گرین گروتھ ، گرین انقلاب

4

انسانی زندگی کا دارومدار صاف ہوا، پانی اور خوراک پر ہے۔ جب تک یہ تینوں چیزیں خالص تھیں تو حضرت انسان کی طبعی عمر نہ صرف زیادہ تھی بلکہ وہ آج سے زیادہ صحت مند اور توانا بھی تھا۔ آج بھی کسی صحت مند بابے سے طویل عمر کا راز معلوم کیا جائے توجواب آتا ہے ’’خالص خوراکاں کھادیاں نیں‘‘۔ لیکن جوں جوں دنیا نے ترقی کی بڑے کارخانے وجود میں آئے تو انسانی زندگی سے خالص پن کم سے کم تر ہوتا گیا۔ صنعتی ترقی کے ساتھ نئے شہروں کے وجود نے جنگلات اور زرعی زمینوں کے جگہ لے لی۔ بڑھتی آبادی کے باعث ایک طرف خوراک پورا کرنے کا چیلنج ہے تو دوسری جانب فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں صاف ہوا کو آلودہ کر رہا ہے۔ گرین ہاؤس گیسز کے ڈیٹا کے مطابق فضا میں موجود گیسز کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ مختلف گیسز کے اخراج کے نتیجے میں پچھلے 100 برس میں دنیا میں بہت تیزی سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس کی زیادہ تر ذمہ داری بڑے صنعتی ممالک پر ہے۔ لیکن اس کے نتائج ان ممالک کو بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں جو بنیادی طور پر زرعی معیشت رکھتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے ذمہ داران میں جی ایٹ ممالک سر فہرست ہیں۔ یہ ممالک کسی طرح بھی اپنے صنعتی پھیلاؤ کو کم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ صنعتی دھواں اور فضلہ ، زرعی زمینوں کے لئے کھاد کی بڑے پیمانے پر تیاری ، تیل سے چلنے والی ٹرانسپورٹ، بجلی بنانے والے کارخانوں کی حدت اور کنکریٹ کے شہروں کی تعمیر کا اس تباہی میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔ عالمی تھنک ٹینک ’جرمن واچ‘ کی رپورٹ کے مطابق 2000 سے 2019 تک دو دہائیوں کے دوران شدید نوعیت کے موسمی حالات اور قدرتی آفات کے باعث عالمی معیشت کو 2.56 کھرب امریکی ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔اپنے ملکوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے ان بڑے ممالک نے یہ کام ضرور کئے ہیں۔ ایک تو گرین انقلاب پر کام کیا۔ جس سے نہ صرف ان کی غذائی ضروریات پوری ہوئیں بلکہ صاف آب و ہوا بھی میسر ہے۔ دوسرا جن صنعتوں سے آلودگی زیادہ پھیل رہی تھی اسے تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں منتقل کر دیا۔ اس سے دوفائدے لئے ، ایک اپنی قوم کو صاف ماحول دیا دوسرا انہیں سستی لیبر اور خام مال بھی میسر آ گیا جس ان کی دولت میں مزید اضافہ
ہوا۔ ترقی پذیر ممالک کی مجبوری یہ تھی کہ ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لالچ میں زیادہ سے زیادہ فیکٹریاں لگائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ماحول کو صاف رکھنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا۔ اس دوڑ میں شامل مشرقی ایشیا سے چین ، میانمار، تھائی لینڈ ، ملا ئیشیا ، انڈونیشیا اور جنوبی ایشیا سے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کا شمار دنیا کے آلودہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ گو کہ پاکستان صنعتی اعتبار سے مذکورہ بالا ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ لیکن اس خطے میں ہونے کی وجہ سے ان اثرات سے باہر نہیں ہے۔ حال ہی میں لاہور کو دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا ہے۔ انہی موسمی تغیرات کے نتیجے میں صوبہ سندھ کا شہر جیکب آباد ایشیا کا پہلا اور دنیا کا دوسرا گرم ترین شہر بن چکا ہے۔ جرمن واچ کے گلوبل کلائمیٹ انڈیکس میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک پاکستان کو عالمی تنظیموں کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔جرمن واچ نے رپورٹ میں کہا ہے کہ فلپائن اور ہیٹی کے بعد پاکستان دنیا میں موسمی حالات کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات سے سب سے زیادہ اور مستقل طور پر متاثر ملک ہے۔ پاکستان کی جی ڈی پی کے ہر یونٹ پر اعشاریہ 52 فیصد نقصان موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہو رہا ہے اور 19 سال میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے 173 قدرتی آفات رونما ہوئی ہیں۔ صرف 2010 کے سپر فلڈ کے نتیجے صرف معاشی نقصان کا پانچ ہزار ارب سے زائد کا تخمینہ لگایا گیا۔ 2010 کے بعد تقریباً ہر سال پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے میں سیلاب آتا ہے۔ ان موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے مون سون کی بارشیں اور گلیشیئر پگھلنے سے ایک طرف سیلاب سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ دوسری جانب پچھلے چند برس میں قحط و خشک سالی، ہیٹ ویوز ،ٹراپیکل سائیکلون اور سمندر کی بلند ہوتی سطح کے خطرات ہماری صاف ہوا ، خالص خوراک اور پانی چھین رہے ہیں۔ جرمن واچ کی رپورٹ کے مطابق 2050 تک پاکستان کے اندر تقریباً 8 لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔ جس تیزی سے یہ انسانی المیے جنم لے رہے ہیں حکومتی منصوبہ بندی کی رفتار اتنی ہی سست ہے۔ تحریک انصاف حکومت کا بلین ٹری منصوبہ 2015 میں فعال کیا گیا۔ اس منصوبے پر خاصی تنقید کی گئی کہ یہ منصوبہ زمین سے زیادہ کاغذوں میں پایا جاتا ہے۔ جن تصدیق جرمن واچ کی رپورٹس سے بھی ہوتا ہے۔ حال ہی میں تحریک انصاف کی پنجاب حکومت 46 کلومیٹر کی پٹی پر راوی اربن سٹی بنانے جا رہی ہے۔ اس میں ایک سمارٹ جنگل بھی بنایا جائے گا جس میں ایک کروڑ درخت لگائے جائیں گے۔ جو کہ ایک خوش آئند بات ہو گی۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو اس سے صرف لاہور کو فائدہ ہو گا۔ جبکہ صاف ہوا، خوراک اور بہتر موسم پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ میرا خواب ہے کہ یہ ملک تا قیامت سر سبز و شاداب رہے۔ ہم رہیں یا نہ لیکن ہماری آنے والی نسلوں کو ایک صاف اور خوشحال پاکستان ملے۔ میں حکومت اور اپوزیشن کو ایک بڑی تجویز دینا چاہتا ہوں۔ جسے میں اکثر جب بھی موقع ملے دوستوں اور مقتدر حلقوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں۔مجھے پاکستان کے طول و عرض میں سفر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ پاکستان میں موٹر ویز اور ہائی ویز کی لمبائی 13 ہزار کلو میٹر سے زیادہ ہے۔ نیشنل ہائی ویز خاص طور پر موٹر ویز کے ارد گرد سرکاری زمین بلا مصرف پڑی ہے ۔ اگر حکومت تھوڑی سے توجہ دے۔صرف موٹر ویز کے ارد گرد جو قراقرم سے کراچی تک موجود ہے۔ قانون سازی کے ذریعے پر پہلی ترجیح میں کسانوں اور مزارعوں کو فی خاندان ایک کلومیٹر کا رقبہ 10 سال کی لیز پر بمعہ بنیادی سہولیات دے۔ حکومت اس منصوبے کو کو گرین گروتھ کا نام دے۔ قدرت نے پاکستان کو ہر طرح کا موسم اور پیداوار عطا کی ہے۔ اس منصوبے کی بنیادی شرط موسم اور خطے کے حساب سے پھل دار درخت اور پودے لگانا ہوں گے۔ اس کی مانیٹرنگ کی جائے جو شرائط پوری نہ کر سکیں انکی لیز کسی اور کو دے دی جائے۔ اور یہ بھی اہتمام ہو کہ یہ ریوڑیوں کی طرح اپنوں میں ہی نہ بانٹ دی جائیں۔ یقین جانیں یہ حکومت کے 46 کلومیٹر پر سمارٹ جنگل سے 100 گنا بڑا منصوبہ بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں خاندانوں کو روزگار ملے گا۔ اگلے 10 برس میں اس منصوبے کے تحت پھلوں کو محفوظ کر کے ایکسپورٹ کرنے کی بڑی صنعت وجود میں آ جائے گی۔ جس سے سالانہ کئی بلین ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لایا جا سکتا ہے۔ پاکستان نہ صرف اندورن ملک ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ پوری دنیا کو ذائقہ دار پھل بھی کھلا سکتا ہے۔ یہ منصوبہ موسمی تغیرات کو روکنے میں نہایت مددگار ہو گا۔ صرف گرین گروتھ منصوبے سے آنے والی نسلوں کے لئے خوراک ، ہوا اور پانی کا خالص پاکستان بنایا جا سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.