ایک دھیلے کی کرپشن نہیں کی، دو سال تک تحقیقات کی جاتی رہیں، شہباز شریف

22

لاہور: شہباز شریف نے کہا ہے کہ سارے ادارے ملکر الٹے ہو گئے لیکن کچھ نہیں نکلا اور قبر میں بھی چلا جاؤں لیکن حقائق کبھی بھی نہیں بدلیں گے۔

احتساب عدالت میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ پونے دو سال سے تحقیقات جاری ہیں اور حکومت اکاؤنٹ فریز کراتی رہی ایک دھیلے کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی موجود ہے اور مجھے نیب کے عقوبت خانے میں رکھا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے اور سلمان شہباز کیخلاف وہاں تحقیقات ہوئیں اور میں نے غریب الوطنی میں وہاں سوچا کہ کچھ کماؤں کیونکہ میں نے ملکہ برطانیہ کے سہارے تو نہیں رہنا تھا اور میں نے وہاں رہ کر اثاثہ بنایا جس کا سارا ریکارڈ موجود ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان تحقیقات میں 14 ہزار بینکنگ ٹرانسیکشنز کو کھنگالا گیا، حیرت انگیز تفصیلات سامنے آئیں، مقصود، شہباز شریف کی مل میں چپڑاسی تھا، اس کی تنخواہ 25 ہزار روپے تھی اور اس کے نام پر اکاؤنٹ کھلا اور چار ارب روپے اس کے اکاؤنٹ سے ہوتا ہوا شریف فیملی کے اکاؤنٹس میں پہنچ گیا۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اور درجنوں دلچسپ وعجیب فراڈ شہباز شریف کے اس مقدمے کا حصہ ہیں، مقدمہ براہ راست دکھانے کی اجازت دی جائے۔

تبصرے بند ہیں.