شہر کے ساتھ بیابان نہ ہو

22

ایک عابد نے خدا کی زیارت کے لیے 40 دن کا چلہ کھینچا۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گزرتا تھا 36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی : شام 6 بجے،تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اور خدا کی زیارت کرو۔عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دکان کو ڈھونڈنے لگا وہ کہتا ہے۔’’میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی‘‘اسے وہ بیچنا چاہتی تھی وہ جس تانبہ ساز کو اپنی دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا: 4 ریال ملیں گے ۔ وہ بڑھیا کہتی:  6 ریال میں بیچوں گی کوئی تانبہ ساز اسے چار ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا؛آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا۔بوڑھی عورت نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور میں اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے ؟تانبہ ساز نے پوچھا صرف چھ ریال میں کیوں؟؟؟ بوڑھی عورت نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے۔تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا: ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!!بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!!’’کہا ہرگز نہیں‘‘میں واقعی پچیس ریال دوں گا یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اوربوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ دیئے !!!بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بوڑھی
عورت چلی گئی تو میں نے تانبے کی دکان والے سے کہا: چچا، لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟ بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کوتولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی۔ اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا بوڑھے  تانبہ ساز نے کہا: میں نے برتن نہیں خریدا ہے میں نے اس کے بچے کانسخہ خریدنے کے لیے اسے پیسے دئیے ہیں میں نے ایک ہفتے تک اس کے بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان  بیچنے کی نوبت نہ آئے ، عابد کہتا ہے میں سوچ میں پڑگیا اتنے میں غیبی آواز آئی،’’چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کر سکتا گرتوں کو تھام اور غریب کا ہاتھ پکڑو ہم خود تمہاری زیارت کو آئیں گے‘‘۔عمران خان ہر گز ریاست مدینہ کا ڈھنڈورا نہ پیٹتا۔۔کہیں بھی اپنی ایمانداری کا پرچم بلند نہ کرتا۔۔کسی کو این آر او دینے کی بات نہ کرتا۔ کبھی بھی ملک کو ترقی دینے کی بات نہ کرتا۔ معیشت کی ناؤ کو عمیق سے عمیق لہروں کو ڈوبنے میں دیتا۔کسی کو بھی سر عام تو کیا چھپ کر بھی چور کہنے کی جسارت نہ کرتا۔کسی کا راز فاش نہ کرتا۔پاناما لیکس کو پرے پھینکتا۔ان کے سوئس اکاؤنٹس کو بھی خاطر میں نہ لاتا۔بس ضروریات زندگی کے تمام پہلو کو مد نظر رکھتا۔غریب سے لقمہ نہ چھینتا۔مریضوں سے ادویات نہ چھینتا۔مزدور کا خیال رکھتا۔بے سہارا کو کندھا دیتا تو عمران بہت بڑا عابد تھا۔عمران کو کسی چلہ کشی کی ضرورت نہ تھی۔عمران خان کو مرشد پکڑنے کی ضرورت نہ تھی۔اگر عمران خان یہ سب کچھ سوچ کر وزیر اعظم بنتا تو شاید بشریٰ بی بی سے بھی دعا کرانے اور چلہ کشی کی نوبت نہ آتی۔۔۔بقول فرحت عباس شاہ
یہ مرا گھر ہے تو حیران نہ ہو
کیسے ممکن ہے کہ ویران نہ ہو
دل کی عادت ہے کراہے گا ضرور
اے مرے درد پریشان نہ ہو
موت اس بات سے مرجاتی ہے
زندگی ہو مگر آسان نہ ہو
ورنہ در آئے گا رفتہ رفتہ
شہر کے ساتھ بیابان نہ ہو
بے وفا زود فراموش بے حس
مجھ سے کہتا ہے پشیمان نہ ہو
اس لیے میں نہیں ہوتا آباد
تم کو تکلیف مری جان نہ ہو
بس اسی بات سے گھبراتا ہوں
جس میں اچھائی کا امکان نہ ہو
کیا کروں لکڑی کے اس دوست کا میں
جس کے اندر دل نادان نہ ہو

تبصرے بند ہیں.