اپوزیشن ،احتجاج اور ریلیف

15

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی، ناکامی کیلئے حکومت اور اپوزیشن نے لنگر لنگوٹ کس لئے ہیں،وزیر اعظم عمران خان خود بھی کیل کانٹے سے لیس ہو کر میدان میں اتر آئے ہیں،عوام کو بجلی اور پٹرول پر ملنے والا ریلیف بھی اسی تحریک عدم اعتماد کا شاخسانہ ہے اگر چہ یہ آئندہ الیکشن میں عوام کی عدالت میں سرخرو ہونے کا بھی ایک ذریعہ ہو گا،عدم اعتماد تحریک کی کامیابی اور ناکامی کی کوششوں میں چودھری پرویز الٰہی خصوصی اہمیت اختیار کر گئے ،اپوزیشن نے عدم اعتماد تحریک کی کامیابی میں تعاون کی شرط پر متعدد بار ق لیگ کو وزارت اعلیٰ پنجاب کی پیشکش کی مگر جواب ملا، کہ ہم تحریک انصاف کے اتحادی ہیں اور عمران خان حکومت گرانے کی کسی گیم کا حصہ نہیں بنیں گے،مونس الٰہی نے بھی اپوزیشن کو واضح الفاظ میں باور کرایا کہ عوام نے عمران خان کو پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے اور ہم عوام کے مینڈیٹ کا احترام کریں گے،اپوزیشن کی چال کے جواب میں حکومتی ذمہ داروں کی طرف سے بھی  چودھری  پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ  دینے کی  خبریں سامنے آئی ہیں مگر اب تک چودھری خاندان کی طرف سے اس حوالے سے تصدیق یا تائید نہیں کی گئی،چودھری خاندان کے اصولی مؤقف اور صاف انکار کے باعث اپوزیشن کی قیادت تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے پہلے خود ہی اعتماد کھو چکی ہے،شائد یہی وجہ ہے کہ اب تک تحریک عدم اعتماد لانے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا،شہباز شریف ایک مرتبہ پھر آصف زرداری کو اس تجویز سے پیچھے ہٹنے کا مشورہ دے رہے ہیں،ان کے مطابق ابھی نمبر گیم ان کے حق میں نہیں،ویسے وہ شروع سے ہی ارکان کی مطلوبہ تعداد میسر آنے پر تحریک لانے کے حامی تھے،خیال ہے کہ وزیر اعظم کے بجائے اب پہلے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی راہ ہموار کی جائے گی،آصف زرداری نے دو مرتبہ چودھری ہائوس کی یاترا کی،شہباز شریف طویل مدت بعد چودھری برادران سے ملے،خبر ہے ایک مرتبہ پھر وہ عنقریب چودھریوں کو منانے کیلئے چودھری شجاعت پرویز الٰہی سے ملاقات کو جانے والے ہیں،فضل الرحمن نے بھی اس حوالے سے اپنی سی کوشش کی،اور آخر میں وزیر اعظم عمران خان خود چودھری ہائوس گئے،اس موقع پر چودھری برادران نے وزیر اعظم کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا،چودھری برادران کا جم کر اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنا تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کا اعلان ہے۔
سیاسی ماہرین تحریک عدم اعتماد سے بہت سی امیدیں لگائے بیٹھے تھے،ان کے خیال میں کراچی سے شروع پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ سے سیاسی درجہ حرارت میں تیزی آئیگی مگر لانگ مارچ کو چلے آج چھ روز گزر چکے ہیں مگر سیاسی ہلچل دکھائی نہیں دیتی،فضل الرحمن اور ن لیگ کے لانگ مارچ اور دھرنے کا انجام بھی اس سے مختلف دکھائی نہیں دیتا،اس کی بنیادی وجہ یہ کہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی طویل دور اقتدار (صفحہ 4پر بقیہ نمبر1)
میں عوام کو مایوس کیا اور اب بھی شور شرابے کے سوا اپوزیشن کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا کوئی پروگرام نہیں ہے،بلکہ اپوزیشن کے طرز سیاست کے باعث عوام کا جمہوریت اور انتخابات سے اعتماد بھی اٹھتا جا رہاہے،اگر چہ تحریک انصاف حکومت بھی عوام کی امید پر پوری نہیں اتری،انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدے بھی ادھورے ہی ہیں،مگر وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم خاص طور پر وزیر اعلیٰ
