مدینہ کی ریاست کا مطلب نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے: وزیر اعظم

5

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مدینہ کی ریاست نے کئی سو سال دنیا کی امامت کی ، مدینہ کی ریاست کا مطلب قانون کی بالادستی ہے ۔ مدینہ کی ریاست کا مطلب نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے ۔

 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انسانیت کا درد رکھنے والا ہی فلاحی کام کرسکتا ہے ۔ بہترین کام کرنے پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم ریاست مدینہ کے راستے پر چل رہے ہیں ، محروم طبقوں کی فلاح و بہود ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ معاشرے میں انسانیت کا نظام لانا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔

 

عمران خان نے مزید کہا کہ کورونا کے باعث دنیا میں تباہی آئی ، کورونا کے دوران لاک ڈاؤن سے غریب طبقے کے پاس پیسہ نہیں تھا ، غریب طبقے کو کورونا کے دوران 12 ہزار ورپے سے مدد کی گئی ۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کے دوران کاروبار بند ہونے سے دنیا میں غریبوں کو تکلیف ہوئی ، عوام کو وبا سے بچانے میں پاکستان پہلے 3 ممالک میں سے ہے ۔

 

انہوں نے کہا کہ کورونا کے باوجود ہماری معیشت تیزی سے آگے جا رہی ہے ۔ آج ٹیکس کلیکشن ریکارڈ سطح پر ہے ۔ ٹیکس اہداف بڑھنے سے ہم لوگوں پر پیسہ خرچ کرتے رہیں گے ۔

 

عمران خان نے کہا کہ حکومت نے احساس پروگرام کا 98 فیصد پیسہ خواتین کو دیا ، ورلڈ بینک نے بھی احساس پروگرام کو سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم و تربیت کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ جب تک خواتین تعلیم یافتہ نہیں ہوں گی ملک آگے نہیں جا سکتا ۔

 

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان اب بھی دنیا میں سستا ترین ملک ہے ۔ پاکستان میں ابھی بھی پٹرول اور ڈیزل سستا دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آٹا ، گھی اور دالوں پر لوگوں کو 30 فیصد رعایت ملے گی ۔ ہم نے مہنگائی کو روکنے کیلئے بہت بڑی سبسڈی دی ، چاہتے ہیں مہنگائی کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے ۔ مافیاز کے خلاف ہم بڑی جنگ لڑ رہے ہیں ۔

 

 

 

 

تبصرے بند ہیں.