فکرِ غامدی کا مستقبل؟

74

معروف مذہبی سکالر جناب جاوید احمد غامدی کے فکر کو بعض لوگ مقبولیت کی تعداد سے متعلق کر کے ان کے فکر کی درستی یا نادرستی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ غامدی صاحب نے رائج اور مقبول ِعام فکر کے مقابلے میں نیافکر پیش کیا ہے، لہٰذا ان کے فکر ان کے خیالات کی پذیرائی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ ان کا فکر بتدریج فروغ پائے گا اور سوسال بعد مقبول ہوگا۔ اس حوالے سے جناب جاوید احمد غامدی نے ایک سوال کے جواب میں تبصرہ کیا جو ان کی ادارت میں شائع ہونے والے رسالے ماہنامہ اشراق فروری 2022 ء کے شمارے میں شائع ہوا ہے، جسے من و عن کالم میں پیش کیا جارہا ہے۔
’’میں دین کا ایک طلب علم ہوں۔ اس حیثیت سے دین سب سے پہلے میرا اپنا مسئلہ ہے۔ یہ میرے پروردگار کی ہدایت ہے جو سب سے پہلے میری ضرورت ہے۔ مجھے اسے اپنے لیے سمجھنا ہے اور اپنے لیے اختیار کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے اپنی قبر میں جانا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ لہٰذا یہ میرا مسئلہ ہی نہیں ہے کہ دنیا میری بات کو کیا حیثیت دیتی ہے؟ اسے قبول کرتی ہے یا رد کردیتی ہے؟آج کتنے افراد میرے ہم فکر ہیںاور کل ان میں کتنا اضافہ ہوگا؟ اس وقت لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں اور سو سال بعد کیا کہیں گے؟ان باتوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ دنیا پرودگار کی ہے۔اس پر اُسی کی بادشاہی قائم ہے۔وہ جانے کہ اُس نے آج کیا کرنا ہے اور وہ ہی جانے کہ اس نے سوسال بعد کیا کرنا ہے۔مجھے تو بس اپنی فلاح کی ، اپنی نجات کی فکر ہے۔ اس کے لئے مجھے دین کو سمجھنا بھی ہے اور اس پر عمل بھی کرنا ہے۔انسان کی حیثیت سے میرا کام اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ میں اپنے علم و عمل میں،اپنی جدوجہد میں، اپنے طریقہ کار میں، اپنے گفتگوئوں میں، اپنی تصنیفات میں اپنے اداروں میںاسی جگہ تک محدود رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔
اس کے بعد میں اگر لوگوں کو دین بتانے کا کام کرتا ہوںتو ادائے فرض کے لیے کرتاہوں۔ اللہ کا حکم ہے کہ اگرہمیں دین کا علم حاصل ہوتو اسے دوسروں تک پہنچائیں تاکہ وہ بھی اللہ کی گرفت سے محفوظ ہو سکیں۔ لہٰذا میں اسے اپنی دینی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ جب مجھ پر کوئی حقیقت واضح ہوجائے تو اسے ایک طالب علم کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کردوں۔یہ بتا دوںکہ اس کی نوعیت کیا ہے،اس کی بنیاد کیاہے، اس کا استدلال کیا ہے؟ پھر اس کا کوئی سوال یا اعتراض ہو تو اس کی تنقیح کرکے اس کا جواب دے دوں۔ اس سے زیادہ نہ کوئی میری ذمہ داری ہے اور نہ اس سے آگے بڑھ کر مجھے کسی چیز سے دلچسپی ہے۔
مستقبل کی پیشین گوئیاں کرنا میرا کام نہیں ہے۔ یہ چیز میرے ذوق کے بھی خلاف ہے۔ مجھ سے محبت رکھنے والوں نے اگر ایسی بات کی ہے تو میں انھیں بھی نصیحت کروں گا کہ اپنے اخروی مستقبل کی فکر کریں۔ دنیوی مستقبل کے بارے میں دعوے کرنا ہمارا منصب نہیں ہے۔ کل کس کا ذکر بلند ہوگا، کس کی بات مقبول ہوگی، کس کو پذیرائی ملے گی، یہ ہمارے سوچنے کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اللہ کے معاملات ہیںاور اسی کے علم اور اسی کے اذن پر منحصر ہیں۔ہمیں ان کے بارے میں فکر کرنے کی قطعاََ ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا وہ اپنی تمام تر توجہ دین سیکھنے، اس پر عمل کرنے اور اور حتی المقدور اُسے دوسروں تک پہنچانے پر صرف کریں۔
