اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور عدم اعتماد

30

جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں پٹرول کی قیمت 160 روپے لٹر ہو چکی ہے۔ ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ بنا ہے اور اس کا تمام تر کریڈٹ موجودہ حکومت کو دینا چاہیے۔ پٹرول بڑھنے سے کیا کیا بڑھے گا اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ لگتا ہے کہ حکومت کی پرفارمنس اور گورننس کسی کے ہاتھ میں نہیں۔ جس کا جو جی چاہے کرے وزیراعظم نے سب کو چھوٹ دے رکھی ہے۔ ان کی حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے ایسے میں عوام کو سہولت دینے کا سوچا جاتا ہے مگر ہو اس کے الٹ رہا ہے۔ صحت انصاف کارڈ ہے ناں۔ دس لاکھ روپے لوگوں کی جیب میں ڈال دیے ہیں اور وہ فقیروں کی طرح ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اس کا تصور تو اچھا ہے مگر اسے چند بیماریوں تک محدود کرنے سے فوائد سے زیادہ نقصان ہو گا۔ عام بیماریوں اور ادویات کی خریداری کو بھی اس سے منسلک ہونا چاہیے تھا۔ ویسے یہ تجزیے بھی سامنے آئے ہیں کہ جتنی بڑی رقم اس صحت کارڈ کی مد میں نجی شعبے کو دی جا رہی ہے اس سے کئی سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال تعمیر ہو سکتے تھے جو عوام کو مفت میں سہولیات فراہم کرتے۔
حکومت شروع دن سے ہی مشکلات سے دوچار ہے۔طاقتور حلقوں کی آشیرباد سے عمران خان راج سنگھاسن پر بیٹھے تھے۔ پنجاب میں عملی طور پر مسلم لیگ ن جیت چکی تھی مگر طاقتور حلقوں کی مداخلت اور جہانگیر ترین کے جہاز کی اڑان نے چمتکار دکھایا اور پنجاب میں آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے ترین کے جہاز میں سوار کرا کے عمران کی جھولی میں پھینک دیے گئے۔ عمران نے اس سارے عرصہ میں پنجاب کو کیا دیا ہے؟ ایک لولی لنگڑی حکومت اور اس کا کنٹرول اسلام آباد سے ہوتا رہا۔ پنجاب میں ایسا کون سا کام ہوا ہے جس کو دکھا کر عوام سے ووٹ لیا جا سکتا ہے۔ صوبے میں مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کے کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ عمران خان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ لوگ امیر ہو رہے ہیں اور اس کا پیمانہ یہ بتایا کہ ان کی حکومت کے دور میں سب سے زیادہ موٹر سائیکل تیار اور فروخت ہو رہے ہیں۔ کوئی ان کو یہ بتانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کر رہا کہ حضور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام فیل ہو گیا ہے اور جتنے زیادہ موٹر سائیکل سڑکوں پر ہوں گے اتنی ہی زیادہ پٹرول کی درآمد کرنا پڑے گی۔ اس کا براہ راست اثر ڈالر پر پڑے گا۔ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
اپوزیشن کے لیے حالات بہت سازگار ہیں اور وہ حکومت کے خلاف صف بندی کر رہی ہے۔ جن حلقوں نے عمران خان کو مینڈیٹ دلانے میں مدد دی تھی وہ بھی ناراض ہیں۔ اپوزیشن چودھری شجاعت کے گھر پہنچ گئی ہے، مونس الٰہی نے عمران خان سے کہا ہے کہ گھبرانا نہیں لیکن ان کے بڑے یہ کہہ رہے ہیں کہ ابھی کچھ بھی حتمی نہیں ہے۔ جہانگیر ترین کے گروپ نے الگ سے بیٹھک لگا لی ہے وہ بھی اپنے مستقبل کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کریں گے کہ عمران خان کے دور میں انہیں
کھڈے لائن لگا کر رکھا گیا تھا۔ پھر معاملہ آنے والے انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کا بھی ہے۔ جہانگیر ترین گروپ کو کیا تحریک انصاف آئندہ انتخابات میں ٹکٹ دے گی یہ وہ سوال ہے جو اس وقت گروپ میں زیر بحث ہے اور اگر وہ تحریک انصاف کے خلاف چلتے ہیں تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ مسلم لیگ انہیں ٹکٹ دے گی۔ ترین گروپ گارنٹی کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرے گا۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے مخالف کے اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ یہ سیاسی ہتھکنڈے ہیں لیکن جوڑ توڑ جاری ہے اور شہباز شریف کو جوڑ توڑ کے لیے فری ہینڈ دے دیا گیا ہے۔
