رحمان کی عطا

19

ہم سب مسلمانوں کا ایمان ہے اورسورۃ العنکبوت، آیت 57,56میں ارشاد ربانی ہے، اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، میری زمین وسیع ہے، پس تم میری ہی بندگی بجالائو، ہرمتنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے پھرتم سب ہماری طرف ہی پلٹ کر لائے جائو گے، جولوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو ہم جنت کی بلندوبالاعمارتوں میں رکھیں گے، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے کیا ہی عمدہ اجر ہے، نیک عمل کرنے والوں کیلئے ۔قارئین کرام، ہرمسلمان ہی نہیں، ہرانسان اور ہرجاندار، انسان وحیوان سے لے کر چرند، پرند، اور ہرطیورنے بحکم خدا ، اللہ کے حضور بعدازقبور پیش ہونا ہے یہ متذکرہ بالا سطور مجھے میرے مربی وہمدم دیرینہ دوست جناب عطا الرحمن صاحب کے واصل بحق کی اطلاع ملی، تو بادل نخواستہ میرے منہ سے ’’الحمدللہ ‘‘ نکلا، وہ اس لیے کہ وہ اس دنیائے دنی کو چھوڑ کر مقیم فردوس بریں ہوگئے ہیں، میرا عطا صاحب سے تعلق چند سالوں سے نہیں، چند دہائیوں پہ محیط ہے، پہلے میری ان سے واجبی سی سلام ودعا تھی، مگر بعد میں جناب ارشاد احمد عارف نے ان سے ایسا تعارف کرایا کہ جو بمطابق حدیث ؐ بڑھتے بڑھتے خاندانی مراسم تک پہنچ گیا، اور وہ اکثر میرے گھر بھی تشریف لاتے تھے، اللہ تعالیٰ کی مصلحت کاملہ سے انسان بے بہرہ ہوتے ہیں، مرحوم کی بیگم صاحبہ، بھی نہایت زیرک اور جہاندیدہ شخصیت ہیں، ان کی چھ بیٹیاں ہیں، اور ماشاء اللہ تمام کی تمام زیور تعلیم اور تربیت والدین سے مکمل مرصع ہیں اور ہرایک نے ماسٹر ڈگری لی ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ بیٹیوں کو ’’آداب فرزندگی ‘‘سکھانے کے بعد کبھی اُنہیں ’’فرزند‘‘ کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، اور ان کے دامادوں نے ان کو کبھی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا، عطا صاحب انتہائی سادہ، محتاط ، دوراندیش اور قابل اعتماد شخصیت تھے، جب سے وہ اپنے اسلاف کی ہجرت کے بعد واضح رہے، کہ اس ہجرت کی بات میں پنجاب ہی کی کررہا ہوں، جب وہ اچھرے میں منتقل ہوئے تو وہ تاوقت مرگ وہیں مقیم رہے، حالانکہ ان کے مکان کی قیمت کروڑوں میں ہے جہاں کمرشل زمین انچوں اور فٹوں میں بکتی ہے، اور دوستوں احباب اور رشتہ داروں کی طرف سے بار بار مطالبات کے باوجود انہوں نے اچھرہ چھوڑنے سے انکار کردیا، حالانکہ وہ ایسا کرکے لاہور کی سب سے مہنگی سے مہنگی جگہ پر گھر ہی نہیں، کوٹھی اور بنگلہ بناسکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا کرنا مناسب نہیں سمجھا، مرحوم ذیابیطس کے کافی عرصے سے مریض تھے مجھے پتہ تب چلا، جب میں ان سے ملنے گیا اور میں ساتھ ان کے لیے ’’برفی‘‘ لے گیا، تو انہوں نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ میرانی صاحب مجھے تو شوگر ہے اور میرے لیے چائے منگوائی اور پھر بھی تھوڑی سی برفی بھی لی، مگر دوسری طرف جہاں تک میں نے دیکھا ہے وہ زیادہ نہیں کھاتے تھے، مگر اس کا خیال نہیں رکھتے تھے کہ شوگر کا مریض بیکری کی اشیاء کھانے کو ترجیح نہ دے، مگر ان کی میز کی دراز میں ہمیشہ بسکٹ، کیک وغیرہ پڑے ہوتے تھے ان سے ملنے والوں کی تعداد ابتداء میں تو بہت زیادہ ہوتی تھی اور اخلاقی طورپر وہ ان کا ساتھ دیتے تھے۔
