تحریک عدم اعتماد کا مخمصہ

17

تازہ ترین صورتِ حال کے مطابق یہ سوال زیرِ بحث نہیں رہا کہ اپوزیشن پارٹیاں حکومت کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد لائیں گی یا نہیں، جبکہ سوال یہ سامنے آن کھڑا ہوا ہے کہ اِس کے نتائج کیا ہوں گے۔ چنانچہ اپوزیشن کی جانب سے  یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے سربراہان تحریک عدم اعتماد کی مفروضہ کامیابی کے بعد کی صورت حال کے حوالے سے ایک نکتے پر متفق ہو گئے ہیں اور اپوزیشن کے سیاسی کیمپ میں اسے ایک بڑی پیش رفت کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب یہ کہا جا رہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر لی ہے۔ تادم تحریر یہ ریکوزیشن آگے بڑھائی نہیں گئی؛ تاہم شنید یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے دفتر کو اس حوالے سے الرٹ کر دیا گیا ہے اور اجلاس بلانے کی درخواست کسی بھی وقت سپیکر کو بھیجی جا سکتی ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بدھ کو جو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔ لہٰذا اب اگر اپوزیشن لیڈروں کے دعووں اور بیانات پر چلیں تو ہر آنے والا دن تحریک عدم اعتماد کے جھنجٹ کے لیے اہم ہونا چاہیے۔ ممکن ہے اس دورانیے میں مختصر کمی بیشی ہو مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ معاملہ منطقی انجام کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ کیا اپوزیشن وہ کر دکھاتی ہے جس کے دعوے کیے جا رہے ہیں، اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ کسی امکانی صورت کے پیش نظر کوئی رائے قائم کی جا سکتی تھی، مگر اپوزیشن جماعتوں کا ماضی گواہ ہے کہ یہ تیر کسی بھی سمت کو نکل سکتا ہے۔ بہرحال حکومت کا اعتماد اور بے اعتمادی بھی عجب زیر و بم پیدا کر رہی ہے۔ اس صورت حال کا انجام جو بھی ہو اس سے قطع نظر اس کا یہ فائدہ تو ہوا کہ حکومت کو عوام کی جانب رجوع کرنے کا خیال آ گیا۔ اگرچہ بجلی اور گیس، دو ہی چیزوں کے نرخوں میں کمی کی گئی ہے مگر یہ بھی غنیمت ہے کہ عوام ایک عرصے سے حکومت کی جانب سے کسی رُو رعایت سے ناامید ہو چکے تھے۔ وزیراعظم صاحب نے اس حسن سلوک کو زیادہ ٹیکسوں کی وصولی کا صلہ قرار دیا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو یہ اور بھی اچھی بات ہے۔ اصولی طور پر ایسا ہونا چاہیے کہ عوام کے ٹیکسوں کا روپیہ ان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو۔ دنیا بھر میں ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے روپے کے ساتھ یہی تصور وابستہ ہے اور حکومتیں اسے عوام کی امانت تصور کرتے ہوئے اس کے خرچ میں بڑی ذمہ داری سے کام لیتی ہیں؛ البتہ ہمارے ہاں ایسا رجحان نہیں، عوام کا پیسہ حکومتوں کی دست برد میں ہوتا ہے اور وہ جیسے چاہیں خرچ کرتی ہیں کوئی سوال نہیں کر سکتا، کرے بھی تو اس کی اہمیت کوئی نہیں۔ اس رویے نے ہمارے ہاں ٹیکس کلچر کو پنپنے نہیں دیا کیونکہ حکومتیں خود
کو عوامی ٹیکس کے روپے کی امانت دار ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔ تاہم اب وزیراعظم عمران خان نے تیل اور بجلی کے ریلیف کو ٹیکس کی وصولیوں کا ضمنی نتیجہ قرار دے کر عوام کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ ان کا دیا ہوا مال انہی کو لَوٹ رہا ہے۔ صرف تیل اور بجلی کی مد میں نہیں تعلیم اور صحت کی مد میں بھی اور انسانی ترقی کی مد میں بھی ایسا نظر آنا چاہیے۔ اسی سے عوام کا اعتماد بحال ہو گا مگر اپوزیشن کا دھڑا اس ریلیف کو اپنی تحریک کا نتیجہ قرار دے رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما جو سندھ سے ایک قافلے کی قیادت کرتے ہوئے منزلیں مارتے، اسلام آباد کی طرف بڑھے چلے آتے ہیں، یہ کہنے میں اس حد تک حق بجانب بھی ہیں کہ حکومت نے قیمتوں میں کمی کے یہ فیصلے اس وقت کیے جب یہ عوامی مارچ سندھ سے روانہ ہو رہا ہے۔ اگر حکومت کا مقصد وہ نہیں بھی تھا جو اپوزیشن رہنما سمجھ رہے ہیں تو اس ٹائمنگ سے تاثر بہرحال یہی گیا ہے۔ اب یہ مارچ پنجاب کی حدود میں داخل ہو چکا ہے اور وسطی پنجاب میں پیپلز پارٹی کی روایتی مقبولیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اچھے جلسے کر سکیں گے۔ پیپلز پارٹی کے اس کاروان کو تحریک عدم اعتماد کے لائحہ عمل میں اپوزیشن کی پیش رفت کی خبروں سے تقویت مل رہی ہے۔ اپوزیشن اپنی گنتی پر مطمئن ہونے کا تاثر دے رہی ہے مگر اس صورت حال کو اپوزیشن کی کامیابی کے بجائے حکومت کی ناکامی قرار دینا چاہیے کیونکہ عوامی اعتماد کی جس سطح پر موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا، اگر اس کا نصف بھی برقرار رکھ لیا جاتا تو اپوزیشن کی جماعتیں حکومت کے لیے کوئی چیلنج پیدا کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوتیں۔ آج اگر اپوزیشن کا بے جوڑ اتحاد اس حکومت کے خلاف یک مشت دکھائی دے رہا ہے تو ایسا صرف حکومتی ناکامی اور معاملات کو صحیح طرح سے ہینڈل نہ کر سکنے کا نتیجہ ہے۔ ملک کے نظام کو نئے مدار میں ڈالنے کے لیے جس توانائی کی ضرورت تھی حکمران وہ فراہم نہیں کر سکے۔ جن مسائل کا ذکر سنتے سنتے ساڑھے تین سال گزر گئے وہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ تیسری سیاسی قوت سے امید تھی کہ وہ ان کا حل عطا کرے گی مگر وہ محض مسائل گنوانے اور انہیں بڑھانے میں مصروف رہی۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیے ان حالات نے نرم زمین کا کام کرنا ہی تھا۔ اگرچہ اپوزیشن اپنے داخلی مسائل اور اختلاف رائے کی وجہ سے امکانی حد تک اس صورت حال کا درست استعمال نہیں کر سکی مگر پھر بھی حکومت کے لیے ان کا ایکا معمولی نہیں؛ چنانچہ حکومت اگر گھبرائی ہوئی ہے تو یہ بے جا نہیں، مگر دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے دعووں کا کیا بنتا ہے اور اسے کس قدر کامیابی ملتی ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ کامیابی کے بعد کا منظر کیا ہو گا؟ داخلی سیاسی حرکیات اپنی جگہ مگر ہم ان حالات میں عالمی سیاسی صورت حال سے بھی بے خبر نہیں رہ سکتے۔ ہمیں یہ جان کر چلنا ہو گا کہ عدم اعتماد کا بکھیڑا ان حالات میں پڑا ہے جب دنیا واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ روس اور یوکرین کا تنازع بتدریج پھیلتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات وسیع تر ہو چکے ہیں۔ ہم اگر صرف توانائی کی قیمتوں کو پیمانہ مان لیں تو یہ ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ مزید کتنی اوپر جائیں گی، اس کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس تنازع کا کب، کیسے اور کیا انجام ہو گا مگر یہ دکھائی دیتا ہے کہ اس کے بعد دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی؛ چنانچہ خطے کا اہم ترین ملک ہونے کے ناتے ان حالات میں پاکستان کی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ مگر ہمارا داخلی سیاسی کھچاؤ ان ذمہ داریوں پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ ان خصوصی حساسیت سے لبریز ایام میں کیا ہمارے لیے سیاسی تھیٹر لگانا ضروری تھا؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے سیاسی رہنما ملکی، علاقائی اور عالمی حالات و واقعات سے مطابقت قائم رکھتے ہوئے چلنے کی قابلیت حاصل کرتے اور موقع محل کا لحاظ رکھتے۔

تبصرے بند ہیں.