بائے بسم اللہ

52

ہمدمِ دیرینہ محمد یوسف واصفی نے بہتر اشعار پر مبنی ایک منقبت کہی ہے، درِ شانِ علی ابنِ ابی طالبؓ! واصفی فکر و سخن کے دسترخوان سے انہیں بڑا لنگر دان ہوا ہے۔ مقامِ حیرت ہے، میزبان غیبت میں ہے، اور مہمان حاضر ہے۔ غیبت گویا حاضری کی میزبانی کر رہی ہے۔ آج علی الصبح انہوں نے تیرہ رجب المرجب، یوم ولادتِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے حوالے سے اسی منقبت کی بحر میں کہا گیا ایک شعر ارسال کیا، شعر کیا تھا، وجدان کا ایک ہفت خوان تھا۔ سچ پوچھیں تو یہ شعر ہی اس موضوعِ دلپذیر پر سخن آرائی کا محرک و موجب بنا۔
ہے تیرہ رجب یومِ عجب خوب گھڑی ہے
جب گھر میں خدا کے ہوا مہمان علی ہے
یوسف صاحب حیران ہیں کہ اس سرکردہ عنوانِ علم و فضل پر لوگ معرض و معترض کیوں ہیں، ستاروں کو ماننے والے آخر قطبی ستارے کی مرکزی حیثیت و معنویت تسلیم کرنے سے گریزاں کیوں ہیں۔ درحقیقت فضیلت بیان کرنے والے کو فضیلت ملتی ہے، فضیلت و تخصیص کے بیان میں خساست سے کام لینے والوں کے حصے میں خفت آتی ہے۔ کشف المحجوب میں ایک ایسا ذریں جملہ درج ہے، جو طالبانِ حق کے لیے سرمایہ سفر و حضر ہے، کم وبیش ایک عشرہ ہونے کو ہے، یہ جملہ برادرم ڈاکٹر اویس افضل کی زبانی سنا تو اس کی حقانیت دو چند روشن ہو گئی، بڑی دور دور تک راہ روشن ہوئی۔ فرمایا گیا کہ جوہرِ انسانیت بیان کرتے کرتے بیان کرنے والے پر یہ جوہر کھلنے لگتا ہے۔ یہاں سے اس فقیر نے یہ اخذ کیا کہ فضائل کا بیان فضیلت دے سکتا ہے۔ رومیؒ ہو، جامیؒ ہو، اقبالؒ ہو یا پھر واصفؒ، سب کے سب اہلِ حکمت و دانش فضائل علیؓ کے بیان میں رطب للسان ہیں، یک زباں و یک جاں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ درِ علم سے تمسک نے ان پر علم و حکمت کے در وا کر دیے ہیں، ان کے قلوب کسی طاہر ذات نے یوں مطہر کر دیے ہیں کہ انہیں کتابِ مکنون سے تمسک کا اذن مل چکا ہے۔
حضرت احمد بن شیعب بن علی، المعروف امام نسائیؒ 215ھ میں پیدا ہوئے، آپ ایسے معتبر اور قد آور محدثین میں سے ہیں کہ ان کی کتاب ’’سنن نسائی‘‘ صحاح ستہ میں شامل ہے۔ امام نسائیؒ نے ’’خصائصِ علیؓ‘‘ کے نام سے در شانِ علی ابن طالبؓ ایک ہزار سے زائد مستند احادیث مرتب کی ہیں، ان احادیث میں رسولِ کریمؐ کی زبانِ صادق و اطہر سے وہ ارشادات عالیہ نقل کیے گئے ہیں جو فضایل علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے باب میں صاحبِ ’’ما ینطقُ عن الھویٰ‘‘ نے فرمائے ہیں۔ یہ مجموعہ احادیث جب مکمل ہوا تو آپؒ نے چاہا کہ دمشق کی جامعہ مسجد میں اسے بیان کیا جائے۔ آپؒ مسند پر رونق افروز ہوئے اور تفضیلِ علیؓ کا بیان شروع کیا— لیکن عہدِ ملوکیت میں جبر و استبداد کے پہرے سوچوں تک محیط ہو جاتے ہیں، اموی سپاہیوں نے اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں اس ضعیف مگر وجیہ صورت وجود کو اس قدر بے دردی سے زد و کوب کیا کہ آپؒ کی حالت زخموں سے غیر ہو گئی اور آپؒ نے وصیت کی مجھے مکہ لے جایا جائے، چنانچہ مکہ پہنچتے ہی آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ایک قولِ علی ابن ابی طالبؓ کا مفہوم خانہ یادداشت میں یوں موجود ہے کہ جو ہم اہلِ بیت سے محبت کرتا ہے اسکی طرف دنیاوی مصآئب و آلام ایسے تیزی سے آتے ہیں جیسے پانی نشیب کی طرف عود کر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک قولِ بوترابؓ یہ بھی ہے کہ ہماری فضیلت ہمارے غیر کے سامنے بیان نہ کرو۔ سبحان اللہ! ہم ایسے کمزور اہلِ ایمان کے لیے یہ کیسی بچت کی راہ ہے کہ جہاں فضیلتِ اہلِ بیت سے اعراض کرنے والے پائے جائیں وہاں اپنا دفترِ حکایاتِ فضیلت سمیٹ لیا جائے۔ فضیلت کا انکار کرنے والا تعصب میں ہوتا ہے اور تعصب انسان کو اندھا کر دیتا ہے، وہ اپنے عیب دیکھ سکتا ہے، نہ کسی دوسرے کی صفت ہی اسے دکھائی دیتی ہے۔
بائے بسم اللہ کی شرح میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، پہلے اس کی بابت وہ دیکھیے جو خود امیر المومنین امام المتقینؓ نے فرمایا ’’یقیناً جو کچھ قرآن میں ہے وہ (سورہ) فاتحہ میں ہے اور جو کچھ فاتحہ میں ہے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم میں ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ اس (کی) باء میں ہے اور جو کچھ اس (کی) باء میں ہے وہ اس (کے) نقطہ میں ہے اور میں اس باء کے نیچے نقطہ ہوں‘‘۔ یہ بات اس حدیث پاک سے متصل ہے جس میں رسولِ کریمؐ نے فرمایا’’علی قرآن کے
ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے‘‘۔ مستند احادیث میں رسولِ کریمؐ کا یہ قولِ کریم بھی در حقانیت علی ابن ابی طالبؓ درج ہے ’’علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے‘‘۔ ان دونوں احادیث میںحضرت علیؓ کا قرآن اور حق کے ساتھ ہونا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ بات انتہائی غور طلب کہ حق اور قرآن بھی علیؓ کے ساتھ ہے، قرآن اور حق ہمیشہ کے لیے ہیں، ہمیشہ رہیں گے، اب تاقیامت قرآن کی تفسیر کیلئے اور حق کی تعبیر کے علی ابنِ ابی طالبؓ کے در کا طالب ہونا پڑے گا، یہی در کھٹکھٹانا پڑے گا۔ رسولِ کریمؐ کا فرمانِ عالی شان ہے ’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے‘‘۔ اگر مطلق علم کو ذاتِ توحید سے تعبیر کیا جائے تو شہرِ علم، رسالت مآبﷺ کی ذاتِ بابرکات ہے، اور اس علم کے شہر میں داخل ہونے کا راستہ ولایتِ علیؓ ہے۔ اس فقیر نے اس
بات کو یوں سمجھا ہے کہ توحید کا آسمان اس قدر بلند اور وسیع ہے کہ مخلوق اس میں تنہا سیر نہیں کر سکتی، جب تک کہ اسے رسالت مآبؐ کا وسیلہ میسر نہ آئے، اسی طرح آسمانِ رسالت بھی اتنا عمیق اور ہمہ جہت ہے کہ اس میں بامعنی رسائی کے لیے ولایت کا واسطہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کتاب سے کماحقہ ذات کا تعارف ممکن نہیں ہوتا، ذات سے ذاتی تعارف بالواسطہ بوسیلۂ ذات ہی میسر آتا ہے۔ ذات ہی ذاتی تعلق کی خوشبو سے متعارف کراتی ہے۔ بائے بسم اللہ کا ذکر تواتر سے اہلِ علم و حکمت کی تحاریر میں رقم ہوتا رہا۔ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ ’’رموزِ بیخودی‘‘ میں بائے بسم اللہ کا ذکر یوں کرتے ہیں۔
