عطا الرحمن : صحافت کا مینارہ نور

41

عطاالرحمن صاحب بھی میرے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت کرے۔ ان کیساتھ نرمی کا معاملہ فرمائے۔ آمین۔ عمر بھر افسوس رہے گا کہ ارادے اور وعدے کے باوجود ان سے آخری ملاقات کے لئے ہسپتال نہ جا سکی۔ اطلاع ملی تھی کہ کہ وہ شدید علیل ہیں۔ کال کی تو ان کی بیٹی نے فون اٹینڈ کیا۔ گزارش کی کہ اگر عطا صاحب کو زحمت نا ہو تو میری بات کروا دیجئے۔ چند لمحوں کے بعد عطا الرحمن صاحب کی آواز ابھری ـ” السلام علیکم ، لبنیٰ” ۔ یہ ان کے معمول کے الفاظ تھے۔البتہ آواز اور لہجہ غیر معمولی تھا۔ نقاہت آواز سے چھلک رہی تھی۔ عرض کیا کہ آپ کے توانائی سے بھرپور کالمز پڑھ کر مجھے گمان تھا کہ آپ کی صحت بحال ہے۔ کہنے لگے ،بس طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ چند منٹ بات کے بعد عرض کیا کہ ایک دو دن میں ہسپتال حاضر ہوتی ہوں۔خوشدلی سے کہنے لگے، ضرور آئیں۔ کمرہ نمبر فلاں ہے۔ پھر یوں ہوا کہ دفتر ی مصروفیات آڑے آگئیں۔ نئے مالی سال کا بجٹ بنانے میں ایسی الجھی کہ تین دن بیت گئے۔ چوتھے دن مجھے ہسپتال جانا تھا۔صبح صبح دفتری امور سمیٹ رہی تھی کہ ان کی وفات کی اطلاع آگئی۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ان کی رخصتی کیساتھ ساتھ اپنی کوتاہی پر بھی کہ آخری ملاقات کیلئے حاضر نہ ہو سکی۔
گزشتہ بارہ پندرہ برس سے ان کیساتھ محبت اور احترام کا رشتہ تعلق تھا۔ عطا الرحمن صاحب ان گنے چنے صحافیوں میں شامل تھے، ،جن کا میں دل سے ادب احترام کرتی ہوں۔اس احترام کی وجہ ان کا شخصی اور صحافتی کردار تھا۔کچھ برس سے پاکستان کی صحافت میں راست گو اور دیانتدار صحافی نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔ گالی گلوچ کرنے  والے،ناحق دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے اور گریبان چاک کرنے والے نام نہاد صحافیوں کی بھرمار ہے۔ یا پھر ایسوں کی جو مفادات سمیٹنے کیلئے ہر برسر اقتدار حکمران اور صاحب اختیار کے گن گانے لگتے ہیں۔ کچھ برس سے ایسی ہوا چلی ہے کہ کئی سینئر اور نامور صحافی اس رو میں بہتے اور ہوا کیساتھ اپنا رخ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں عطا الرحمن صاحب استقامت اور جواں مردی کیساتھ اپنے سیاسی اور صحافتی نظریات پر قائم رہے۔ آپ آ ئین پاکستان اور جمہوریت کے علمبردار تھے۔ فوجی آمریتوں اور سیاست میں غیر جمہوری مداخلتوں کے خلاف نہایت بہادری سے لکھا اور بولا کرتے۔مجھے یاد ہے کہ جنرل مشرف کے دور آمریت میں کئی نامور صحافی ملفوف الفاظ میں لکھنے لگے تھے۔ لیکن عطا الرحمن صاحب ہر طرح کی مصلحت سے بے نیاز ہو کر لکھتے رہے۔ میں اکثر کہا کرتی کہ اللہ پاک آپ کی آواز سلامت رکھے۔ آپ اور آپ جیسوں کو دیکھ کر مجھ جیسوں کو لکھنے بو لنے کا حوصلہ ملتا ہے۔
