عدم اعتماد : جیتنے والا ہارے گا!

23

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اقتدار کی جنگ کا فائنل راؤنڈ ہے۔ اس وقت پوری قوم سانس روکے کھڑی ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔ ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کے دروازے والا ماحول ہے جس میں لواحقین کو بتایا جاتا ہے کہ اگلے چند گھنٹے بڑے اہم ہیں۔ اس وقت مہنگائی cost of living یا جینے کی قیمت یا دیگر سلگتے مسائل مسئلہ نہیں مسئلہ یہ ہے کہ اگلا حکمران کون ہو گا، کیا حکومت مدت پوری کر پائے گی، کیا نیا الیکشن ہو گا یا باقی ماندہ مدت کے لیے کوئی عبوری سیٹ اپ ہو گا۔
حکومت جس رفتار سے عوام میں غیر مقبول ہو رہی ہے ان کے لیے محفوظ راستہ یہ تھا کہ یہ اقتدار سے خود ہی دست بردار ہوجاتے کیونکہ اگر یہ ایک سال اور گزار گئے تو ملک مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گا لیکن وزیر اعظم کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں سب اچھا ہے کی رپورٹ دینے والے مشیران سے غلط حکمت عملی اختیار کرا رہے ہیں ایک تو وہ اپنے اتحادی ق لیگ کے ساتھ خاصے مہنگے داموں حمایت کا وعدہ کر چکے میں مگر یہ ان کے اقتدارکے دوام کی ضمانت پھر بھی نہیں ہے ۔
ہمیں پاکستا ن کی جمہوریت پر حیرت ہوتی ہے کہ کئی ہفتوں تک ق لیگ پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے مذاکرات اور ملاتاتیں کرتی رہی حالانکہ وہ حکومت میں تھے یہ ق لیگ کے لیے نہایت غیر اخلاقی اور غیر جمہوری رویہ تھا۔ ملاقاتوں کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ہمیں کسی طرف سے زیادہ منافع بخش پیشکش ہورہی ہے۔ جب انہیں اپوزیشن کی جانب سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہوئی تو حکومت فوری طور پر حرکت میں آئی اور انہیں وزیراعظم کی طرف سے بتایا گیا کہ آپ اپنے 10 ووٹ لے دیں تو ہم آپ کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دے دیں گے جس کے بعد ق لیگ نے اپنا وزن حکومت کے پلڑے میں ڈالنے کا اعلان کر دیا ہے
حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت کے ناراض گروپ یعنی جہانگیر ترین گروپ کے پاس ق لیگ سے زیادہ نمبر ہیں مگر اس فیصلہ کن مرحلے پر انہیں میڈیا سے آف ایئر کر دیا گیا ہے آخری خبریں آنے تک جب ترین نے بیماری کا بہانہ بنا کر لندن جانے کا اعلان کیا تو حکومت کو فکر لاحق ہوئی کہ وہ وہاں نواز شریف سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں اس کا فوری ردعمل یہ ہوا کہ عمران خان نے جہانگیر ترین کو فون کر کے بظاہر ان کی صحت دریافت کی اور منت ترلا کیا کہ وہ یہ سب کچھ نہ کریں اس کے بعد سے اب تک جہانگیر ترین کی خبریں خاموش ہو چکی ہیں۔ ق لیگ کی 10 سیٹوں کا چرچا ہے مگر ان کے 30 سے زیادہ ووٹ ابھی تک اندھیرے میں ہیں۔ ترین صاحب نے بھی ق لیگ کی طرح دونوں طرف سے کوٹیشن لی ہے اور جانا اس طرف ہے جہاں سے زیادہ فائدے کی امید ہے۔ ق لیگ اگر اخلاقی سیاست کرتے تو وہ ن لیگ سے آفر لیے بغیر اور ملاقات کیے بغیر حکومت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھتے مگر انہوں نے تو سودا بیچنے کی حد کر دی یہ ہوتی ہے ٹریڈنگ۔
ہم نے سنا ہے کہ لاہور میں 10 سال سے زیادہ وقفے کے بعد اس سال ہارس اینڈ کیٹل شو ہونے جارہا ہے جس میں ریس جتنے والے گھوڑوں اور زیادہ دودھ دینے والی گائے اور بھینسوں پر انعامات کی بارش ہوتی ہے اور ان کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اس سے پہلے جو ہارس اینڈ کیٹل شو سیاست کے میدان میں شہر اقتدار میں لگنے جارہا ہے وہ اور فورٹریس سٹیڈیم کو پیچھے چھوڑ دے گا۔