پنجاب عثمان بزدار کی مخلصانہ کوششوں اور عملی اقدامات سے عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور مل رہا ہے،حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے مہنگائی کے باعث عوامی مشکلات کا احساس کیا اور بجلی کے ٹیرف میں پانچ روپے اورپٹرول کی قیمت میں دس روپے لٹر کمی کا اعلان کیا ہے اور یہ ایسے وقت میں کیا گیا جب دنیا بھر میں یوکرائین روس جنگ کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے،کووڈ19کی وجہ سے بھی عالمی معیشت خاص طور پر ترقی پذیر اور غریب ممالک کی معیشت دبائو میں ہے،ایسے میں عوام کو ریلیف وقت کی ضرورت کیساتھ خود حکومت کی بھی ضرورت تھی،ان حالات میں جبکہ ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری کا طوفان ہے عوام سکھ کا سانس لینے کے خواہش مند تھے،وزیر اعظم نے یہ ریلیف دیکر مہنگائی  کے سامنے بھی دیوار کھڑی کر دی ہے۔
اگر چہ دیا گیا ریلیف اطمینان بخش ہے مگر عوام جس طویل عرصے سے جس قدر مسائل سے دوچار تھے اور جن مشکلات سے نجات کیلئے عوام نے تحریک انصاف کو الیکشن میں حق حکمرانی دیا تھا وہ مسائل و مشکلات اب بھی سر اٹھائے کھڑی ہیں اور عوا م مزید ریلیف کے خواہش مند ہیں،اس لئے مزید اور ثمر بار اقدام کی فوری ضرورت ہے،گڈ گورننس کا خواب بھی ابھی تعبیر سے محروم ہے،جو وقت کی اشد ضرورت ہے،حکومت بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے نوجوانوں کو قرض کی سہولت فراہم کر رہی ہے مگر اس سے مستفید افراد کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے،کسانوں کو بھی فصل کی کاشت کیلئے کھاد بیج ادویہ ،زرعی آلات کیلئے آسان قرض دئیے جا رہے ہیں،جس کے نتیجے میں اس مرتبہ نہ صرف ریکارڈ پیداوار ہوئی،بلکہ کسانوں کو اربوں کا فائدہ بھی ہوا مگر زرعی شعبہ کے بنیادی مسائل اب بھی اپنی جگہ ہیں،صنعت خاص طور پر سمال اور میڈیم صنعت اور گھریلو انڈسٹری انتہائی مصائب سے دوچار ہے،خام مال کی فراہمی میں درپیش مشکلات،سمگلنگ کے باعث مارکیٹ میں غیر فطری مسابقت،ٹیکس نظام میں طوالت اور پیچیدگی کے باعث چھوٹی صنعت کی ترقی کی رفتار انتہائی سست ہے،بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے گھریلو اور چھوٹی صنعت کو بحال کرنا نا گزیر ہے اور اس کیلئے فوری نوعیت کے اقدامات کا اعلان کرنے سے ہی عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے اور ریلیف دینے تک عوام سے کوئی امید رکھنا حماقت ہو گی،عوام کی اکثریت ،اب تک اپوزیشن کے احتجاج لانگ مارچ اور دھرنوں سے الگ تھلگ  ہے لیکن اگر حالات ایسے ہی رہے تو عوام کو حکومت مخالف احتجاج میں شامل کرنا مشکل یا نا ممکن نہیں ہو گا،اگر عوام نے اپوزیشن کی پکار پر لبیک کہہ دیا تو پھر حکومت کی مشکلات قابو سے باہر ہو سکتی ہیں،اب تک معاملہ کنٹرول میں ہے مگر تادیر عوام کے سونامی کو قابو میں نہیں رکھا جا سکتا۔
اپوزیشن نے چودھری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ پنجاب دینے کی بات اگر چہ حکومت دشمنی میں کی ورنہ ایسی کسی پیشکش کی امید نہ تھی،اگر چہ یہ پیشکش بھی زرداری کے اقدام اور تجویز پر دی گئی،مگر یہ تجویز نظر انداز نہیں کی جاسکتی، چودھری پرویز الٰہی ایک تجربہ کار آزمودہ اور قابل قبول شخصیت ہیں،سیاسی حلقوں میں چودھری خاندان کی اپنی ایک شناخت ہے وزیر اعلیٰ کی پگ ان کے سر رکھنے کی تجویز جن کی تھی اس کے پس پردہ محرکات وہ جانیں مگر سنجیدہ اور پیچیدہ سیاسی حالات میں چودھری پرویز الٰہی کو شریک مشورہ رکھنے سے بھی مسائل و مشکلات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.