آہ… رحمان ملک

18

صبح صبح آنکھ کھلی تو رحمان ملک کے انتقال کی خبر نے افسردہ کر دیا۔ وہ گذشتہ کئی ہفتوں سے اسلام آباد کے ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ انہیں کرونا نے گھیر لیا تھا اور حالت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا تھا اور آج وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ ان کی منزلیں آسان فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
چند ماہ پہلے ہی ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں اسلام آباد کسی کام کے سلسلے میں گیا تھا تو سوچا ان سے ملاقات ہو جائے۔ سوشل میڈیا پر ان سے ایک عرصے سے یاد اللہ تھی۔ وہ اکثر میرے کالموں پر تبصرہ کرتے اور کہتے کہ میں دلچسپی سے آپ کو پڑھتا ہوں۔ وہ پانچ کتابوں کے مصنف تھے اور دی نیشن میں باقاعدگی سے کالم لکھتے تھے۔ بعض سیاسی حوالوں سے ان سے اختلاف بھی ہوتا مگر ان کی سوچ اور قوم کے لیے درد مندی سے کم از کم میں تو انکار نہیں کر سکتا۔ ایف آئی اے اور بطور وزیر داخلہ ان کے اقدامات پر گفتگو کوئی اور کرے گا مگر میں یہاں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے جو کچھ لکھا وہ سچ ثابت ہوا۔
انہوں نے بہت پہلے یہ کہہ دیا تھا کہ مودی ڈاکٹرائن اصل میں اسرائیلی منصوبہ ہے اور اسرائیل مودی کو اس طرف دھکیل رہا ہے۔ مودی کے بعد کے اقدامات نے ان کے خدشات کو صحیح ثابت کر دیا۔ میں نے انہیں فون کیا کہ ملاقات ہو سکتی ہے تو انہوں نے کہا کہ دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھائیں۔
ان سے ملاقات میں بہت سے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے اپنی کتابیں تحفے کے طور پر پیش کیں۔ ان کی نئی کتاب مارکیٹ میں آئی تھی اور وہ اس کی تقریب رونمائی کی تیاری کر رہے تھے۔ اس کتاب کے اردو ایڈیشن کے لیے وہ مجھ سے تعاون کے خواہاں تھے، میں چونکہ مصروف تھا تو ایک دن انہوں نے بتایا وہ اس پر کام کرا رہے ہیں۔ اک دن پتہ چلا کہ وہ بیمار ہو گئے ہیں اور ہسپتال چلے گئے ہیں۔
رحمان ملک پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم کردار تھے۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان سیاسی محاذ آرائی میں ان کا جھکاؤ بے نظیر کی طرف تھا اور بے نظیر نے انہیں ڈائریکٹر ایف آئی اے تعینات کر دیا تھا۔ میاں شریف کی گرفتاری اور شریف خاندان کے خلاف مقدمات میں انہوں نے کافی کام کیا تھا۔ جب نواز شریف اقتدار میں آئے تو انہیں گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں وہ لندن چلے گئے اور پاکستان پیپلزپارٹی سے وابستہ ہو گئے۔ بے نظیر ان پر اندھا اعتماد کرتی تھیں۔ 2004 سے 2007 تک وہ بے نظیر بھٹو کے چیف آف سکیورٹی تھے۔ بے نظیر بھٹو انہیں پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں لے آئیں۔ جب بے نظیر کو لیاقت باغ میں گولی لگی تو وہ اسی قافلے کے ساتھ تھے۔ اس وقت ان پر بہت زیادہ تنقید ہوئی تھی۔ 2008 کے انتخابات کے بعد یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں انہیں ملک کا وزیر داخلہ بنا دیا گیا۔ بے نظیر کے قتل کا مقدمہ چلا تو اس وقت وزیر داخلہ تھے۔ انہوں نے بے نظیر کے قتل کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات اور قاتلوں کے تانے بانے کہاں جا کر ملتے تھے ان تمام معاملات کو اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دوہری شہریت کے مقدمہ کی وجہ سے انہیں وزارت سے الگ ہونا پڑا اور بعد ازاں سینیٹ کی رکنیت سے بھی محروم ہونا پڑا۔
ایک معمولی ایجنٹ سے ایف آئی اے میں
داخل ہونے والے رحمان ملک اپنی صلاحیتوں کے باعث اسی ادارے کے سربراہ بنے۔ وہ نارا (National Alien Registration Authority) میں ایک معمولی ایجنٹ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور وہاں انہوں نے کئی آپریشنز میں حصہ لیا، چوہدری ظہور الٰہی کی سفارش پر انہیں ایف آئی اے میں سپیشل ایجنٹ کے طور پر لایا گیا اور انہیں افغانستان کی خفیہ ایجنسی خاد کے خلاف آپریشن کرنے کا کام سونپا گیا۔ ایف آئی اے میں بطور ڈائریکٹر انہوں نے اسلام کے نام پر شدت اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف خفیہ آپریشنز کیے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز میں اسرائیل سے بھی مدد حاصل کی تھی جس پر آرمی کو سخت تحفظات تھے۔ انہوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے حملوں میں ملوث یوسف رمزی کو پاکستان سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا تھا جس پر پاکستان میں شدید تنقید ہوئی تھی۔
