وزیراعظم کا قوم سے خطاب، پیٹرول 10 روپے اور بجلی 5 روپے سستی کرنے کا اعلان

29

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10,10 روپے فی لیٹر اور بجلی کی قیمت میں 5 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ تک یہ قیمتیں برقرار رہیں گے۔ پیکا قانون سے آزاد صحافت اور میڈیا کو کوئی خطرہ نہیں، بلکہ اس کا ایک مقصد ہے کیونکہ اس ملک میں وزیراعظم کو بھی نہیں چھوڑا جا رہا۔ آئی ٹی سیکٹر کو ٹیکس فری کرنے کے علاوہ فارن ایکسچینج پر بھی مکمل ٹیکس ختم کر دیا ہے جبکہ انڈسٹریل پالیسی کے تحت اب جو کوئی بھی سرمایہ کاری کرے گا، اس سے سوال نہیں ہو گا۔ 
تفصیلات کے مطابق قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ پیٹرول اور ڈیزل کا ہے اور ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو عوام پر بوجھ پڑ جائے گا لیکن میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آج بھی پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں دنیا کے دیگر ممالک سے کم ہیں اور 190 ممالک کی فہرست میں پاکستان اس حوالے سے 25 ویں نمبر پر آتا ہے جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں سب سے کم ہیں۔ 
ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں اس وقت 260 روپے فی لیٹر، بنگلہ دیش میں 185 روپے فی لیٹر اور ترکی میں 200 روپے فی لیٹر قیمت ہے لیکن حکومت پاکستان پیٹرولیم مصنوعات پر ہر مہینے دی جانے والی 70 ارب روپے کی سبسڈی ختم کر دے تو یہاں پیٹرول کی قیمت 220 روپے فی لیٹر ہو جائے۔ 
وزیراعظم نے کہا کہ آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے میرے پاس سمری بھجوائی ہے جس میں 10 روپے فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کی تجویز دی گئی ہے مگر میں قوم کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ ہم 10 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10,10 روپے فی لیٹر کمی کر رہے ہیں۔ 
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتیں بھی عوام کیلئے پریشان کن ہیں اور اگر پاکستان میں ڈیمز بنائے جاتے تو انتہائی سستی بجلی مل سکتی تھی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ڈیمز بنانے جا رہی ہے جو آئندہ 4 سے 5 سال میں بن جائیں گے اور انتہائی سستی بجلی میسر ہو گی اور دنیا کے حالات کا قیمتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ 
ہم نے عوام کی سہولت کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 5 روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے، بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی وجہ سے ساری چیزیں مہنگی ہوتی ہیں اس لئے ہم اگلے بجٹ تک ان چیزوں کی قیمت میں اضافہ نہیں کریں گے اور اس کے علاوہ احساس پروگرام کے تحت مستحقین کو ملنے والے 12 ہزار روپے کی رقم میں اضافہ کر کے اسے 14 ہزار روپے کر دیا ہے۔ 
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا میں بڑی تیزی کیساتھ صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور پاکستان پر اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو میں نے پہلے چین اور پھر روس کا دورہ کیا جو بہت اہم تھے اور ان سے پاکستان نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ میرے ماں باپ ایک غلام ہندوستان میں پیدا ہوئے اور جب میں بڑا ہو رہا تھا تو مجھے یہ احساس دلایا گیا کہ میں خوش قسمت ہوں جو آزاد ملک میں پیدا ہوا۔ جب سے سیاست شروع ہوئی میری خواہش تھی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہو جس کا مطلب ہے کہ خارجہ پالیسی اپنے قوم اور مفاد کو مدنظر رکھ کر بنائی جائے نہ کہ کسی اور ملک کے فائدے کیا جائے اور اپنا نقصان کر لیا جائے۔ 
