عالمی یا ایٹمی جنگ ہوئی تو دنیا کے کون سے مقامات محفوظ ہونگے؟ جانیے

224

 

لاہور: روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے  دنیا میں تیسری جنگ عظیم اور ایٹمی جنگ کے  خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔تاہم اگر ایسا ہوا تو دنیا بھر میں محض چند مقامات ہونگے جو محفوظ رہ پائیں گے۔

 

یوکرین پر حملے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جوہری ڈیٹرنٹ فورسز کو بھی الرٹ رہنے کے احکامات دئیے تھے جبکہ  روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے بھی ایک سے زائد بار تیسری اور جوہری عالمی جنگ کے امکان سے خبردار کیا جس کے بعد  دنیا پر خوف کے سائے منڈلانے لگے کیونکہ اگر حقیقت میں ایسا ہوا تو بہت کم مقامات ہونگے جہاں انسان محفوظ رہ پائے گا۔

 

ماہرین  کے مطابق  جوہری جنگ کا خاتمہ ہمیشہ انسانیت کے خاتمے پر ہی ہوتا ہے ، روس اور یوکرین کی موجودہ صورتحال اور عالمی جنگ کے خدشات کے پیش نظر  ماہرین نے ایسے چند مقامات کی نشاندہی کی ہے جو ایٹمی جنگ سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ  اگر کسی کے پاس موقع اور وقت موجود ہے  تو فوری انٹارکٹیکا نکل جائے کیونکہ ایٹمی جنگ کے اثرات سے بچنے کے لیے انٹارکٹیکا محفوظ ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

روسیوں نے بنکر بنانے میں دیگر قوتوں پر سبقت لے لی ہے،  روسی خفیہ پناہ گاہوں کو بھی  ایٹمی جنگ کی صورت میں محفوظ ترین تصور کیا جا سکتا ہے، یہ خفیہ پناہ گاہیں  تمام ضروریات سے آراستہ ہیں تاہم ان کا حصول صرف انتہائی امیر افراد کیلئے ہی ممکن ہے۔

آسٹریلیا کے شہر ’پرتھ‘ کو بھی  جوہری جنگ کی صورتحال میں محفوظ مقام قرار دیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ 1959 میں ہونیوالا ایک معاہدہ ہے جو اس مقام پر طے پایا تھا جس کا مقصد تمام جوہری ہتھیاروں کے دھماکوں پر پابندی لگانا تھا۔ اسی لیے اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی جنگ یا جوہری جنگ کی صورت میں آسٹریلوی شہر  پرتھ  انسانوں کیلئے محفوظ مقام ہو گا۔

 

علاوہ ازیں ارخبیل کریباتی جزائر یا مارشل جزائر کو  بھی ماہرین محفوظ مانتے ہیں۔ تاہم  عالمی جنگ یا جوہری جنگ سے متعلق تمام تر خدشات کے باوجود روس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کیلئے سخت شرائط اور معیارات کی پابندی کرتا ہے اس لیے اس طرح کی کوئی جنگ چھڑنے کا کوئی امکان نہیں جو انسانیت کے خاتمے کا سبب بن جائے۔

تبصرے بند ہیں.