1996 میں جب فاروق لغاری نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو برطرف کر دیا تو اس وقت کے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل غلام اصغر کے ساتھ ساتھ رحمن ملک کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ 1997 میں وزیراعظم نواز شریف نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔ رحمان ملک نے اس اقدام کو نواز شریف کا ذاتی انتقام قرار دیا تھا کیونکہ رحمان ملک نے شریف خاندان کی کرپشن کے حوالے سے 200 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ صدر کو ارسال کی تھی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت ختم ہوتے ہی وہ لندن چلے گئے تھے جہاں انہوں نے ڈی ایم ڈیجیٹل نیٹ ورک کے نام سے سکیورٹی ایجنسی بنائی۔ یہی فرم بے نظیر بھٹو کو سکیورٹی فراہم کرتی تھی۔ وہ نو برس تک جلاوطن رہے اور اسی دوران انہوں نے برطانوی شہریت حاصل کی۔ انہوں نے اپنی برطانوی شہریت وزیر داخلہ کا حلف اٹھانے کے بعد ترک کی، بعد ازاں سپریم کورٹ میں مقدمہ کی وجہ سے انہیں وزارت اور سینیٹرشپ سے الگ ہونا پڑا۔ بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دوران وہ ان کے کافی قریب تھے اور ان کی کوششوں کی وجہ سے پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو میں ڈیل ہوئی۔
رحمن ملک آج ہم میں نہیں ہیں۔ انٹیلی جنس حلقوں میں ان کا ایک خاص مقام تھا۔ آخری وقت میں ایک تاثر یہ تھا کہ شاید وہ پیپلزپارٹی کی قیادت سے نالاں ہیں لیکن انہوں نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی۔ وہ اسلام آباد میں رہ کر سیاسی اور سکیورٹی کے معاملات پر لکھتے تھے۔ امریکہ افغانستان سے واپس گیا تو میں نے ازراہ مذاق کہا کہ آپ کے بچے اقتدار میں آگئے کافی محظوظ ہوئے اور کہنے لگے کہ پاکستان کو جلدبازی نہیں کرنی چاہیے اور فوری طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی غلطی ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا ہے تو بلاک کی صورت میں کیا جائے۔ جب تک قطر اور دوسرے اسلامی ممالک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کریں پاکستان کو یہ اقدام نہیں اٹھانا چاہیے۔
وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مغرب اور بھارت مل کر پاکستان کے لیے پھندہ تیار کر رہے ہیں اور پاکستان کو اپنی حکمت اور دانش سے اس سے بچنے کے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ یہ پھندہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے کارڈ کو استعمال کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے مغرب اور بھارت مل کر داعش اور ٹی ٹی پی کو استعمال کرے گا۔ یہ دونوں تنظیمیں اس وقت افغانستان سے کام کر رہی ہیں۔ ان سب کا ہدف ایک ہی ہے کہ پاکستان کو اس قدر دباؤ میں لایا جائے کہ وہ اپنے ایٹمی اثاثوں سے دستبردار ہو جائے۔ ان کا یہ بھی استدلال تھا کہ معاشی طور پر پاکستان کو بے دست وپا کرنا بھی اسی پلان کا حصہ ہے۔ پاکستان کو اپنی معیشت کو بہتر کر کے اس منصوبے کے آگے بند باندھنا ہو گا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ جس تیزی سے گر رہا ہے یہ اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ ملک کی مضبوط معیشت مضبوط دفاع کی ضامن ہوتی ہے۔ روپے کو مستحکم کریں گے تو حالات سدھر جائیں گے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ افغانستان پر پوری توجہ مرکوز کرے کیونکہ افغانستان کی این ڈی ایس بھارت کے پے رول پر ہے اور یہ سلسلہ ماضی سے چل رہا ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی پاکستان کے خلاف جو کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ نئی دہلی سے ہو رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے افغانستان اور یوکرائن کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ سچ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغان طالبان کو جو بیوروکریسی اور انٹیلی جنس ملی ہے وہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہے اور طالبان کے دور میں بھی یہ لوگ انہیں بھارت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
رحمان ملک آج ہم میں نہیں رہے لیکن معیشت اور سکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ درست ثابت ہو رہے ہیں۔ وہ باجوہ ڈاکٹرائن کے حامی تھے۔ رحمن ملک کی وفات سے ملک اور انٹیلی جنس کمیونٹی ایک دانشمند شخص سے محروم ہو گئی ہے۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

تبصرے بند ہیں.