سچ بات یہ ہے کہ عمران خان نے پنجاب کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہیں تو اپنے دور میں پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے کو رول ماڈل بنا کر دنیا کے سامنے لانا چاہیے تھا مگر ان کے اس دور میں صوبہ ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف گیا ہے۔ کرپشن عروج پر ہے۔ لا اینڈ آرڈر قابو میں نہیں ہے اور اس کا اندازہ تبدیل ہونے والے آئی جی صاحبان کی مدت ملازمت سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ حکومت گرے گی یا تحریک چلے گی تو جناب بزدار صاحب تونسہ شریف چلے جائیں گے اس کا سارا بوجھ عمران خان کو اٹھانا ہے۔ عملی طور پر اسلام آباد سے پنجاب کو چلانے کا بیوروکریسی کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔ پنجاب کو چلانے کے لیے ایک مضبوط وزیراعلیٰ کا ہونا ضروری ہے اور وہ دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ اپوزیشن نئے انتخابات کے مطالبے سے ہٹ گئی ہے اور اب وہ اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا لانے کے لیے کوشاں ہے۔ پیپلز پارٹی کئی بار یہ کہہ چکی ہے کہ اس کا آغاز پنجاب سے کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نئے انتخابات کے حامی ہیں اور میاں نواز شریف بھی اسی سوچ کے حامل ہیں۔ ان دونوں کو منانے کا ٹاسک شہبازشریف کو سونپا گیا ہے لیکن اس میں دو سوال بہت اہم ہیں کہ عبوری مدت کے لیے وزیراعظم کون ہو گا اور کس پارٹی سے ہو گا۔ کیا صرف وزیراعظم کے خلاف ہی عدم اعتماد آئے گی یا قومی اسمبلی کے سپیکر اور چیئرمین سینیٹ کے خلاف بھی عدم اعتماد کے لیے کام کیا جائے گا۔ اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ حلقے غیر جانبدار ہو جائیں گے جو عین وقت پر اپنا وزن عمران خان کے پلڑے میں ڈال کر اپوزیشن کی شکست کا سبب بنتے ہیں۔ ان حلقوں کو کیوں کر راضی کیا جائے گا اور ان کی حمایت کے لیے کیا قربانی دینا ہو گی۔ یہ سال بہت اہم ہے کہ اس میں چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے اور انہیں دوسری ٹرم دلانے میں ساری سیاسی جماعتوں نے ووٹ دیا تھا۔ نیا آرمی چیف کون بنتا ہے اس پر بھی بحث جاری ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع کے لیے کوئی ترکیب نکالی جائے۔
یہ نظام اسی شکل میں بھی چلتا رہے تب بھی اپوزیشن کی جیت ہے کہ کہیں سے کوئی خیر کی خبر نہیں آ رہی اور جن لوگوں نے تبدیلی کا مزہ لینے کے لیے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا ان کا مزہ بھی کرکرا ہو چکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات نے بہت کچھ واضح کر دیا ہے۔ پنجاب میں جب بلدیاتی الیکشن ہو گا تو تحریک انصاف کو اپنی مقبولیت اور وزن کا بخوبی پتہ چل جائے گا۔
تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے اپوزیشن کو آٹھ مزید ارکان کی حمایت درکار ہے تاکہ 172 کے ہندسے کو عبور کیا جا سکے۔ مونس الٰہی نے عمران خان کو حوصلہ دیا ہے لیکن مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر موجود ہیں۔ اس سارے کھیل میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار انتہائی اہم رہے گا۔ اپوزیشن کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار رہے تو وہ آسانی سے حکومت کو زیر کر لیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار رہنے کی کوئی قیمت تو وصول کرے گی۔ یہ اسٹیبلشمنٹ ہی تھی جس نے اکثریت کے باوجود سینٹ میں اپوزیشن کو شکست سے دوچار کر کے اپنی اہمیت واضح کر دی تھی۔ ان حالات میں وہ بغیر کسی قیمت کے اپوزیشن کے ساتھ کسی مجبوری میں ہی کھڑی ہو سکتی ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک صرف ایک ہی صورت میں پیش ہو گی کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہو یا اپوزیشن سے ہاتھ ملا لے۔ نواز شریف کیا اس طرح کے کسی سمجھوتے کو قبول کر لیں گے جنہوں نے اپنی سیاسی جدوجہد اسٹبلشمنٹ کو اس کے کردار تک محدود کرنے کے لیے کی ہے۔ یہ بہت نازک وقت ہے اور اپوزیشن اور حکومت دونوں کو اپنے پتے بڑی احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا ہوں گے۔

تبصرے بند ہیں.