نیپلزکے کلیہ علوم شرقیہ میں

8

نیپلز یونی ورسٹی دیکھنے کا ارادہ آغازِسفرسے تھا، اس لیے میں ابھی یونان ہی میں تھا جب سفیر پاکستان جناب خالدعثمان قیصرنے روم میں پاکستانی سفارت خانے کو یہ پیغام پہنچادیاتھاکہ میں اٹلی آکر نیپلزیونی ورسٹی جاناچاہتاہوں ۔پاکستانی سفارت خانے کا پہلا جواب وہی تھا جو ہر پاکستانی سفارت خانے کا ہواکرتاہے۔’’ یونی ورسٹی والے اس طرح ملاقات کا وقت نہیں دیتے‘‘ بھئی جس طرح ملاقات کا وقت دیتے ہیں آپ اس طرح لے لیں ۔ سفارت خانے نے یونی ورسٹی حکام سے رابطہ کرنے کے بجائے آسان راستہ اختیارکیا اور نیپلز یونی ورسٹی میں برسرکار پاکستانی پروفیسر صاحب کے ذمے کام لگادیا۔ مجھے پیغام ملاکہ میں اگر پیریامنگل کو نیپلز آئوں تو یونی ورسٹی حکام سے میٹنگ ہوسکتی ہے۔ میںنے اس کے مطابق پروگرام بنایا اور میں اتوار کو اٹلی پہنچ گیاتاکہ پیرکو بہ اطمینان ملاقات ہو سکے۔ یہاں پہنچنے پر پیغام ملاکہ پیرکو نہیں منگل کوتشریف لائیں چنانچہ میںنے پیرکا دن روم میں گزارا۔ اگرچہ روم میں مجھے بخارنے آن لیاتھالیکن منگل کو نیپلزپہنچنے کا خیال بخارکے احساس پر غالب رہااورمیں پیر کو روم سے روانہ ہوکراسی شب نیپلز پہنچ گیا تاکہ منگل کومیٹنگ میں شرکت کرسکوں ۔ روم سے روانہ کرتے ہوئے پاکستانی سفارت خانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے نیپلزکے پاکستانی استاد صاحب کا فون نمبر دیا۔ پیرکی شب جب ان سے رابطہ کیا تو میرا ماتھا ٹھنکا۔ ان کی گفتگومیں خیرمقدمی عنصر کی جگہ گریزپائی غالب تھی ۔جب ان کی خدمت میں عرض کیاگیاکہ میں حسب ارشاد کل صبح یونی ورسٹی آرہاہوں تو انھوںنے اپنے ہی دیے ہوئے دن یعنی منگل کے بارے میں فرمایاکہ منگل کوتو یہاں کوئی استاداورکوئی طالب علم نہیں ہوتا۔ہرطرف ویرانی ہوتی ہے آپ منگل کویہاں آکرکیاکریں گے ؟میں توان کے بتائے ہوئے منگل کا انتظارکرکے یہاں تک پہنچاتھااور بچوں کی مشہورنظم Monday’s Child کے مطابق میراخیال تھاکہ منگل کا بچہ (Tuesday’s child). توبہت پرکشش( full of grace) ہوگا لیکن یہ تو ہسپانوی روایت کے مطابق نامبارک یاہماری روایت کے مطابق’ ناغے کادن‘ ثابت ہورہاتھا۔اب میرے پاس اورکوئی آپشن نہیں تھاچنانچہ میں ان کی حوصلہ شکن گفتگواور اپنی ناساز طبیعت کے باوصف ،’’خالی‘‘ اوران کے بہ  قول’’ ویران‘‘ یونی ورسٹی سے ملنے کے لیے منگل کی صبح کونیپلزیونی ورسٹی پہنچ گیا۔
اس قدیم یونی ورسٹی کے بارے میں میرے کچھ تصورات تو وہ تھے جن کاتعلق میرے متخیلہ سے تھااور کچھ وہ جو پاکستانی پروفیسرصاحب کی جانب سے پیداکی گئی ’’ویرانی‘‘کا نتیجہ تھے لیکن جب میں یہاں پہنچاتو ہردوطرح کے تصورات کو دھچکالگا۔مغربی یونی ورسٹی کے تصور کو پہنچنے والے صدمے کا بیان پہلے ہوچکاہے جہاں تک بتائی گئی ’’ویرانی‘‘کا تعلق تھاتومیں یہ دیکھ کر حیران رہ گیاکہ میں ایک بھرپور دن میں یونیورسٹی آیا ہوں اور ہر جانب طالب علموں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے ہیں۔ اساتذہ آ جا رہے ہیں، لفٹ میں سوار ہونے کے لیے پہلے سے منتظر لوگوں کی روانگی کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ لفٹ ہی میں مجھے ایک ایسے اطالوی استاد مل گئے جنھیں مخطوطات سے دلچسپی تھی۔جب میں نے انھیں بتایاکہ میں بھی مخطوطات ایڈٹ کرتارہاہوں تو انھیں بہت دلچسپی پیداہوگئی اور انھوںنے میرے میزبان پاکستانی پروفیسرصاحب سے اطالوی زبان میں کچھ کہا۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ کہہ رہے ہوں ’’کہ انھیں میرے کمرے میں بھی لے کر آئیں ‘‘لیکن ہمارے میزبان کے خیال میں تو آج کوئی طالب علم تھا نہ کوئی استاد…وہ ہمیں ان کے کمرے میں کیسے لے جاتے یاان کے کمرے میں لے جانے کی تجویزسے کیسے اتفاق کرتے ؟