جو ترا فرض ہے…

36

پوری دنیا میں امریکی نیٹو گٹھ جوڑ نے گزشتہ صدی اور بالخصوص نائن الیون کے بعد اپنی جنگ بازی سے امن عالم درہم برہم کیے رکھا۔ میڈیا کو اپنی انگلیوں پر نچاتے خبر کی دنیا میں، تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو، کا سماں رہا۔ دہشت گرد تو سارے وہ تھے تو جو ان کی چاند ماری کا نشانہ بنے! یہ خود بشمول اسرائیل امن کے دیوتا ٹھہرائے گئے۔ اللہ نے ازخود نوٹس لیا۔ پہلے امریکا نے موسمی تھپیڑے سہے مسلسل۔ طوفان در طوفان، آگ لگے وسیع وعریض علاقے۔ اب باری ہے یورپ کی۔ دنیا کو ان کے شر سے بچنے کی کچھ مہلت ملی ہے۔ اب یورپ بالخصوص برطانیہ میں اس کا ذائقہ چکھتے انہیں ’بم سائیکلون‘ اور دیوہیکل، عفریت طوفان کا نام دیا جا رہا ہے۔ دنیا کی یہ جنتیں، مسلسل طوفانوں بگولوں سے درہم برہم ہو رہی ہیں۔ کہہ رہے ہیں کہ برطانیہ مزید طوفانوں کے لیے اب نشانے پر ہے۔ پہلے تم عفریت، بگولے بنے دنیا کے کمزور (مسلمان) ممالک کو باری باری نشانے پر لیے رہے۔ اب صورت یہ ہے کہ ادھر یورپ اور ادھر پورا امریکا( پولر وورٹیکس) ’قطبی بھنور‘ کے نشانے پر ہے اور برطانیہ بالخصوص پے درپے اس کے تھپیڑے کھا رہا ہے۔ قطبی بھنور، بہت بڑے علاقے پر محیط ہوا کے کم دباؤ کا گھومتا ہوا بگولہ نما نظام قطب شمالی، جنوبی پر بیٹھا رہتا ہے (اور حکم الٰہی کے تحت) اٹھ کر بڑے علاقوں، خطوں کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ سی این این کے مطابق اس ہفتے لاکھوں امریکی بھی اس کی لپیٹ میں آنے والے ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ، نقطہ انجماد سے نیچے درجۂ حرارت کا سامنا کریںگے۔ برفباری اور شدید سردی متوقع ہے ایک مرتبہ پھر۔ یہ دو ہزار میل پر محیط سرد طوفان آنے کو ہے جس کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ برطانیہ موسمیاتی شدتوں کی زد میں ہے۔ دریا ضبط کے بند توڑ کر سرکشی میں طغیانی پر آئے ہیں۔ سیلاب کے 450 انتباہ جاری ہوئے۔ (میل آن لائن کی تفصیلی رپورٹ) پورا نظام مفلوج ہے۔ فلائٹیں معطل، ٹرین اسٹیشن زیر آب، گاڑیاں ڈوبی ہوئی، طوفان سے بعض جگہ اڑی چھتیں، گرے درخت انسانوں تک کو بعض جگہ اڑا لے جانے والی تند ہوائیں۔ بڑے بڑے پل بند کردیے گئے ہیں۔ بجلی، گرمائش اور بعض جگہ پانی سپلائی سے محروم گھر۔ 19 فروری کی رپورٹ تھی کہ برطانیہ طوفانوں کی جہنم کا سامنا کر رہا ہے، تین مزید طوفان آنے کو ہیں۔ انجینئروں کی بحالیِ نظام کی کوششیں بھی طوفان ناکام بنائے دے رہا ہے۔ ساحلی علاقوں سے طوفانی بپھری ہوئی لہریں ٹکرا رہی ہیں۔ متاثرین کہہ رہے ہیں، بھیانک، سنگین صورت حال ہے سبھی سہولتیں ختم ہیں۔ سفر سے منع کیا جا رہا ہے۔ ہمیں پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کو دھمکانے والے کچھ ذائقہ تو اب اپنی بے بسی، بے اختیاری کا چکھ رہے ہیں۔ خود برطانیہ تینوں آسمانی مذاہب رکھنے والا ملک ہے! ملکہ برطانیہ، ’چرچ آف انگلینڈ‘ کے پروٹسٹنٹ عقیدے کے تحفظ کی اعلیٰ ترین سربراہ (سپریم گورنر) ہے۔ مگر عقیدہ خود شاہی خاندان میں کس حال میں ہے؟ تمام شہزادے، شہزادیاں! شہزادہ اینڈریو کا 12 ملین پاونڈ دے کر تالا بند کیا گیا اسکینڈل۔ خود برطانوی وزیراعظم، اخلاق وکردار کی اڑتی دھجیاں! سرکشی اور طغیانی میں بپھر کر بندگی کی حدود سے تجاوز کر جانے والا، رب کی فرمانبرداری سے اصولاً منحرف ہوکر اللہ کی بخشی سرزمین اور رعیت پر خالق کے مقابل اپنے حکم چلانے والا ’طاغوت‘ کہلاتا ہے۔ پوری دنیا پر اس وقت خالق سے سرکشی پر مبنی نظام حیات لاگو کرنے والے بڑے چودھری امریکا یورپ طاغوتی سرخیل ہیں۔ اس وقت ’قطبی بھنور‘ پر شمالی بحر اوقیانوسی ’بے لگام ردعمل کا طغیان‘ ان کے ماہرین موسمیات اسے بیان کر رہے ہیں۔ ان طواغیت کو یہ اپنے چنگل میں لیے ہوئے ہے۔ اسے صرف سائنسی پیرائے میں بیان کرکے گزر جانا جہل ہے۔ تینوں آسمانی مذاہب اللہ کی گرفت، گزری قوموں کے گناہ، تجاوزات اور ان پر عذاب الٰہی یکساں بیان کرتے اور تعلیم دیتے رہے ہیں۔ قومِ نوحؑ کی غرقابی، قوم عاد پر یہی بگولے طوفانوں کی لپٹ کا مسلط کیا جانا سبھی مناظر یکساں پڑھائے گئے ہیں۔ بحر مردار اللہ کے غضب کی زندہ علامت ہے۔ مگر نگاہوں میں بھری غلظت عبرت پذیری سے عاری ہے۔ دوسری طرف روس، یوکرین میں جنگی بگولوں کا ایک مزید قطبی بھنور ان کے سر پر مسلط کیے ہوئے ہے۔ امریکا یورپ نفسیاتی اور معاشی طور پر افغانستان کے چرکوں سے ادھ موئے ہوئے اب روس کے ہاتھوں مفلوج ہوئے پڑے ہیں۔ یوکرین پر روسی فوج کشی نے9/11سے بڑا عالمی بحران لاکھڑا کیا ہے۔ امریکا یورپ دم بخود ہیں۔آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
جنونی طغیانی میں بھارت آج کل باؤلا ہوا پھر رہا ہے۔ امریکا نے اپنے مقاصد کے تحت چین کے مقابل آسٹریلیا، جاپان اور بھارت کے ساتھ مل کر اتحاد بنا کھڑا کیا ہے۔ بھارت اس کا فائدہ اٹھاکر ہتھیار مزید سمیٹے گا۔ بھارت پر وحشت، درندگی کا جو بھوت سوار ہے امریکا اس سے مسلسل آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ امریکا، روس دونوں سے بھارت مفادات بٹورتا ہے۔ اسلاموفوبیا میں وہ فرانس اور نسلی تفریق اور منافرت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں میں اسرائیل سے کسی طور کم نہیں۔ ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے اسرائیل کے خلاف حال ہی میں (یکم جنوری 2022ء) جو جامع رپورٹ جاری کی ہے اس کا عنوان ہی عیاں ہے: ’اسرائیلی نسلی منافرت/ عصبیت (Apartheid ) فلسطینیوں کے خلاف: ظالمانہ تسلط کا نظام اور انسانیت کے خلاف جرم۔‘ عین یہی عنوان بھارت کے 30 کروڑ مسلمانوں اور کشمیر پر ناجائز قبضے کو بیان کرتا ہے۔ کہاں کی جمہوریت کون سی سیکولر ازم! سنگاپور کے وزیراعظم نے حال ہی میں بھارتی لوک سبھا کے آدھے ارکان کا ریکارڈ مجرمانہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ متعدد ارکان اسمبلی کے خلاف قتل سمیت کئی مقدمات درج ہیں۔ ایسے میں یہ عالمی سطح پر غنڈہ گردی کی سرپرستی ہے۔ حجاب کی آڑ میں اٹھائے جانے والے طوفان میں کئی مزید ڈگری کالجوں میں حجاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خود
پاکستان بھی اسے عالمی فورمز پر اٹھانے کا روادار نہیں۔ عوام مظاہرے کرکے، ٹائر، بھارتی جھنڈے جلاکر گلا پھاڑ نعرے لگاکر تھک ہارکر بیٹھ جاتے ہیں۔ محمد بن قاسم کا دور لد گیا۔ ایمانی غیرت پی ایس ایل میں جھونکی گئی۔ جب اپنی بیٹی ڈاکٹر عافیہ امریکی جیل میں گھلتی رہی تو مسکان یا کشمیر کے لیے کیا ہوسکتا ہے! ایمنسٹی نے جو فرد جرم اسرائیل پر عائد کی ہے اس میں فلسطینیوں کی زمینوں، جائیدادوں پر قبضے، ماورائے قانون قتل، جبری تبادلے، نقل وحرکت پر پابندی، شہریت سے محروم کیا جانا شامل ہے۔ اسی کا سامنا بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ بلکہ وحشت میں اسلاموفوبی زعفرانی جتھے شدید تر ہیں۔ ایک نہتی لڑکی پر ان کی یلغار شرمناک اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ حجاب کا معاملہ تو اب یوں دنیا میں گھس پٹ چکا کہ مسلمان عورت کے نقاب پر جرمانے لاگو کرنے والا فرانس ہو، یا باقی دنیا میں اسے پابندیوں کا ہدف بنانے والے، دسمبر 2019ء سے غیرمرئی کورونا کے حکم پر سبھی نقاب پوش ہوگئے۔ مردوں نے بھی چہرے چھپا لیے۔ اب ماسک نہ
لگانے پر تادیر جرمانے عائد ہوتے رہے! نقاب حجاب کا جادو سر چڑھ کر بولا!
