تحریک عدم اعتماد…کامیابی کے امکانات؟

79

وزیر اعظم جناب عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی جو باز گشت پچھلے کئی ہفتوں بلکہ کئی مہینوں سے سنائی دے رہی تھی، لگتا ہے اب یہ حقیقت کا روپ دھارنے والی ہے۔ پچھلے چند دنوں میں اس بارے میں کافی پیش رفت سامنے آچکی ہے۔ ان سطور کی اشاعت تک امکان یہی ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے بارے میں ریکوزیشن اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے جیسے عملی اقدامات کئے جا چکے ہونگے ۔ہمارے آئین میں وزیر اعظم جو قائد ایوان کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے ایوان میں اکثریتی ووٹ لے کراپنا منصب سنبھالتے ہیں، ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرکے انہیں اپنے منصب سے ہٹانے کا آپشن موجود ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں جب چاہیں اس آپشن کو استعمال کر سکتی ہیں۔ لیکن اس کے ضروری تقاضوں کو پورا کرنا اتنا آسان نہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاسی اور پارلیمانی تاریخ میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کم ہی مثالیں موجود ہیں ۔1989میں وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تھی لیکن وہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی۔ اس کے بعد اس صدی کے اوائل میں صدر پرویز مشرف کے دور میں وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی وہ بھی ناکامی سے دوچار ہوئی۔ خیر یہ ماضی کی باتیں ہیںاب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم جناب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتمادپیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ اس کا کیا نتیجہ سامنے آتا ہے کتنے ارکان اس کے حق میں ووٹ ڈالتے ہیں اور یہ کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے یا نہیں؟
دیکھا جائے تو اس وقت قومی اسمبلی کا ایوان 342ارکان پر مشتمل ہے اور اس کی نصف تعداد 171بنتی ہے۔ گویا وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتمادکی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے حق میں کم از کم 172ووٹ پڑیں۔ بظاہر اتنی تعد اد میں ارکان کا ایوان میں آکر تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ ڈالنا بذات خود ایک مشکل امر ہے جبکہ حکومت کے لیے کوئی ایسی پابندی نہیں کہ اس کے کتنے ارکان ایوان میں موجود ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ اس کے ساتھ یہ پہلو بھی اہم ہیں کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومتیں قائم ہیں جو قومی اسمبلی کے ارکان کی اسلا م آباد آمد کی راہ میں روڑے اٹکا سکتی ہیں اس ضمن میں وفاقی یا صوبائی خفیہ ایجنسیوں اور پولیس جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہیں کا کردار بھی اہمیت کا حامل سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ ایجنسیاں یا پولیس اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ارکان کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں ڈال سکتی ہیں تاکہ یہ ارکان تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے وقت قومی اسمبلی کے ایوان میں نہ پہنچ پائیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس طرح کے صورت حال سے نمٹنے کے لیے یقینا منصوبہ بندی کر رکھی ہوگی لیکن پھر بھی کچھ خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
خیر یہ بعد کی باتیں ہیں کہ ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا ہے ۔ اس وقت کی معروضی صورت حال کو سامنے رکھ کر جائزہ لیتے ہیں کہ حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی قومی اسمبلی کے ایوان میں کتنی کتنی تعداد ہے اور اپوزیشن حکومت کے مقابلے میں کم عددی تعداد رکھنے کے باوجود تحریک عدم اعتمادکی کامیابی کے لیے اگر پراُمید ہے تو اس  کے پاس اس کا کیا جواز ہے یا قومی اسمبلی کے کونسے ایسے ارکان ہے جن کا تعلق حکومتی اتحاد یا حکومتی جماعت سے ہے لیکن اس کے باوجود اپوزیشن کے راہنما ان کی حمایت اور تعاون پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔اس وقت قومی اسمبلی کے ایوان میں قائد ایوان وزیر اعظم جناب عمران خان کو 179یا 180ارکان ِ کی حمایت حاصل ہے جن کا تعلق حکومتی جماعت تحریک انصاف یا حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں سے ہے۔ اس کے مقابلے میں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی تعداد 162یا 163بنتی ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت کو اپوزیشن جماعتوں کے مقابلے میں 17یا 18ارکان کی برتری حاصل ہے ۔ اس معروضی صورت حال کو سامنے رکھیں تو اپوزیشن جماعتوں کو حکومتی برتری ختم کرنے کے لیے 9یا 10ارکان کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ کیا اپوزیشن جماعتیں 9یا 10یا اس سے کچھ زیادہ ارکان کی حمایت حاصل کرکے قومی اسمبلی کے ایوان میں حکومتی اکثریت کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں یا نہیں۔ گہرائی میں جا کر اس کا جائزہ لیا جائے یا جمع تفریق سے کام لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس کے روشن امکانات ہیں۔