ہم نے امریکہ کیساتھ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں حصہ لیا، میں شروع سے کہتا تھا کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ نائن الیون میں کوئی بھی پاکستانی ملوث نہیں تھا، جب امریکہ افغانستان میں گیا تو اس کا ساتھ دیا گیا لیکن میں شروع سے اس پالیسی کے خلاف تھا اور بدقسمتی سے اس کے باعث 80 ہزار پاکستانیوں کی شہادتیں ہوئیں، 35 لاکھ لوگوں نے نقل مکانی کی، قبائلی علاقہ تباہ ہوا، ڈیڑھ سو ارب ڈالر سے زائد نقصان اٹھانا پڑا لیکن اس سے بھی شرمناک بات یہ تھی کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ ایک ملک جو کسی دوسرے ملک کی حمایت میں جنگ لڑ رہا ہے، اس حمایتی ملک میں ہی بمباری کی جا رہی ہے، ہمارے ملک میں 400 سے زائد ڈرون حملے کئے گئے۔ کہتے ہیں کہ ڈکٹیٹرز کو استعمال کرنا سپرپاورز کیلئے آسان ہوتا ہے مگر یہاں جنرل مشرف کے دور میں 10 ڈرون حملے ہوئے جبکہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کے دور میں 400 ڈرون حملے ہوئے۔ 
وزیراعظم نے کہا کہ آزاد خارجہ پالیسی یہ ہونی چاہئے تھی کہ امریکہ کو کہتے کہ تمہاری بمباری سے ہمارے معصوم لوگ، عورتیں، بچے مر رہے ہیں، کیا ان جمہوری لیڈرز کو سٹینڈ نہیں لینا چاہئے تھا؟ بلکہ ایک امریکی صحافی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ آصف علی زرداری نے امریکہ کے آرمی چیف سے کہا کہ بمباری سے جو نقصان ہو رہا ہے اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے خارجہ پالیسی کی بات اس لئے کی ہے کہ جب کسی ملک کے سربراہ کے پیسے اور جائیدادیں بیرون ملک ہوں گی اور اربوں کے آف شور اکاﺅنٹس کا مالک ہو گا، وہ کبھی اپنے ملک کی بہتری کیلئے نہیں سوچ سکتا بلکہ اپنے پیسے بچانے کیلئے اور اپنے فائدے کیلئے سوچتا ہے۔ روس کے بڑے بڑے بزنس مین جن کے لندن میں پیسے پڑے ہیں اور پراپرٹیز ہیں، یورپ نے سب فریز کرنے اور ضبط کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ میں اپنی قوم کو آج کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ملک میں آزاد خارجہ پالیسی چاہتے ہیں تو کبھی اس پارٹی کو ووٹ نہ دیں جس کے سربراہ کے پیسے باہر پڑے ہیں، میں نے جتنے بھی دورے کئے ہیں، اللہ کا کرم ہے ہمارے ملک کو بھی عزت ملی اور وقت ثابت کرے گا کہ یہ دورے انتہائی زبردست رہے۔ ہم نے روس کا دورہ اس لئے کیا کیونکہ 20 لاکھ ٹن گندم منگوانی تھی جبکہ روس ایک ایسا ملک ہے جہاں گیس وافر مقدار میں ہے، ہم نے ان سے گیس خریدنے کیلئے معاہدے کئے ہیں، چین کے ساتھ جو معاہدے ہوئے وہ بھی قوم کے سامنے آ جائیں گے، خاص طور پر سی پیک کے دوسرے فیز کے حوالے سے اس میں معاہدے شامل ہیں۔ 
اس موقع پر انہوں نے پیکا آرڈیننس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں آزادی صحافت پر شور مچا ہوا ہے، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ قانون 2016ءمیں بنا تھا اور ہم نے اس میں صرف ترمیم کی ہے، جس ملک کا سربراہ کرپشن نہیں کرتا اور قانون نہیں توڑتا، اسے آزدای صحافت اور میڈیا سے کوئی خطرہ نہیں، آج پاکستان کے اخبارات دیکھ لیں، میڈیا دیکھ لیں، 70 فیصد خبریں ہمارے خلاف ہیں لیکن یہ قانون اس وجہ سے لے کر آئے ہیں کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پر گند آ رہا ہے، چائلڈ پورنوگرافی آ رہی ہے، کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسی چیزیں نہیں آتیں، میرے پاس ریکارڈ ہے کہ اس وقت ایف آئی اے کے پاس 94 ہزار کیسز پڑے ہیں جن میں گھر کی عورتوں کو تنگ کیا گیا، لوگوں کے گھر اجڑ رہے ہیں، نازیبا تصاویر شیئر کر دی جاتی ہیں لیکن ابھی تک صرف 38 کیسز کا فیصلہ ہوا ہے۔ عام لوگ تو ایک طرف، وزیراعظم کو بھی نہیں بخشا جا رہا، ایک صحافی نے تین سال پہلے لکھا کہ عمران خان کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی، تین سال ہو گئے وزیراعظم کو کوئی انصاف نہیں ملا، اب وہی صحافی لکھتا ہے کہ اب پھر بیوی چھوڑ کر چلی گئی ہی، ملک کے وزیراعظم کے خلاف اگر یہ ہو سکتا ہے تو باقی لوگوں کا کیا ہو گا۔ 
