یوکرین پر روسی حملے کے بعد عالمی رہنماؤں کے ردعمل

17

 

ماسکو: روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد عالمی رہنماوں کے ردعمل سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں چینی سفیر نے یوکرین حملے پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت یوکرین کی صورتحال نازک ہے،تنازع کا  پرامن حل اشد ضروری ہے  اور اس کا  دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ  موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے تنازعہ میں مزید  شدت پیدا کرنے سے باز رہنا ضروری ہے ۔

 

علاوہ ازیں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی روس سے یوکرین کیخلاف جارحیت روکنے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ  روس کے اقدامات کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ جسٹن ٹروڈو نے روس کی بلا جواز کارروائی کو روکنے کیلئے  اضافی کارروائی کرنے کا بھی عندیہ دیدیا۔

 

اقوام متحدہ   کے سیکرٹری  جنرل نے کہا کہ روسی صدر اپنی فوج کو یوکرین پر حملے سے روکیں، انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن امن کو موقع دیں، پہلے ہی کئی لوگ مر چکے ہیں۔

 

امریکی صدر جوبائیڈن نے  بھی   یوکرینی علاقوں میں روس کے حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے  کہا ہے کہ دنیا روس کے اقدام پر سخت ردِعمل دے گی۔انکا کہنا تھا کہ یوکرین پر روسی حملہ تباہ کن اور انسانی نقصان کا سبب بنے گا۔تاہم  روسی صدر نے کہا کہ بیرونی مداخلت ہوئی تو روس جواب دے گا ، انہوں نے کہا کہ آپریشن یوکرین کی دھمکیوں کے جواب اور اسلحے سے پاک خطے کیلئے ہے۔پیوٹن نے یوکرین کی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا۔

 

دوسری جانب  روس کی جانب سے حملے کے بعد یوکرین میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا جس کا نفاذ پورے ملک پر ہو گا۔

 

روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیو کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حملے کے بعد سول طیاروں کے لیے یوکرین کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں۔جبکہ یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ  مارشل لاء کا نفاذ پورے ملک پر ہو گا۔

 

قبل ازیں  روسی حملوں کے بعد یوکرین کا پہلا بیان آگیا جس میں روس کی جانب سے مختلف یوکرینی شہروں پر  حملوں کی تصدیق کی گئی تھی۔

 

یوکرینی وزارت داخلہ  نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیو ، ماریو پول، اڈیسا  سمیت دیگر شہروں  پر حملے کیے گئے ہیں۔ روس نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔

 

واضح رہے کہ آج روسی صدر پیوٹن کے یوکرین پر حملے کے  اعلان کے بعد یوکرین کے مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں تھی۔تاہم پہلے ان دھماکے کے آوازوں کی نوعیت واضح نہیں تھی لیکن اب یوکرینی وزارت داخلہ نے روس کی جانب سے مختلف شہروں پر حملے کی تصدیق کر دی ہے۔

 

 

 

تبصرے بند ہیں.