یہ درست ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین جناب آصف علی زرداری ، مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر جناب شہباز شریف اور جمعیت علماء اسلام کے قائد اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں مسلم لیگ ق ، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی کے راہنمائوں سے ملاقاتیں کرکے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں بظاہر انہیں زیادہ کامیابی نہیں ملی ہے ۔ مسلم لیگ ق کے راہنمائوں چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے وزیر اعظم عمران خان نے بھی لاہور میں ان کے گھر میں جاکر ملاقات کی ہے۔جس کا یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ مسلم لیگ ق نے وزیر اعظم عمران خان کی بدستور حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔  اسی طرح کا جواب حکومتی اتحاد میں شامل دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم کے راہنمائوں کی طرف سے بھی اپوزیشن راہنمائوں کو ملا ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کی طرف سے بھی اپوزیشن کو کھل کر حمایت کی یقین دہانی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن قائدین حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے ووٹ اپنے حق میں یعنی تحریک عدم اعتماد کے حق میں لینے کی یقین دہانی حاصل کرنے میں بظاہر کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ اس طرح یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپوزیشن قائدین جن میں جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان ، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور ان کے دوسرے ساتھی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور رانا ثناء اللہ وغیرہ اگر تحریک عدم اعتمادکی کامیابی کے بارے میں پر امید ہی نہیں ہیں بلکہ اس کی کامیابی کے دعوے بھی کر رہے ہیں تو اس کا ان کے پاس کیا جواز یا کیا بنیاد ہو سکتی ہے۔
بات بڑی واضح اور روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپوزیشن راہنمائوں کے تحریک عدم اعتمادکی کامیابی کے بارے میں پر امید ہونے کی دو بڑی بنیادیں یا وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتمادکے حق میں مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے ووٹوں پر انحصار نہیں کر رہے ہیں بلکہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے حکومت سے ناراض ارکان ِ قومی اسمبلی جن میں جہانگیر ترین گروپ  کے ارکان بھی شامل ہیں کے ووٹوں پر انحصار کر رہے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کے کم از کم 16ارکان نے آئند ہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کی یقین دہانی ، 6ارکان نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کی یقین دہانی اور 2ارکان نے جمعیت علماء اسلام کے ٹکٹ کی یقین دہانی پر تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ ڈالنے پر رضامندی کا اظہارکر رکھا ہے ۔اپوزیشن راہنمائوں کے لیے تحریک عدم اعتمادکی کامیابی کی دوسری بڑی بنیادی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مقتدر حلقوں کی طرف سے انہیں اس پورے عمل میں غیر جانبدار رہنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔ اور اس کے ثبوت کے طور پر خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کو پیش کیا جا رہا ہے۔
تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اس امر کا اظہار کرنا ایسا بے جا نہیں ہوگا کہ اس کے حوالے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان بھی چپقلش اور کش مکش کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ ایک قومی معاصر میں "گھاتیں اور وارداتیں ” کے عنوان سے چھپنے والے اپنے کالم میں ایک سینئر، معتبر اور باخبر صحافی نے پنڈی اور اسلام آباد کے مقتدر حلقوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف ممکنہ گھاتوں اور وارداتوں کے کچھ خدشات اور خطرات کا اظہار کیا ہے ، اللہ نہ کرے کہ کوئی ایسی بات ہونے پائے ورنہ اس طرح کا کوئی معاملہ ملک و قوم کے مفاد میں زہر قاتل سے بھی بڑھ کر ضرر رساں ہو گا۔

تبصرے بند ہیں.