ان کا کہنا تھا کہ اسی صحافی نے جب نواز شریف کے دوسرے دور میں کرپشن پر لکھا تھا تو تین دن اسے بند کر کے ڈنڈے مارے گئے تھے، یہاں یہ حال ہے کہ ایک خاتون نے وزیر کے خلاف لکھا جس کے خلاف انگلینڈ میں جا کر انصاف حاصل کیا گیا اور اب مراد سعید انگلینڈ میں جا کر کیس کرنے کا سوچ رہے ہیں، شوکت خانم کے بارے میں لکھا کہ شوکت خانم کا پیسہ تحریک انصاف کو جا رہا ہے، لیکن کسی نے اتنی زحمت نہیں کی کہ شوکت خانم سے پوچھ لیتے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے، حنیف عباسی نے بھی شوکت خانم سے متعلق باتیں کی تھیں اور اس معاملے پر کئے گئے کیس کو 10 سال ہو گئے ہیں، اب شوکت خانم انگلینڈ میں اور امریکہ میں اس معاملے پر کیس کرنے جا رہی ہے۔ 
دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ آزادی صحافت کے نام پر مافیاز بیٹھ کر بلیک میل کر رہے ہوں، ان کے ایجنڈے کچھ اور ہیں، یہ پیسے لے کر بلیک میل کر رہے ہیں اور گند اچھال رہے ہیں، میں نے ساری زندگی تنقید دیکھی ہے، میں نے سارے مغرب میں دیکھا ہوا ہے کہ وہاں کیا ہے، انگلینڈ میں ہرجانے کا ایک کیس لڑا، لیکن کبھی کسی کی جرت نہیں ہوتی کہ جس طرح کی غیر ذمہ دارانہ چیزیں یہاں آتی ہیں، کسی اور جمہوریت میں یہ کریں۔ مذکورہ قانون اس ملک کیلئے انتہائی ضروری ہے اور اس کا آزادی صحافت کیساتھ کوئی تعلق نہیں، بلکہ اچھے صحافی اس سے خوش ہوں گے کہ جعلی خبریں ختم ہو جائیں گی۔ میں نے آزاد کشمیر کا وزیراعظم نامزد کیا تو ملک کے تین بڑے اخبارات کے فرنٹ پیج پر خبریں چھاپی گئیں کہ جادو ٹونے سے وزیراعظم کو نامزد کیا گیا ہے، اگر یہ دیگر ممالک میں چھاپہ جاتا تو شائد یہ اخبارات ہی بند ہو جاتے۔ 
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مہنگائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمیں اکانومی ملی تھی تو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ تھا، ہمارے فارن ایکسچینج ریزروز تین ہفتے کی امپورٹس کیلئے کافی نہیں تھے، ہم پیسے نہیں دے سکتے تھے، اس کے بعد کورونا آ گیا، 100 سال میں ایک مرتبہ اتنا بڑا بحران آتا ہے، دنیا میں حالات دیکھ لیں کیا ہیں، کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی بڑی بڑی معیشتیں ہل گئیں، پاکستان کے حالات پہلے ہی برے تھے لیکن اس کے بعد کورونا وائرس آ گیا، لیکن پاکستان نے اس معاملے کو جس طرح ڈیل کیا، اس کی مثالیں پوری دنیا دیتی ہے۔ لاک ڈاﺅن ختم ہوئے تو سپلائی لائن متاثر ہو چکی تھی جس کی وجہ سے پوری دنیا میں تاریخی مہنگائی ہوئی۔ ہم دنیا سے علیحدہ نہیں ہیں، بہت سی چیزیں ہم باہر سے منگواتے ہیں، 60 فیصد بجلی امپورٹڈ فیول سے بنتی ہے، تمام چیزیں مہنگی ہو گئیں، امریکہ کی معیشت سب سے تگڑی سمجھی جاتی ہے لیکن وہاں 40 سال میں سب سے زیادہ 7.5 فیصد مہنگائی ہوئی۔ کینیڈا میں لوگ پیسہ خرچ کر کے جاتے ہیں لیکن وہاں بھی 30 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی، برطانیہ میں 30 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی، ترکی میں 20 سال میں سب سے زیادہ مہنگائی ہوئی، یہاں شور ڈالا جا رہا ہے کہ مہنگائی ہو گئی ہے، حکومت گرا دو۔ پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں 13.9 فیصد اوسط مہنگائی ہوئی، پیپلز پارٹی کے دوسرے دور میں 8.3 فیصد مہنگائی ہوئی، پھر پیپلز پارٹی کے تیسرے دور میں مہنگائی ہوئی اور پھر 2012سے 2018ءکے درمیان 13.6 فیصد مہنگائی ہوئی۔ 
