عرفان صدیقی سے ایک ملاقات

34

پوری انسانی تاریخ چھان لیں آپ یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ غیرمعمولی شخصیات کی ایک شناخت یہ ہوا کرتی ہے کہ وہ عموماً متنازع کئے جاتے ہیں جیسے عرفان صدیقی جن کی شناخت صحافت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے مگر نوازشریف کی محبت ان کو صحافت کے میدان سے بڑے ایوانوں میں لے گئی عرفان صدیقی کے طرز حیات افکار ونظریات اور ان کی صاف گوئی اکثر ان کے خلاف بے رحم محاذ کھول دیتی ہے ہمارے ریاکار معاشرے نے جو مصنوعی قدریں تراش لی ہیں ان میں پروان چڑھنے والے لوگ کھری اور عریاں صداقت سننے کو قطعی تیار نہیں شاید ہم ایک دوغلے ریاکار اور پرفریب معاشرے میں رہتے ہیں جس کی اقدار کو بے رحم وقت نے ہم سے چھین لیا ہے۔ باتیں ہماری بڑی ایمان افروز اور پاکبازی کی مظہر ہوتی ہیں مگر اندر کی گڑبڑ کی کسی کو اطلاع نہیں۔ یعنی سامنے کچھ پیچھے کچھ۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اس ظاہر پرست، خوشامد پسند اور کرپٹ معاشرے میں عرفان صدیقی جیسے کھرے، سچے، بلندبانگ گونج کے ساتھ ایوانوں میں حکمرانوں کو للکارنے والی آواز کی کوئی ضرورت، کوئی اہمیت نہیں ہوتی البتہ ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ عرفان صدیقی ایک قلم ہی نہیں ایک آواز میں نہیں، ایک عزم و پیکر کی جستجو ہی  نہیں ایک بہت بڑا انسان جس نے تمام عمر اصولوں اور ایک کٹر پاکستانی کے طور پر گزاری ہو وہ شہرت  کے پیچھے نہیں بلکہ شہرت نے خود ان کا تعاقب کیا وہ صاحب قلم ہی نہیں صاحب حسن ہی نہیں وہ صاحب کمال بھی ہیں کہ انہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا ہر محاذ پر ڈٹے رہے اور اگر ان کی اقدار کا ذکر کیا جائے ان کے تعلق کو دیکھا جائے اگر ان کی انسان دوستی کو دیکھا جائے اگر ان کے رویوں کو دیکھا جائے اگر ان کی بردبار طبیعت کو دیکھا جائے ان کے قلم سے نکلے اور ایوانوں میں بولے لفظوں کو تولہ جائے تو پھر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ انقلابی انسان ہیں اور تحریکیں ہمیشہ انقلابیوں کے ویژن سے جنم لیتی ہیں۔
عرفان صدیقی کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ وہ آج نہ صرف بہترین صحافی، اچھے سیاستدان ہی نہیں بلکہ وہ ’’قیادت‘‘ کی صلاحیتوں سے بھی مالامال ہیں گو قیادت کبھی آسان نہیں ہوتی کوئی لیڈر اپنے کام میں کتنا ہی ماہر کیوں نہ نظر آئے اس کی راہ ہمیشہ چیلنجز اور حیرتوں سے پر ہوتی ہے تاہم لیڈر چیلنج کا مقابلہ کبھی بھی تنہا نہیں کرتا لیڈر ہر کام کیلئے ایک تحریک پیدا کرتا ہے۔ عرفان صدیقی جب سے سنیٹر بنے ہیں وہ آئے روز ایوان بالا میں حکومت کے غلط اقدامات پر آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں اور ان کی بلندبانگ اور گونج دار تقاریر سن کر مسلم لیگ ہی کے سنیٹرمشاہد اللہ خان ( مرحوم) کی سینٹ میں حکومتی ارکان کے ساتھ سچ اور حق کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ان کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ حکومتی وزرا کو ہاتھوں ہاتھ لیا کرتے اور یہی رویہ اب سنیٹر عرفان صدیقی کے روپ میں دیکھا جا رہا ہے کہ وہ بھی حکومت کے غلط اقدامات اور وزرا کو آڑے ہاتھ لے کر سچ اور حق کی آواز بلند کر رہے ہیں اور میرے نزدیک اچھے لیڈر کی یہی بڑی خوبی ہوتی ہے کہ وہ سوئے حکمرانوں کو جگاتا ہے جیسے عرفان صدیقی۔
