تحریک عدم اعتماد پر اتحادیوں کا عدم اعتماد

20

گزشتہ ہفتے عشرے کے دوران اپوزیشن کی آنیاں جانیاں میڈیا کا گرما گرم مسالہ دار موضوع بنی رہیں۔ جب پیپلز پارٹی اور ن لیگ سمیت پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں حکومت گرانے کے لیے تحریک عدم اعتماد لانے پر متفق ہوئیں تو نمبر پورے کرنے مشکل دکھائی دینے لگے۔ بلاول بھٹو کی ضد پر شہباز شریف سمیت مولانا فضل الرحمان بھی بادل نخواستہ تحریک عدم اعتماد لانے پر نہ صرف آمادہ ہوگئے بلکہ شہباز شریف نے بعض قریبی ساتھیوں کی مخالفت کے باوجود اپنوں اور مخالفین سے ملاقاتوں میں غیر معمولی تیزی دکھائی، اپنوں نے یہ کہہ کر جان چھڑالی کہ اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے ہوں حمایتی ارکان کی تعداد 172 سے بڑھ رہی ہو۔ حمایت کا سو فیصد یقین ہو تو تحریک عدم اعتماد ضرور لائی جائے۔ سب سے بڑی مشکل یہی درپیش تھی کہ تحریک کے حامی ارکان کی تعداد کیسے بڑھائی جائے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سٹیٹ بینک ترمیمی بل سمیت متعدد بلوں کی منظوری سے صاف ظاہر تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے ارکان کی قومی اسمبلی میں تعداد 164 ارکان سے آگے نہ بڑھ سکی چنانچہ اسے شکست ہوئی۔ سینیٹ میں اپوزیشن کو اکثریت کے باوجود قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی سمیت 9 ارکان کے غیر حاضر ہونے کے باعث شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ چیئرمین سینیٹ آصف زرداری کا تحفہ ہیں لیکن انہوں نے دونوں بار اپنا ووٹ حکومت کے پلڑے میں ڈال کر حکومت کے لیے آسانی پیدا کردی۔ پتا نہیں آصف زرداری کو اپنے ’’انتخاب‘‘ اور فیصلہ پر پشیمانی ہوئی یا نہیں سیاستدان اپنے کیے ہوئے فیصلوں پر شرمندہ ہوتے ہیں نہ ہی پشیمان، یہ بھی جمہوریت کا حسن ہے۔ سٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کے موقع پر حکومت اور اپوزیشن کے 42.42 ووٹ تھے۔ 43 واں ووٹ چیئرمین نے ڈالا چیئرمین نیب کے اختیارات اور اوگرا کو قیمتوں کے تعین کے اختیارات دینے کے بلوں میں دونوں جانب پھر 29-29 ووٹ برابر رہے 30 واں ووٹ چیئرمین نے ڈال کر بل منظور کرا دیے۔ اپوزیشن بے چاری لاچار یتیم مسکین صرف واک آئوٹ ہی کرسکی۔ کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ دریں حالات تحریک عدم اعتماد لانے کے فیصلے پر روز اول سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ شنید ہے کہ بلاول بھٹو نے شہباز شریف اور شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو ایسے سہانے خواب دکھائے وہ جنتر منتر پڑھے کہ سارے لیڈر 32 سالہ نوجوان کے ہم نوا ہوگئے نواز شریف نے بھی تحریک کی حمایت کردی۔ تحریک عدم اعتماد کا پیغام اتحادیوں تک پہنچانے کا مشن شہباز شریف نے سنبھالا
چودھری برادران کے بارے میں اس یقین کے باوجود کہ وہ حکومت گرانے میں اپوزیشن کا ساتھ نہیں دیں گے۔ شہباز شریف موہوم سی امید کے ساتھ چودھری شجاعت کی عیادت کے بہانے ملاقات کے لیے پہنچ گئے۔ مدعا بیان کیا ادھر سے ٹکا سا جواب چوہدری پرویز الٰہی نے صاف کہہ دیا کہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ ایم کیو ایم والے جانے کس کے کہنے پر وارد پنجاب ہوئے سبھی سے ملے۔ روٹی ٹکر کھایا ظہرانوں اور عشائیوں پر تحریک پر بھی یقینا بات ہوئی ہوگی جواب وہی ڈھاک کے تین پات، جہانگیر ترین کے کم و بیش 32 حامی ارکان نے بھی امیدوں پر پانی ڈال دیا۔ اسحاق خاکوانی کا کہنا تھا کہ غیر واضح اور موہوم سی تحریک کی کون حمایت کرے گا۔ اپوزیشن حکومت گرا کر کیا کرے گی۔ باہمی گروپ بندی سے ملک کو کیا فائدہ ہوگا۔ پی ڈی ایم پہلے تحریک کے سلسلہ میں خود کلیئر ہوجائے پھر اتحادیوں سے رابطے کرے، رابطے ناکام ہوگئے۔ تحریک عدم اعتماد لانے کی تاریخ کا تعین نہ کیا جاسکتا۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ فون کالیں بند ہوجائیں تو تحریک کامیاب ہوسکتی ہے۔ فون کالز کون کرتا ہے؟ کون کرے گا؟ شاہد خاقان عباسی کو ہی علم ہوگا۔ سابق وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ کہاں کہاں کی دیواروں کے کان اور آنکھیں ہیں جانتے ہوں گے ایک سیانے نے ملاقاتوں کے بارے میں کہا کہ دونوں جانب کے ’’بڑے‘‘ اور دونوں کے ’’بڑے‘‘ ملکی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اتحادیوں کے بارے میں اپنے یقین کو یقین کامل میں بدلنے کے لیے ہر کارے دوڑائے گئے انہوں نے اپوزیشن کے اندر کی خبریں باہر نکالیں اسی طرح اپوزیشن کو بھی اتحادیوں کے تحفظات مطالبات اور حکومت کے اتحادی رہنے کی مجبوریوں کا پتا چل سکا۔ بات دونوں جانب نہیں بنی، ہاں البتہ دونوں جانب کے مخبروں کی بن آئی، صورتحال کلیئر نہ ہوسکی۔ دلاور گروپ کے اختر مینگل کی طرح اپوزیشن کی حمایت کی آس امید بھی سینیٹ اجلاس میں اس وقت کرچی کرچی ہوگئی جب اس گروپ کے ارکان نے بھی حکومت کی حمایت میں ووٹ دیے۔ واضح ہوگیا کہ جہانگیر ترین کا جہاز وقت آنے پر بھی اپنا روٹ تبدیل نہیں کرے گا۔ ان کے ارکان کا کہنا ہے کہ ہم تو سٹیٹ کے حامی ہیں اور جب تک حکومت سٹیٹ سے مخلص رہے گی ہم حکومت کے ساتھ ہوں گے کسی نے کہا تھا عظمت کردار گر جائے تو سر سے دستار گرنے کا پتا نہیں چلتا۔ اپوزیشن کی آنیاں جانیاں بیکار ابھی وہ ہوا نہیں چلی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’کوئی بچنے کا نہیں سب کا پتہ جانتی ہے کس طرف آگ لگانی ہے ہوا جانتی ہے‘‘ جہاں تک تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا تعلق ہے ملک کی تاریخ میں اب تک دوبار وزرائے اعظم کے خلاف تحریکیں لائی گئیں لیکن دونوں بار اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1989ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک 12 ووٹوں سے ناکام ہوگئی۔ جبکہ 2006ء میں شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی 172 ووٹ پورے نہ ہونے پر ناکام ہوگئی۔ اب بھی وہی صورتحال ہے کہ 172 حکومتی ارکان کے مقابلے میں 173 یا اس سے زیادہ ووٹ درکار ہوں تو اپوزیشن کامیاب ہوسکتی ہے۔ تحریک عدم اعتماد میں بد اعتمادی اثرات بلاول بھٹو اور پی ڈی ایم کے لانگ مارچ اور مہنگائی مارچ پر بھی پڑ سکتے ہیں تاہم مہنگائی کا اژدھا جس تیزی سے غریب عوام کو نگل رہا ہے اگر مہنگائی مارچ میں عوام سڑکوں پر نکل آئے تو معاملات بگڑ سکتے ہیں تاہم اس کے لیے اپوزیشن کے اتحاد اور کوئی مضبوط قیادت کی ضرورت ہوگی۔ ن لیگ سڑکوں پر نکلی تو اسے نواز شریف کی کمی محسوس ہوگی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کو کھپے کھپے کا نعرہ لگانے والے آصف زرداری کو ٹرک پر سوار کرانا ہوگا۔ ان تمام حالات کے مشاہدے کے باوجود شاہراہ دستور کے قرب و جوار میں رہنے والے اہل بصیرت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اپنا خون گرم رکھنے کے لیے ہاتھ پائوں مار رہی ہے جبکہ اوپر والے کچھ اور سوچ رہے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.