بھارت تو باضابطہ پاگل پن کے دوروں، مالیخولیا کا مریض بنا باحجاب خواتین پر مظاہرے میں بدترین تشدد اور لاٹھی چارج کرتی پولیس کا نشانہ بنتی بچیاں دنیا کو دکھا رہا ہے۔ ترکی میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے تو ہوئے لیکن دنیا بھر کی حقوق نسواں زدہ این جی اوز اور مارچنی طبقے کے کان پر جوں نہ رینگی۔ مسئلہ عورت کے لباس اور تعلیم کے تحفظ کا ہے بھارت میں، لیکن چونکہ لباس پہننے اوڑھنے کی آزادی کی پکار ہے سو یہاں سناٹا طاری ہے۔ انہیں تو لباس سے بھی آزادی درکار ہے۔ وہاں تکبیر بلند کرکے حجاب پہننا اللہ کی مرضی، اس کی رضا پر چلنے کا مظہر ہے اور یہاں اپنی مرضی چلانے، نفس اور شیطان کی خدائی کے بے لگام نعرے ہیں۔ 8 مارچ کے حوالے سے ابھی سے بحث چھیڑ دی گئی اور مخاصمانہ ماحول بنا دیا گیا ہے۔ ملکی ماحول میں پہلے تنازعے کیا کم ہیں کہ اس ماحول میں عورت کو بھی سڑکوں پر لاکھڑا کیا جائے؟ عورت کا اول آخر اہم ترین حق اس دور میں یہ ہے کہ وہ اصل، خالص، محترم مقدس، پاکیزہ نسوانی عورت بن کر قرار ووقار سے جی سکے۔ آزادی کے نام پر غیرذمہ دار مرد اور نیم مردانہ عورت بریگیڈ، معاشرے کی بھاری بھرکم ذمہ داریاں عورت پر لادے چلے جا رہے ہیں۔ معاشرتی بگاڑ ہمہ نوع اسی بنا پر ہے۔ صنفی انتشار اور گڈمڈ ختم کیجیے۔ مرد، مردانگی کا ثبوت دے۔ کریم محافظ اور قوام بن کر دیوثیت کی طرف جانے سے معاشرے کو بچائے تاکہ اخلاقی اقدار کا جنازہ نہ اٹھے۔ سعودی عرب کے تمام تر بگڑے ماحول کے باوجود برطانوی ٹریول کمپنی کے سروے کے مطابق پوری دنیا میں آج عورت مدینہ منورہ میں محفوظ ترین ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں عورت کو حجاب کے تقدس اور وقار سے گھر کی ملکہ بنانے والے محسن نسواں صلی اللہ علیہ وسلم کا کریم اسوہ پروان چڑھا۔ آج کی دنیا کے ظالم ہوسناک چودھریوں کے ہاتھوں مظلوم ترین، عورت اور بچے ہیں۔ اس کمزور مخلوق کے عالمی استحصال کا ایک شرمناک نظام ان کے ذریعے پروان چڑھا۔ ہالی، لالی، بالی ووڈ کے جنگلات نے عورت کو کھلونا بناکر رکھ دیا۔ قبل از اسلام کے جاہلانہ دور کی طرح پیسے کے عوض خوبصورت اصطلاحوں میںآج بھی خریدی، بیچی جارہی ہے۔ اسے تحفظ دینے کی مبنی بر اخلاص تحریک کی ضرورت ہے جو معاشرے کے ایمان، علم اور عمل والے مردوں کا فرض ہے سڑکوں پر عورتوں کے نعرے لگواکر نہیں! ؎
میں نے یہ قصہ کہا اس لیے ہو کر مجبور
جو ترا فرض ہے وہ یاد دلاؤں تجھ کو

تبصرے بند ہیں.