تاریک عدم اعتماد!

46

تقریباً اڑھائی ماہ میں تیرہ ملکوں کی ’’آوارہ گردی‘‘ کے بعد وطن واپس آیا ہوں میرا خیال تھا، ہماری سیاست کی گندگی میں شاید کچھ کمی واقع ہوگئی ہوگی، افسوس اس میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ ہمارے ہاں حکمرانی گندگی اورسیاسی گندگی کو ایک جیسا درجہ حاصل ہے، جو گندگی ہماری سیاست میں ہے وہی ہماری حکمرانی میں ہے، خان صاحب کو ہم بڑی جدوجہد کرکے اِس لیے اقتدار میں لائے تھے وہ جنم جنم کی دومیلی سیاسی جماعتوں سے ہماری جان کچھ اِس طرح چھڑوادیں گے ایسے زبردست کام کریں گے اِن دو سیاسی جماعتوں کا نام ونشان تک مٹ جائے گا۔ افسوس ایسا نہیں ہوسکا، اور اب اقتدار کی چسکوری یہ دونوں سیاسی جماعتیں یا بزبان خان صاحب ’’چوروڈاکو‘‘ واپس اقتدار میں آتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں، یا اِس کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں تو اِس کا کریڈٹ خیر سے ہمارے محترم خان صاحب کو بھی جاتا ہے، جو فرماتے تھے ’’وہ سودنوں میں اِس ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہادیں گے‘‘، یہاں جو پانی کی نہریں بہہ رہی تھیں اُن میں اتنی گندگی ہے وہ اب نہریں کم ’’چھپڑ‘‘ زیادہ دکھائی دیتی ہیں،… اقتدار کی چسکوری دونوں سیاسی جماعتیں جب بھی اقتدار میں آئیں اُس کا کریڈٹ لوگوں نے اپنی اسٹیبلشمنٹ کو دیا، اِس بار یہ ’’سانحہ‘‘ اگر ہوا اِس کا کریڈٹ سیدھا سیدھا خان صاحب کی طرز حکمرانی کو دیا جائے گا۔ سو ہم ہاتھ باندھ کر اُن کی خدمت میں استدعا کرتے ہیں، التجا کرتے ہیں اقتدار کا باقی عرصہ اُن کے پاس جو رہ گیا ہے اپنا طرز حکمرانی بدلیں، اگلے الیکشن میں ووٹ اُنہیں اِس بنیاد پر نہیں پڑنے کہ پانچ برسوں میں وہ تواتر کے ساتھ سابقہ حکمرانوں کو چورڈاکو چورڈاکو کہتے رہے، اِس عمل کا کوئی فائدہ ملک کو نہیں ہوا، ایک پیسہ اِن چوروں وڈاکوئوں سے برآمد نہیں ہوسکا، اُلٹا اُن کے کیسز میں سرکار کا مزیدپیسہ برباد ہوگیا ، اور کئی چوروڈاکواُن کی اپنی جماعت میں بھی پیدا ہوگئے، اِس میں کوئی شک نہیں خان صاحب ذاتی طورپر کرپٹ نہیں ہیں، اُنہیں یہ انفرادیت بھی حاصل ہے دوران اقتدار اُن کے اثاثوں میں کمی تو شاید ہوئی ہوگی اضافہ نہیں ہوا، کوئی فیکٹری کوئی مِل اُنہوں نے نہیں لگائی، سوہم کسی لحاظ سے اُنہیں مالی طورپر کرپٹ قرار نہیں دے سکتے، البتہ اُنہیں ’’ایماندار‘‘ قرار نہیں دیا جاسکتا۔’’ایمان‘‘ کے معنی بڑے وسیع ہیں، کوئی شخص ڈٹ کر جھوٹ بولتا ہو، اپنے ذاتی مفادات کے لیے گندی مصلحتیں اختیار کرتا ہو، ایمان سے متصادم دیگر کئی خرابیوں کا مالک بھی ہو، اُسے ’’ایماندار‘‘ کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟؟؟۔ایسا کرنے والوں کا اپنا ایمان بڑا کمزور ہوتا ہے، جہاں تک اُن کے مالی طورپر کرپٹ نہ ہونے کا معاملہ ہے یہ خوبی چونکہ ہمارے ہاں بہت کم حکمرانوں میں ہوتی ہے لہٰذا اُن کا قد اِس حوالے سے بہت بلند دکھائی دیتا ہے، ورنہ مہذب معاشروں میں کسی حکمران کا مالی طورپر کرپٹ نہ ہونامعمول کا ایک عمل سمجھا جاتا ہے، ہم ہرمعاملے میں ’’انوکھے لوگ‘‘ واقع ہوئے ہیں، ہمارے ہاں تو سچ بولنے یا سچ لکھنے کو بھی ایک دلیری سمجھا جاتا ہے جبکہ مہذب معاشروں میں اِسے بھی معمول کا ایک عمل سمجھا جاتا ہے… خان صاحب نے پانچ برس بڑے آرام سے گزار لیے، بظاہر اُن کے لیے ویسی مشکلات کھڑی نہیں کی گئیں جیسی مشکلات