عرفان صدیقی کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ بہت آگے جا کر کھیلتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کی جاری اننگز میں ہمیشہ جارحانہ موڈ رکھا وہ میدان قلم کا ہو یا سیاست کا کھیلتے ہیں تو پھر چاروں طرف پھیلے فیلڈرز کے ہاتھ گیند لگنے نہیں دیتے۔
گزشتہ ایک سال سے تقریباً روزانہ خبروں کے حوالے سے ان کے ساتھ بذریعہ فون ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے دھیمے لہجے میں رعب دار آواز اب دل کو بہت بھانے لگی ہے گزشتہ ہفتے مجھے اسلام آباد آفس میں میٹنگ کے لئے جانا ہوا جانے سے پہلے میں نے فون پر عرفان صدیقی صاحب سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا ضرور آئیں اور آنے سے پہلے آپ کو ایک فون کرنا ہو گا تاکہ دن بھر کی مصروفیات میں سے کوئی وقت نکال لیں گے۔
میں نے ابتدا میں ایک بات کا ذکر کیا کہ لیڈر کی بڑی کوالٹی یہ ہوتی ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے میں جب لاہور سے اسلام آباد پہنچا تو بہت سی مصروفیات میں یہ بات بھول چکا تھا کہ میری ملاقات عرفان صدیقی صاحب کے ساتھ طے ہے۔ جمعرات کی رات کو اسلام آباد میں ہوٹل میں پہنچا ہی تھا کہ عرفان صدیقی صاحب کی کال آ گئی۔وہ مجھ سے مخاطب تھے۔
اسد صاحب! کیا آپ اسلام آباد میں ہیں تو میں نے کہا جی میں اسلام آباد آ گیا ہوں تو انہوں نے کہا کہ آپ کل نماز جمعہ سے پہلے آ جایئے گا کہ 2 بجے میری سینٹ میں مصروفیات ہیں میں نے وقت کی پابندی کا وعدہ کیا اور پھر فون بند ہو گیا۔
اگلے روز جمعہ کو مجھے ان کے سٹاف آفیسر کی کال آ گئی یوں ایک بجے میں عرفان صدیقی کے آفس پہنچ گیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ بڑے آدمی ہیں اور بڑے آدمی مصروفیات کی وجہ سے بروقت نہیں پہنچ پاتے مگر جیسے ہی ان کے سٹاف آفیسر کے کمرے میں گیا تو پتہ چلا کہ وہ میرا ہی انتظار کر رہے ہیں پھر لمحوں نے مجھے ان سے ملا دیا… نہایت انکساری کے ساتھ پہلی ملاقات، پہلی ملاقات میں گلے ملنا اور پھر ان کے مسکراہٹ لئے چہرے نے پہلی ملاقات کا تاثر ختم کر دیا کہ وہ تو مدتوں سے میرے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں پھر یہ منٹوں کی ملاقات ڈیڑھ گھنٹے میں بدل گئی اس میں ان کی سیاسی، صحافتی، سماجی اور پھر نوازشریف کے دور میں ان کو وزارت کی دعوت کی روداد سے اب سنیٹر بننے تک کی باتیں… یہ ملاقات میری زندگی کی یوں بھی یادگار ملاقات رہے گی کہ میں جب ان کے روبرو تھا تو انہوں نے کہیں بھی میرے اندر اس بات کا احساس پیدا نہیں ہونے دیا کہ یہ پہلی ملاقات ہے بلکہ میرے لئے حوصلہ افزا بات یہ ہوئی کہ ان کو سننے کے بعد میرا قد اور بڑا ہو گیا۔میرے ساتھ اس ملاقات میں میرے عمیر چوہدری بھی شریک تھے۔

تبصرے بند ہیں.