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پہلے دور میں 10.08 فیصد مہنگائی ہوئی، دوسرے دور میں 7.2 فیصد مہنگائی ہوئی، مسلم لیگ (ن) کے تیسرے دور میں سب سے کم تیل کی قیمتیں تھیں لیکن اس دور میں بھی 5 فیصد مہنگائی ہوئی ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں 8.5 فیصد مہنگائی ہوئی ہے، مہنگائی کا شور مچانے والوں کے اپنے دور میں زیادہ مہنگائی ہوئی جبکہ ہمارے دور میں مہنگائی اس وجہ سے ہوئی کہ پوری دنیا میں مہنگائی ہو گئی ہے۔ لیکن تحریک انصاف نے کورونا وائرس کا جس طرح مقابلہ کیا، پوری دنیا اس کی تعریف کرتی ہے، اکانومسٹ میگزین کہتا ہے کہ تین سالوں میں جو ملک ٹاپ تھری میں ہیں، جنہوں نے سب سے بہتر طریقے سے معیشت بچائی، ان میں پاکستان بھی شامل ہے، ورلڈبینک نے تعریف کی، ورلڈ اکنامک فارم نے تعریف کی، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان کی مثالیں دی، دنیا کی بڑی معیشتوں میں تباہی آئی، لیکن پاکستان نے پوری دنیا کیلئے مثال قائم کی۔ 
بل گیٹس نے پاکستان کا دورہ کیا تو خاص طور پر پوچھا کہ کورونا وائرس جیسے چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے، انہوں نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا دورہ بھی کیا اور بھرپور تعریف کی، وہ اس بات پر بھی تعریف کرتے رہے کہ ایک جانب کورونا وائرس کا مقابلہ کیا تو دوسری جانب پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا، اس کے علاوہ ہمارے احساس پروگرام کو دنیا کے چار بہترین پروگرامز میں شامل کیا گیا۔ کیا ہم سے پہلے والے حکمرانوں کی کبھی عالمی سطح پر کوئی تعریف ہوئی؟ ماحولیاتی تبدیلی کے معاملے میں برطانیہ کے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان کی تعریف کی۔ کورونا کے باعث مہنگائی ہوئی تو اس کے بعد افغانستان کا بحران آ گیا، وہاں لوگوں نے ڈالر خریدنے شروع کر دئیے، پاکستان سے ڈالر خریدے گئے جس کے باعث ہمارے روپے پر بوجھ بڑھا۔ لیکن اس مشکل وقت میں بھی پاکستان کا گروتھ ریٹ 5.6 فیصد تھا جو مسلم لیگ (ن) کے آخری سال میں خسارہ اور قرض لے کر حاصل کیا گیا۔ لیکن تحریک انصاف نے تمام تر چیلنجز کے باوجود اپنی حکومت کے ابتدائی 3 سالوں میں یہ کر دکھایا۔ 
گروتھ ریٹ کی بہتری میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اہم کردار ادا کیا اور 31 ارب ڈالرز پاکستان بھیجے، اس کے علاوہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے زیادہ ایکسپورٹس کی گئیں لیکن گزشتہ دور حکومت میں یہ وہیں کی وہیں تھی، اور جب تک ایکسپورٹس نہ بڑھیں ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، مجھے فخر ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ایکسپورٹس ہوئیں، پھر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ لاک ڈاﺅن کے دور میں چھ ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہو گا، یہ پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ ہے کہ ٹیکس کولیکشن میں 31 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 