آں امامِ عاشقاں پُورِ بتُولؓ
سَروِ آزادے زِبُستانِ رسُولؐ
اللہ اللہ بائے بِسم اللہ پِدرؓ
معنیٔ ذبحِ عظیم آمد پِسرؓ
(وہ عاشقوں کے اِمام (امام حسینؓ) حضرت فاطمۃ الزہراؓ کے فرزند اور رسولِ کریمؐ کے باغ کے ایک سروِ آزاد ہیں۔ سبحان اللہ، کیا کہنے، باپ (حضرت علیؓ) بسم اللہ کی باء ہیں تو بیٹا ذبح عظیم کی شرح ہے۔ ذبح عظیم قرآنی تلمیح ہے۔
قرآن کریم ایسی کتابِ ہدایت ہے جس کے بارے میں کوئی شبہ نہیں، لیکن ایک تخصیص یہاں پہلے سے قائم کر دی گئی ہے کہ اس کتابِ ہدایت سے ہدایت انہیں ہی میسر آئے گی، جو متقی ہیں۔ حضرت علی ابن ابی طالبؒ امام المتقین ہیں۔ آپؓ کے کردار کی اقتدا کرنے والے مقتدی ہی نورِ ہدایت سے فیض یاب ہیں، یہ ہیں جو ’’زمرہ لایحزنوں‘‘ ہیں اور در جملہ ’’کونو مع الصادقین‘‘ ہیں۔ یہ ہیں وہ جو حق کی اور صبر کی سلسلہ در سلسلہ وصیت کرتے جاتے ہیں، یہی ہیں وہ استثنا کے حامل انسان جو ازلی خسارے سے ماورا ہیں۔ ’’ھل اتیٰ‘‘ سے ’’ان اللہ اشترٰی‘‘ تک حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شان میں قرآن کریم کی اتنی آیات نازل ہوئی ہیں کہ مفسیرین ابھی تک شمار کر رہے ہیں۔
آپؓ کے لیے ذوالفقار نازل ہوتی ہے، جنگ خندق کے موقع پر رسولِ کریمؐ نے آپؓ کو ’’کلِ ایمان‘‘ فرمایا۔ آپؓ خیبر شکن ہیں، اہلِ یہود آج بھی اپنے زخم نہیں بھولے، وہ وہیں پر وار کرتے ہیں جہاں حبِ علیؓ کے متوالے موجود ہوں۔ سرزمینِ پاک سایہ بوترابؓ ہے، محمدؐ اور علیؓ کے ہاتھوں کا لگایا ہوا ایک چمن ہے، دشمنانِ دین پہلے دن سے اسے تاراج کرنے کے درپے ہیں۔ بدر سے حنین تک علیؓ کی شجاعت کا عَلم نصب ہے۔ شجاعت آپؓ کے گھر کی باندی ہے۔ آپؓ کا نامِ نامی ہی ایسا ہے کہ اس کے زیر و بم سے دلوں کی دھڑکن ایک نئی ترتیب سے آشنا ہو جاتی ہے۔
رسول کریمؐ نے فرمایا ’’اے علی! تمہاری اور میری نسبت ایسی ہے جیسے موسیٰؑ کی ہارونؑ کے ساتھ، مگر اس فرق کے ساتھ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ آپؓ مظہر العجائب ہیں، آپؓ کے فقر پر رسولِ کریمؐ نے فخر کیا۔ میدانِ جنگ ہو، مسندِ قضآ ہو، کتاب ہو یا پھر خطاب، ہر جا علیؓ کا علم لہرا رہا ہے۔ بلاغت کی نہج آپؓ ہی کے کلماتِ فصاحت ہیں۔ ’’سلونی سلونی‘‘ آپؓ کا منبر ہے۔ خطبہ غدیر میں علی ابن طالبؓ کا تعارف پوری امتِ مسلمہ سے کرا دیا گیا۔۔۔ ’’من کنت مولی فھٰذا علی مولا‘‘۔ اس کی تشریح میں دائیں بائیں کی شرح میں آئیں بائیں شائیں کرنے والوں کے لیے مولانا رومؒ نے ایک شعر کی صورت میں ایک حتمی وضاحت کر دی ہے۔ مفہوم اس شعر کا یوں ہے، اے ملا! تُو پریشان ہوتا ہے کہ مولا کا مطلب یہ ہے اور یہ نہیں، بس اتنا جان لے کہ جن معنوں میں رسولؐ نے خود کو مومنوں کا مولا کہا ہے، ان ہی معنوں علیؓ بھی مومنوں کے مولا ہیں۔ سب ولی علیؓ کی یاد میں پائے گئے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ نے کہا:
علیؓ کی یاد ہے واصف علی یو
علیؓ خود اس زمین کا آسمان ہے

تبصرے بند ہیں.