…جب ہم اپنے اجباری  ’’میزبان ‘‘کے کمرے میں پہنچے تو پہلے تو مجھے پاکستانی یونی ورسٹیوں میں پروفیسروں کے جدید ترین سہولتوں سے آراستہ عالی شان کمروں کی یاد آئی جن میں ضروری سامان کے ساتھ ٹی وی ،فریج اور واٹرڈسپنسر جیسا سامان ِراحت بھی ہوتا ہے ،کلرک اورنائب قاصد بھی خدمت کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ راقم نے یورپ کے یونی ورسٹی پروفیسروں کے پاس ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا۔ پاکستانی پروفیسروں کے کمروں کے مقابلے میں یہ کمرہ کسی طرح بھی کابک سے بڑھ کرنہ تھااور کابک بھی وہ جس میں دو کبوتر رہتے ہوں۔ بخاراور بلندی کے باعث میرا گلا سوکھا جا رہا تھا۔ میںنے کمرے میں پہنچ کر پانی پینا چاہا تو معلوم ہواکہ یہ یورپ ہے یہاں ہر کمرے میں واٹر ڈسپنسر نہیں ہوتے ۔آپ کو پانی پینا ہو تو بازارسے ایک یوروکی بوتل لانا پڑتی ہے اورکمرے کے باہر کوئی حاجب و دربان بھی نہیں ہوتا۔ اس لیے پانی کی بوتل یاچائے کچھ بھی لانے کے لیے پروفیسرصاحب کو بہ نفس نفیس خودزحمت فرماناپڑتی ہے ۔میرے میزبان اٹھے اور کسی سٹورسے ایک یوروکی پانی کی بوتل لینے روانہ ہوگئے ۔ان کا کمرہ کسی اور منزل پر تھااور غالباً سٹور کسی اور منزل پر چنانچہ ان کے روانہ ہوجانے کے باعث ایک طویل وقفہ……اس وقفے کے دوران مجھے ان کے ہم نشین پروفیسرصاحب سے گفتگوکا موقع مل گیا۔وہ کلاسیکی فارسی لسانیات کے ایک پروفیسرتھے ۔اگرچہ ہمارے میزبان محترم نے انھیں اس طرح نظراندازکیاتھاکہ ہمارے درمیان بعدالمشرقین قائم ہوجائے لیکن اب میزبان محترم کے غیاب کے باعث ہمیں ان اطالوی پروفیسر صاحب سے گفتگوکا موقع مل گیا۔اطالوی پروفیسر اور وہ بھی استادِ زبان ِفارسی۔ اندھا کیا چاہے  دو آنکھیں۔ خدابھی شکرخورے کو شکر دے ہی دیتاہے اب میری تو پانچوں گھی میں تھیں۔وہ Gian Pietro Basello تھے ۔ ان کی میز پر ایران کے جدید علمی اداروں فرہنگستان وغیرہ کی شائع کردہ کتابیں رکھی تھیں ۔ یہ کتابیں دیکھ کر میرے منہ میں پانی آنے لگا۔میںنے ان سے پوچھا کہ آج یونی ورسٹی میں کس بات کی چھٹی ہے ؟تواس سوال پر انھیں بہت تعجب ہوا۔ان کا کہناتھاکہ منگل کا دن تو بہت بھرپوردن ہوتاہے، چھٹی کیسی ؟اس سلسلے میں مزیدسوال اپنے پیٹ سے کپڑااٹھانے کے مترادف تھا۔اس لیے میں خاموش ہورہا۔جب میںنے انھیں اپنی آمدکی غرض و غایت بتائی کہ میں آپ کی یونی ورسٹی کے اپنی یونی ورسٹی کے ساتھ روابط قائم کرناچاہتاہوں اور چاہتاہوں کہ ہم اس سلسلے میں باہمی تعاون کا کوئی معاہدہ ( ایم اویو)کرلیں تو وہ بہت خوش ہوئے اور انھوںنے کہاکہ یہ تو بہت اچھاارادہ ہے ۔میںنے کہالیکن افسوس کہ آج کسی سے ملاقات نہیں ہوسکتی۔ انھوںنے کہاکہ ’’ کیوں؟‘‘ ملاقات کیوں نہیں ہوسکتی ؟بالکل ہوسکتی ہے اور انھوںنے اسی وقت مجھے فارسی اور عربی کے اساتذہ ؛پروفیسر Natalia Turneselloپروفیسر Michele Bernardiniنیزپروفیسر Roberto Tottoliکے نام لکھ کر دے دیے لیکن پیشتر اس سے کہ میں اُن سے اِن اساتذہ کے فون نمبر بھی مانگتا،میرے میزبان محترم، ایک یوروکی پانی کی بوتل خریدکر فاتحانہ واپس آگئے ۔پانی بہت ٹھنڈاتھااس لیے میں اس کا ایک قطرہ بھی اپنے خشک حلقوم میں نہ ٹپکاسکاتاہم انھوںنے آتے ہی ہمارے براہ راست رابطے کی راہ کھوٹی کردی ۔میںنے جب اظہارِمسرت کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے ہم نشین تو فارسی کے پروفیسرہیں تو انھوںنے بڑے حوصلہ شکن اندازسے جواب دیاکہ جی نہیں یہ فارسی زبان کے نہیںفارسی لسانیات کے استاد ہیں۔اس جواب میں یہ اشارہ پنہاں تھاکہ
ادھر نہ دیکھ ادھردیکھ اے جوان ِعزیز…

تبصرے بند ہیں.