چونکہ میرا ان سے تعلق خاصا دوستانہ تھا تو میں نے قدرے سختی سے کہا کہ وہ اپنا خیال کریں، تو وہ ہنس پڑتے، عطا صاحب چونکہ نہایت سنجیدہ اور متین بردبار اور یاروں کے یارتھے، قارئین آپ سن کر شاید حیران ہوں کہ وہ کبھی کبھار میرے ساتھ لطیفوں کا تبادلہ بھی کرلیا کرتے تھے، اور انتہائی اہم معاملات پر بھی مجھ سے میری رائے ضرور طلب کیا کرتے تھے اور میرے لیے یہ بھی اعزاز ہے کہ وہ مجھے اکثر کہتے تھے کہ میرانی صاحب مجھے آپ کی تحریریں بہت پسند ہیں ۔نوائے وقت میں، ارشاد احمد عارف صاحب، مرحوم عطا الرحمان اور میں چونکہ اکٹھے ہوتے تھے اور ہرجمعے کی شام کو ارشاد احمد عارف پرل کانٹی نینٹل میں صحافیوں کی بزم سخن سجاتے تھے، مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ سلسلہ ابھی بھی الحمد للہ جاری وساری ہے حتیٰ کہ یہ تسلسل ماہ رمضان المبارک میں افطاری کی محفل میں سج کر ذریعہ ثواب بن جاتا ہے۔
اس محفل بزم سخن میں جناب عطا الرحمان کو خصوصی اہمیت اس لیے حاصل تھی کہ انہیں مختلف زبانوںپر عبور حاصل تھا، اور وہ خاص طورپر میاں نواز شریف کے ساتھ مختلف ممالک کے دورے پر ان کے ہمراہی ہوتے تھے، قارئین ایک بات آپ نے ضرور دیکھی ہوگی کہ وہ ایسے راست باز اور باضمیر شخص تھے، کہ اگر ان کی ہمدردی مسلم لیگ ن کے ساتھ تھی، تو وہ علانیہ اس کا اظہار کرتے تھے اسی طرح چونکہ اچھرے میں رہنے کی وجہ سے وہ امت مسلمہ کے نامور صاحب تفسیر قرآن، جن کے حوالے سے علماء بھی اپنی تقاریر سجاتے ہیں، عطا الرحمن صاحب، جناب مولانا مودودی سے خاص طورپر متاثرتھے، اور ان کے شاگرد خاص کا درجہ رکھتے تھے اور تادم مرگ ان کا جماعت اسلامی کے رہنمائوں سے انتہائی برادرانہ تعلق تھا، چونکہ راقم بھی کسی خصوصی مسلک سے اس لیے منسلک نہیں کہ تمام طریقہ ہائے عبادات وریاضت خالق کائنات کل سے قرب اور قریب ہونے کے طریقے ہیں، کیا ہاتھ باندھ کرنماز ہوسکتی ہے اور ہاتھ چھوٹ کر نہیں ہوسکتی، اور کیا ہاتھ سینے پہ رکھ کر ہوسکتی ہے، تو ناف پر رکھنے سے کیوں نہیں ہوسکتی، بہرکیف عطا صاحب کی بیٹی کی شادی پہ جماعت اسلامی کے سربراہ ضرور شرکت کرتے تھے، انہوں نے جماعت کے سربراہ جناب سراج الحق سے اپنی بیٹی کی شادی پر خصوصی ملاقات کرائی تھی مرحوم ہروقت پاکستان ہی نہیں، دوسرے مسلمان ممالک کی زبوں حالی پہ ہمیشہ کڑھتے رہتے تھے، اس کی مثال یہ ہے کہ وہ بستر مرگ پر بھی اپنے روزنامے کیلئے لکھتے رہے، ان کے اس درد ، کسک اور کرب کا اظہار میں مجدد نعت جناب حفیظ تائب ؒ کے بقول بتانے کی سعادت حاصل کرتا ہوں ۔
اک نیا کرب میرے دل میں جنم لیتا ہے
قافلہ درد کا کچھ دیر جو دم لیتا ہے!
رنگ پاتا ہے مرے خون جگر سے گل شغر
سبزہ فکر میری آنکھ سے نم لیتا ہے !
(جاری ہے)

تبصرے بند ہیں.