جان رکھیں کہ کسی نقطہ نظر کی مقبولیت یا نا مقبولیت اس کی درستی یا  نا درستی کا معیار نہیں ہے۔دنیا میں جب کوئی دعوت پروان چڑھتی ہے تو بعض اوقات اس کا سبب اللہ کا خاص فیصلہ ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی کسی حکمت کے پیش نظر کسی فکر کے فروغ کے اسباب پیدا فرما دیتے ہیں۔تاہم، عام حالات میں اس کا سبب دنیا میں کارفرما متعین عوامل ہوتے ہیں۔ یہ اگر کسی فکر کو میسر آجائیں تو اس سے اثر ونفوذ اور قبولِ عام حاصل ہوجاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ کوئی سیاسی نظریہ، کوئی سماجی نقطہ نظر، کوئی دینی فکر، کوئی مذہبی تعبیر جب دنیا میں عروج حاصل کرتی ہے تو اس کے پیچھے بہت سے دنیاوی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ جس نقطہ نظر کے حق میں وہ زیادہ جمع ہوجائیں، اسے فروغ مل جاتا ہے۔
یہ بات زیادہ قابلِ فہم ہوسکتی ہے، اگر اسے عام انسانوں اور تحریکوں کے پسِ منظر سے اوپر اُٹھ کر اللہ کے نبیوں کی دعوت کے تناظر میں دیکھ لیا جائے۔وہ عظیم لوگ جو پیغمبر بنا کر بھیجے گئے،جو نوع انسانی کے گُلِ سرسبد،نخل فطرت کے بہترین ثمر اور کمال انسانیت کے مظہر اتم تھے اورجن کی دعوت کی صحت اور صداقت ہر شک و شبہے سے پاک ہے،  اُن میں بہت سے ایسے ہیں جن کی دعوت کو ان کے سامنے تو کیا، ان کے بعد بھی قبول نہیں کیا گیا۔جن پیغمبروں کی دعوت قبول ہوئی ان میں سے ایک نام سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ اللہ کے نبیوں سے منسوب دعوتوں میں سے سب سے زیادہ فروغ آپؑ کی نسبت سے پیش کی گئی دعوت کو ملا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ فروغ اس وقت ملا جب سینٹ پال نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو ایک نئی صورت میں تبدیل کردیا۔ اس سے واضح ہے کہ کسی دعوت کا عروج اور کسی کا زوال یا ایک کی مقبولیت اور دوسری کی
نامقبولیت حق و باطل کا معیار نہیں ہے۔ اس کی بنا پر سہی اور غلط کا تعین نہیں کرنا چا ہیے میرا خیال ہے :عاقلاں را اشارہ کافی است۔
چناں چہ میں نہ لوگوں کی اکثریت کو معیار بناتا ہوں، نہ اقلیت کو،نہ اس کی تائید کو، نہ تردید کو۔ میرے نزدیک اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا میرا دل مطمئن ہے، کیا میرا ضمیر مطمئن ، کیا میں نے اپنی طرف سے نیت کی پاکیزگی کے ساتھ، دل کے اخلاص کے ساتھ اپنے پروردگار کے دین کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اسے بے کم و کاست بیان کرنے کی سعی کی ہے؟ میری تمام تگ و دو بس یہیں پر ختم ہوجاتی ہے، اس سے آگے کے کسی معاملے سے مجھے کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی۔
دنیا میں جو اصحابِ علم بھی ہیں، ان کی حیثیت معلم کی ہے۔ ان کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور اس مقصد کے لیے اپنی  بات دلیل سے پیش کریں۔ اس کے بعد ہی لوگوں کا کام ہے کہ وہ چاہیں تو اسے قبول کرلیں، چاہیں تو رد کردیں۔ لوگوں کو بھی اس معاملے میں ان کی تقلید کے بجائے علم کی تحصیل کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ وہ تمام علما کی بات کو سنیں اور سمجھیں۔ ان میں سے جس کی دلیل پر اطمینان ہو، اسے قبول کرلیں اور جس کی دلیل پر اطمینان نہ ہوں اسے چھوڑ دیں۔کسی صاحبِ علم کی ایک بات درست لگتی ہے تو لازم نہیں کی اس کی دوسری بات بھی درست محسوس ہو۔ممکن ہے کہ دوسری بات میں کسی دوسرے عالم کی رائے پر اطمینان ہوجائے۔ کسی عالم کی ایک رائے سے اتفاق اس کی باقی آراسے اتفا ق کو لازم نہیں کرتا۔ امت کے علما کو استاذ اور معلم سمجھیں ۔ اس سے بڑھ کر انھیں کسی مرتبے پر فائز نہ کریں۔ وہ سب دین کے خدام ہیں اور اس لحاظ سے بلا امتیاز واجب الاحترام ہیں۔ ہمیں اُن سے سیکھنا چاہئے اور محبت اور احترام کا تعلق قائم رکھنا چاہیے ‘‘۔

تبصرے بند ہیں.