودہ حالات سے صورتحال یکسر مختلف ہوتی لیکن خطرات کا سنجیدگی سے سامنا کرنے کے بجائے گرجنے اور برسنے کی روش پر چلنے سے بگاڑ نے جنم لیااگر خود اعتمادی کی وجہ یہ ہے کہ شہاز شریف ،آصف زرداری اور فضل الرحمٰن کسی ایک طریقہ کار پر متفق نہیں تو حکمران جماعت میں کونسا اتحاد واتفاق کی مثالی فضا ہے ؟ ملک کورواداری اور برداشت کی ضرورت ہے ٹکرائو کی نہیں۔

تبصرے بند ہیں.