یوکرین میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا

89

 

کیو: روس کی جانب سے حملے کے بعد یوکرین میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا جس کا نفاذ پورے ملک پر ہو گا۔

 

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق  روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیو کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر حملہ ہوا ہے  جس کے بعد سول طیاروں کے لیے یوکرین کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہے۔

 

یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ  مارشل لاء کا نفاذ پورے ملک پر ہو گا۔

 

قبل ازیں  روسی حملوں کے بعد یوکرین کا پہلا بیان آگیا جس میں روس کی جانب سے مختلف یوکرینی شہروں پر  حملوں کی تصدیق کی گئی تھی۔

 

یوکرینی وزارت داخلہ  نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیو ، ماریو پول، اڈیسا  سمیت دیگر شہروں  پر حملے کیے گئے ہیں۔ روس نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔

 

واضح رہے کہ آج روسی صدر پیوٹن کے یوکرین پر حملے کے  اعلان کے بعد یوکرین کے مختلف شہروں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں تھی۔تاہم پہلے ان دھماکے کے آوازوں کی نوعیت واضح نہیں تھی لیکن اب یوکرینی وزارت داخلہ نے روس کی جانب سے مختلف شہروں پر حملے کی تصدیق کر دی ہے۔

 

امریکی صدر جوبائیڈن نے  یوکرینی علاقوں میں روس کے حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے  کہا ہے کہ دنیا روس کے اقدام پر سخت ردِعمل دے گی۔انکا کہنا تھا کہ یوکرین پر روسی حملہ تباہ کن اور انسانی نقصان کا سبب بنے گا۔

 

دوسری جانب روسی صدر نے کہا کہ بیرونی مداخلت ہوئی تو روس جواب دے گا ، انہوں نے کہا کہ آپریشن یوکرین کی دھمکیوں کے جواب اور اسلحے سے پاک خطے کیلئے ہے۔پیوٹن نے یوکرین کی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا۔

 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے روس، یوکرین کی صورتحال پر  ہونے والے اہم اجلاس میں اقوام متحدہ   کے سیکرٹری  جنرل نے کہا کہ روسی صدر اپنی فوج کو یوکرین پر حملے سے روکیں، انہوں نے کہا کہ صدر پیوٹن امن کو موقع دیں، پہلے ہی کئی لوگ مر چکے ہیں۔

 

دوسری جانب یوکرین نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور  اپنے تمام شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ  روسی حملے کے پیشِ نظر 30 دن کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

 

قبل ازیں روس نے یوکرین کے ساتھ 2014 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے ‘منسک’ کے خاتمےکا اعلان کیا جس کے بعد  امریکا اور برطانیہ کے بعد جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی روس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

 

تبصرے بند ہیں.