عطا الرحمن صاحب پر مسلم لیگ (ن) کی چھاپ لگی تھی۔ میاں نواز شریف سے انہیں خصوصی لگاؤ تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ میاں صاحب بھی ، عطالرحمن صاحب کا بے حد احترام کیا کرتے تھے ۔ ایک زمانے میں عطا الرحمن صاحب ایک گم نام سے ٹیلی ویژن چینل پر انٹرویو پروگرام کیا کرتے تھے۔ اس چینل میں کوئی بڑا صحافی اور نامور سیاستدان کم ہی انٹرویو دیا کرتا تھا۔ہم آگاہ ہیں کہ نواز شریف کا انٹرویو کرنے کیلئے بڑے بڑے ٹی وی چینلوں کے صحافیوں کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ محض عطاالرحمن صاحب کے احترام میں میاں نواز شریف نے دو مرتبہ اس ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا تھا۔ میاں صاحب سے عطا صاحب کا ذاتی تعلق سہی، عطا الرحمن صاحب در اصل آئین اور جمہوریت کے علمبردار تھے۔ عمر بھر انہوں نے آئین پاکستان اور جمہوریت کی حمایت کی، خواہ اس کا فائدہ کسی بھی سیاسی جماعت یا شخصیت کو پہنچ جائے۔ ذاتی طور پر عطا صاحب نے نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے ادوار میں مفادات نہیں سمیٹے۔ ہمارے ہاں سول ایوارڈ لینے کے لئے لوگ بڑی بڑی سفارشیں کرواتے ہیں۔ اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں  ایوارڈ ملنے کا وقت آیا تو عطا صاحب بے نیاز رہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر خاص عرفان صدیقی صا حب نے خود ان کا نام تجویز کیااور منظور بھی کروایا۔ وہ نہایت زور آور قلم کے حامل صحافی تھے۔ مگر نہایت درویشی کی زندگی بسر کرتے رہے۔ سادہ لباس پہنتے ۔ عام سی گاڑی میں گھوما کرتے۔ مرتے دم تک اچھرے میں واقع اسی گھر میں رہائش پذیر رہے ، جس گھر میں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔
جس زمانے میں ، میں نوائے وقت گروپ میں ملازمت کرتی تھی۔ عطاالرحمن صاحب نوائے وقت میں کالم لکھا کرتے تھے۔ میں بطور وزیٹنگ فیکلٹی ممبر سپیرئیر یونیورسٹی میں پڑھانے جاتی، تو وہاں عطا صاحب سے ملاقات ہوجاتی ۔ آپ وہاں میڈیا اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے بانی سربراہ تھے۔جامعہ پنجاب سے ریٹائرمنٹ کے بعد، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے سپیرئیر یونیورسٹی جوائن کر لی۔ عطا صاحب کی ان کیساتھ کچھ نا چاقی رہنے لگی۔ سپیرئیر گروپ کے مالک اور چیئرمین عبدالرحمن صاحب نے روزنامہ نئی بات شروع کرنے کا ارادہ باندھا اور عطا صاحب کو اس اخبار کا ایڈیٹر بنا دیا۔ عطاالرحمن صاحب نے نہایت محنت اور جانفشانی کے بعد اس اخبار کی بنیاد رکھی اور اسے عمدگی سے چلایا بھی۔ میری عطا صاحب سے مختلف معاملات پر گفت و شنید رہا کرتی تھی۔ ایک دن کہنے لگے کہ مجھے کئی برس ڈاکٹر مغیث پر نہایت غصہ رہا۔ میرا گمان تھا کہ ان کی وجہ سے مجھے سپیرئیر یونیورسٹی کو خیر آباد کہنا پڑا۔ اب دل چاہتا ہے کہ ان سے اس بد گمانی کی معافی مانگوں۔ پھر ایک دن لاہور پریس کلب کی ایک پر ہجوم تقریب میں عطاالرحمن صاحب نے مائیک پر یہ قصہ کہہ ڈالا۔  ہاتھ جوڑ کر ڈاکٹر مغیث سے معافی طلب کی۔ مغیث صاحب اس مجلس میں موجود تھے۔ انہوں نے اٹھ کر عطا صاحب کو گلے لگا لیا۔ خیال آتا ہے کہ اب ڈھونڈنے سے بھی ایسی نیک دل شخصیات کہاں ملیں گی؟