اس کے علاوہ پاکستان کی چار بڑی فصلیں گندم، چاول، گنا اور مکئی، تاریخ میں سب سے زیادہ ان کی پیداوار ہوئی کیونکہ ہم نے پیکیج دئیے ہوئے تھے اپنے کسانوں کو اور فصلوں کی قیمت بھی زیادہ دی گئی۔ پہلی مرتبہ صرف کسانوں کے پاس 1100 ارب روپے اضافی گئے جس سے فائدہ یہ ہوا کہ کسانوں نے اپنی زمینوں پر پیسہ لگایا جس کے باعث ریکارڈ پیداوار ہوئی، اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں سہولتیں دیں، پاکستان کی ٹاپ 100 کمپنیز نے 930 ارب روپے کا منافع کمایا جو اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں کمایا تھا۔ پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ 1400 ارب روپے کے قرضے لئے، ٹریکٹرز کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا، 81 فیصد ٹرک اور بسیں زیادہ فروخت ہوئیں، ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹس 16 ارب ڈالر ہوئیں، تیل کی کھپت میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ کاروباری سرگرمیاں بڑھ گئی تھیں، تعمیری شعبے کے اندر 1500 ارب روپے گئے جس کے باعث ہمارے لوگوں کو روزگار بھی ملا، فارن ایکسچینج ریزروز 23.2 ارب ڈالر کے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ عالمی سطح پر جو قیمتیں اوپر گئی ہیں اب نیچے آنا شروع ہوں گی لیکن روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ہو رہی ہے، مجھے خوف ہے کہ ابھی قیمتیں نیچے نہیں آئیں گی کیونکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ جنگ ہوتی ہے تو تیل کی قیمت اوپر جاتی ہے اور گیس کی قیمت بھی اوپر جانے کا خدشہ ہے، گندم جو ہم نے 20 لاکھ ٹن لینی تھی اس کی قیمت اوپر چلی گئی ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس ملک میں سب سے بڑا مسئلہ پیٹرول اور ڈیزل کا ہے، اور ان کی قیمتیں اوپر چلی گئیں تو عوام پر مزید بوجھ پڑے گا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں آج بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہیں اور اس فہرست میں پاکستان 25 ویں نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں 260 روپے فی لیٹر، بنگلہ دیش میں 185 روپے فی لیٹر اور ترکی میں 200 روپے فی لیٹر ہے لیکن اگر ہم ہر مہینے دی جانے والی 70 ارب روپے کی سبسڈی واپس لے لیں تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 220 روپے فی لیٹر ہو جائے۔ 
وزیراعظم نے کہا کہ آئل اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے میرے پاس سمری بھجوائی ہے جس میں 10 روپے فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کی تجویز دی گئی ہے مگر میں قوم کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ ہم 10 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کے بجائے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 10,10 روپے فی لیٹر کمی کر رہے ہیں۔ 
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتیں بھی عوام کیلئے پریشان کن ہیں اور اگر پاکستان میں ڈیمز بنائے جاتے تو انتہائی سستی بجلی مل سکتی تھی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت ڈیمز بنانے جا رہی ہے جو آئندہ 4 سے 5 سال میں بن جائیں گے اور انتہائی سستی بجلی میسر ہو گی اور دنیا کے حالات کا قیمتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ 
ہم نے عوام کی سہولت کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 5 روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے، بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی وجہ سے ساری چیزیں مہنگی ہوتی ہیں اس لئے ہم اگلے بجٹ تک ان چیزوں کی قیمت میں اضافہ نہیں کریں گے اور اس کے علاوہ احساس پروگرام کے تحت مستحقین کو ملنے والے 12 ہزار روپے کی رقم میں اضافہ کر کے اسے 14 ہزار روپے کر دیا ہے جبکہ گریجوایٹ نوجوانوں کو انٹرن شپس دلوانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.