اُن سے پہلے کچھ وزرائے اعظم کے لیے کھڑی کی جاتی رہیں، اِس ملک کی اصلی قوتوں نے جتنا کھل کر ساتھ اُن کا دیا شاید ہی ماضی میں اور کسی وزیراعظم کا دیا ہوگا، اِس حوالے سے اُن کی حیثیت  ’’سیاسی جرنیل‘‘ سے کم نہیں تھی، ہم اُنہیں ’’چیف آف دی پولیٹکل سٹاف‘‘ بھی قرار دے سکتے ہیں، اِس اعتبارسے یا اس طاقت کے بل بوتے پر سسٹم میں جو تبدیلیاں خان صاحب لاسکتے تھے وہ اگرنہیں لاسکے یہ بڑی بدقسمتی ہے، اُنہوں نے سارا قیمتی وقت اپوزیشن جماعتوں کے لیے بدزبانی میں گزاردیا، یہی وقت اُنہوں نے ملک اور عوام کے بڑے بڑے مسائل حل کرنے پر لگایا ہوتا اپوزیشنی جماعتوں کو اپنے اپنے بلوں سے باہر نکلنے کی جرأت ہی نہ ہوتی، سال کا عرصہ اب بھی اُن کے پاس ہے … مجھے یقین ہے اِس عرصے میں بھی اپوزیشنی جماعتیں ایڑی چوٹی ودیگر اعضاء کا پورا زور لگاکر بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی، کیونکہ اپنا کچھ بلکہ اپنا سب کچھ بگاڑنے کے لیے خیر سے ہمارے خان صاحب خود ہی کافی ہیں… اِس کے باوجود کہ اپوزیشنی جماعتوں میں غبارے میں ویسی ہی پھونک بھری جارہی ہے جیسی پھونک جب خان صاحب اپوزیشن میں تھے تو اُن کے غباروں میں بھری جاتی تھی، میں اِس احساس میں مبتلا ہوں قسمت کی دیوی خان صاحب سے پوری طرح ابھی ناراض نہیں ہوئی، اُن کے خلاف عدم اعتماد کی باتیں ضرور ہورہی ہیں، مگر اپوزیشن کے جو معاملات ہیں، جو مفادات ہیں، اور آپس میں جو اختلافات ہیں اُس کی بنیاد پر فی الحال تو وہ ایک دوسرے پر ہی عدم اعتماد کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، ویسے بھی اب جبکہ موجودہ حکمرانوں کا ایک سال باقی رہ گیا ہے بجائے اِس کے اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں موجودہ حکمرانوں کے خلاف عدم  اعتماد کی تحریک لانے پر زور لگائیں یہی زور اُنہیں اگلا الیکشن بغیر کسی ’’سہاروں‘‘ کے جیتنے پر لگانا چاہیے، … گوکہ کسی وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کو ایک جمہوری عمل سمجھا جاتا ہے مگر جب یہ عمل کچھ غیر جمہوری قوتوں کے اشاروں یا سہاروں پر کیا جائے یہ قطعی طورپر ایک ایسا غیر جمہوری عمل بن جاتا ہے جس کا ملک کو کوئی فائدہ ہونے کے بجائے اُلٹا نقصان ہوتا ہے، جس طرح طلاق ہمارے دین میں ایک جائز مگر ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے اِسی طرح کسی بظاہر منتخب وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہماری جمہوریت وآئین میں جائز مگر ایسی صورت میں ایک انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے جب اُس وزیراعظم کا عرصہ مکمل ہونے والا ہو، …میرا تو اپوزیشنی جماعتوں کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے موجودہ حکومت کا صرف سواسال باقی رہ گیا ہے، اگر پونے چار سالوں میں وہ عوام کی اُمیدوں پر پوری نہیں اُترسکی، مزید سواسال میں اُس نے کیا کرلینا ہے؟۔ اِن حالات میں بجائے اِس کے موجودہ حکمرانوں کو اُن کے حال پر چھوڑ کر مزید حماقتیں کرنے کا موقع فراہم کیا جائے اُن کے لیے مسائل کھڑے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں … تحریک عدم اعتماد، لانگ مارچوں، احتجاجوں وغیرہ کے نتیجے میں حکمران اگر کمزور ہوگئے یا فرض کرلیں اُن کی حکومت گر جائے اِس کا فائدہ بالآخر کس کو ہوگا؟ ۔ایک اجلاس ’’نااہل اپوزیشن‘‘ کو یہ سوچنے کے لیے بھی بلانا چاہیے!!

تبصرے بند ہیں.