عطا الرحمن صاحب سے جب بھی ملاقات ہوتی تو سیاست اور صحافت کے حالات پر بات ہوا کرتی۔ اپنی عادت کے مطابق اکثر میں نئی بات اخبار کی ادارتی پالیسی کے بارے میں کرید کیا کرتی۔ عطا الرحمن صاحب ہمیشہ نئی بات میڈیا گروپ کے مالک عبدالرحمن صاحب کی تعریف کرتے۔ کہا کرتے کہ عبدالرحمن صاحب کی خوبی یہ ہے کہ ہر طرح کا دباؤ خود برداشت کرتے ہیں۔ آج تک مجھ پر کسی بھی صحافتی معاملے میں دباؤ نہیں ڈالا۔سچ یہ ہے کہ عبدالرحمن صاحب نے ہمیشہ عطا صاحب کو عزت احترام دیا۔ کچھ عرصہ پہلے عطا صاحب کسی رنجش کے باعث نئی بات اخبار چھوڑ کر چلے گئے۔ اسلام آباد میں مقیم عطا الرحمن صاحب اور عبدالرحمن صاحب کے ایک مشترکہ دوست نے ان کی باہمی ناراضگی ختم کروائی۔ عبدالرحمن صاحب کا بڑا پن دیکھئے کہ ان دوست کے مشورے پر عطا الرحمن صاحب کو بصد احترام اپنے ادارے میں واپس لے کر آئے۔ عطاالرحمن صاحب کئی ماہ سے بیمار تھے۔اکثر ہسپتال داخل رہتے یا گھربستر پر پڑے رہتے۔ عبدالرحمن صاحب نے ان کی ذمہ داریاں دفتر کے دوسرے ملازمین کو سونپ دیں مگر عطا صاحب کا عہدہ  انہیں سونپے رکھا۔عطا صاحب کی نماز جنازہ میں شرکت کے اگلے دن سینیٹر عرفان صدیقی صاحب نے نئی بات کے دفتر جا کر سٹاف سے عطاالرحمن صاحب کی تعزیت کی۔یہ بہت عمدہ gesture تھا۔ اس روایت کو پروان چڑھنا چاہیے۔ صدیقی صاحب سے میری بات ہوئی تو بتانے لگے کہ عبدالرحمن صاحب نہایت دل گرفتہ تھے۔ ان کی آنکھوں سے باقاعدہ آنسو ٹپک رہے تھے۔ بلاشبہ عطا الرحمن صاحب جاتے جاتے ہم سب کو رلا گئے ہیں۔ ان کے جانے سے آئین اور جمہوریت کے حق میں بلند ہونے والی ایک توانا آواز بند ہو گئی ہے۔ پاکستان کی سیاست اور صحافت اس وقت مصائب و مشکلات میں گھری ہوئی ہیں۔ ایسے میں ایک نڈر آواز کی خاموشی ناقابل تلافی نقصان ہے۔ رؤف طاہر صاحب کے جانے پر بھی مجھے یہی خیال آیا تھا۔ پھر آئی اے رحمن صاحب بھی رخصت ہو گئے۔ چند دن پہلے ڈاکٹر مہدی حسن بھی چلے گئے۔ اب عطا الرحمن صاحب جیسا صحافت کا مینارہ نور بھی ہم سے جدا ہو گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ تاریکی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ روشنی کے مینارے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک آئین پاکستان اور جمہوریت کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو سلامت رکھے۔ ان کو استحکام بخشے۔ ہم جیسوں کو ان جانے والوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق اور توانائی عطا فرمائے ۔ آمین۔

تبصرے بند ہیں.