عدم اعتماد کے کامیابی اور نا کامی سے قطع نظر یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ حکمران جماعت کے بہت سے ارکان ان کے خلاف ووٹ دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ۔ یہ ممبران تین قسم کے ہیں ایک تو وہ ہیں جو برملا پارٹی سے نا را ض ہیں جیسے فیصل آباد کے راجہ ریاض، جن کے بارے میں پارٹی کو پتہ ہے کہ یہ ووٹ ہمارے خلاف دیں گے۔
دوسرے وہ ہیں جو پارٹی سے ناراض اور دل برداشتہ ہیں کیونکہ پارٹی نے انہیں باقیوں کی طرح نہیں نوازا۔ ایک تیسری اور خطرناک قسم وہ ہے جو ہوا کا رخ دیکھ کر ن لیگ میں جانا چاہتے ہیں جن کو پتہ ہے کہ وہ پارٹی کی غیر مقبولیت کی وجہ سے اگلا الیکشن حکومتی پارٹی میں رہ کر نہیں جیت سکتے اس کے علاوہ ایک چوتھی قسم وہ ہے جو Electable ہیں پیسے کے زور پر جس پارٹی کی طرف سے کھڑے ہوں جیت جائیں گے ۔مثلاً فیصل آباد سے ایم این اے نصر اللہ گھمن پیپلزپارٹی ق لیگ ن لیگ اور آخری بار تحریک انصاف سے گویا ہر پارٹی ٹکٹ پر جیت چکے ہیں وہ رہتے لاہور میں ہیں صرف الیکشن لڑنے فیصل آباد جاتے ہیں اور جیت کر واپس آ جاتے ہیں ہر پارٹی ان کے ڈونیشن کی محتاج ہے پتہ نہیں ان کے پاس کیا جادو ہے نہ وہ کوئی سیاسی بیان دیتے ہیں نہ کسی ٹاک شو اور میڈیا پر آتے ہیں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے پی ٹی آئی چھوڑ کر ن لیگ میں جانے کا خفیہ فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ صرف بطور ایک مثال ہے اس طرح کے اور لوگ بھی ہیں سیٹ جیتنے کے لیے کسی پارٹی ٹکٹ کے محتاج نہیں ہوتے۔
وزیراعظم پاکستان کی باڈی لینگوئج ان کی گھبراہٹ کا پتہ دے رہی ہے۔ ان کے مشیران واویلا کر رہے ہیں لیکن اندر کا حال کافی تشویشناک ہے جس وزیراعظم نے پندرہ دن پہلے اوگرا کی 8 روپے پٹرول اضافے کی سمری پر 12 روپے اضافہ کیا تھا آخر وہ کیا حالات تھے کہ وہ پٹرول میں 10 روپے کمی کیلئے آمادہ  ہو گئے۔ نہ صرف آمادہ ہوئے بلکہ جون تک قیمت نہ بڑھانے کا بھی وعدہ کیا جو ایک ناممکن بات ہے کیونکہ پٹرول عالمی سطح پر اب 117 ڈالر تک جا چکا ہے۔ جب 97 ڈالر پر تھا تو وزیراعظم نے 160 روپے لٹر ریٹ مقرر کیا تھا۔ یہ عقل تسلیم کرنے سے قاصر ہے کہ یہ اتنی بڑی رقم کہاں سے آئے گی اور حد یہ ہے کہ 10 روپے کمی کے باوجود بھی قوم پھر بھی زخم خوردہ ہے کیونکہ پٹرول تو صرف ایک آئٹم ہے باقی روز مرہ کا کیا بنے گا۔
یہ عالم یہ بت خانۂ چشم و گوش
جہاں زندگی ہے فقط خور و نوش
جتنی غیر یقینی افراتفری اور عدم استحکام اس عدم اعتماد کی وجہ سے پھیلا ہوا ہے اس سے ملک کی معاشی صورت حال اور زیادہ دگر گوں ہو گی اور ملک اور زیادہ نیچے چلا جائے گا۔ اس سے بہتر تھا کہ وزیراعظم استعفیٰ دے کرنئے انتخابات کا اعلان کر دیتے۔ اگر اپوزیشن کو ایک سال کے باقی ماندہ عرصہ کے لیے اقتدار مل گیا تو اس سے موجودہ حالات سے کہیں زیادہ طوائف الملوکی کا دور دورہ ہو گا۔ جو انہیں 2023 ء کے الیکشن تک PTI کے گناہ اپنے سر لینے کا باعث بنے گا یہ ایک ایسا بند ڈبہ ہے جس میں سے ہر ایک کے لیے بربادی کا کچھ نہ کچھ سامان موجود ہے۔
آج کی کہانی کا اختتام جو بھی ہو
صبح کے دریچوں میں رات ہونے والی ہے
چاند کو ستاروں سے
مات ہونے والی ہے۔

تبصرے بند ہیں.