یہ بازی عشق کی بازی ہے

48

زلفی بخاری جنہیں وزیراعظم عمران خان کی مونچھ کا بال سمجھا جاتا ہے انہوں نے گزشتہ ہفتے لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قصوروار صرف شہزاد اکبر نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کریں جو وزیراعظم کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دیتے رہے اور وزیراعظم کو یہ بتاتے رہے کہ شہزاد اکبر بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ زلفی بخاری خود بھی وزیراعظم کے معاون خصوصی تھے اور لوٹی گئی دولت کو واپس لانے کے یونٹ کے سربراہ تھے۔ ان کی تقریر کو سامنے رکھا جائے تو وہ خود بھی کٹہرے میں آتے ہیں۔ یہ استدلال کیونکر قبول کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی ڈیلیور نہیں کرے گا تو عمران خان اسے فارغ کرنے میں بالکل بھی نہیں ہچکچائیں گے۔ ساڑھے تین برس کے عرصہ میں وزیراعظم سمیت کس نے ڈیلیور کیا ہے؟ زلفی بخاری کی بات کو مان لیں تو پھر اس کا آغاز اوپر سے ہونا چاہیے تھا۔ ساڑھے تین برس میں شہزاد اکبر اور ان کے ساتھیوں نے ملکی خزانے سے بھاری تنخواہیں اور مراعات وصول کی ہیں اور چار چار گھنٹوں کی پاور پوائنٹس پریزنٹیشن دی ہیں اور اس کے نتیجہ میں برآمدگی صفر ہے۔ انہیں محض فارغ کرنا نہیں بنتا تھا بلکہ ان پر جو ملکی سرمایہ ضائع ہوا ہے اس کی برآمدگی کرنا چاہیے تھی تاکہ ان تمام افراد تک یہ پیغام جاتا کہ آپ کو بھاری تنخواہیں اور مراعات کام کرنے کے لیے دی جا رہی ہیں نہ کہ عوام اور حکومت کو بے وقوف بنانے کے لیے نوازا جا رہا ہے۔ کالج کے زمانے میں انگریزی کی ایک کہانی مسٹر خپل تھی جو اپنی باتوں سے راتوں رات محل تعمیر کیا کرتا تھا مگر نتیجہ صفر۔ اس حکومت نے تو اس طرح کے کئی مسٹر خپل بھرتی کر رکھے ہیں۔ صفر کو جمع کریں ضرب دیں یا تقسیم کریں نتیجہ ایک ہی نکلے گا۔
عمران خان کا بیانیہ پٹ چکا ہے۔ ایک پل کے لیے اس بات کو مان لیں کہ قوم نے انہیں ووٹ دے کر مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ ملک میں تبدیلی لے آئیں گے تو یہ حکومت وہ تبدیلی لانے سے قاصر رہی ہے۔ ہاں لوگوں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے، منہگائی کو کنٹرول نہ کرنے اور بیوروکریسی کو منہ زور کرنے کی تبدیلی ضرور آئی ہے۔ شائد ان میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ وہ کچھ کرتے اور جو ماہرین وزیراعظم نے اس دوران تیار کیے تھے وہ کاٹھ کے الو ثابت ہوئے جنہوں نے عمران خان کو بیوقوف  بنا رکھا ہے۔ عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کی کارکردگی اور صلاحیت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ شوکت خانم کی کامیاب مثال شائد اس لیے ہے کہ وہاں ان کا عمل دخل عملی طور پر موجود نہیں تو چل رہا ہے دوسرا ملک شوکت خانم ہسپتال کی طرز پر کیسے چل سکتا تھا۔ اس کی جہتیں اور ضروریات مختلف ہیں اور اس کے کام کرنے کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ ہمیں وزیراعظم سے اللہ واسطے کا بیر نہیں ہے بلکہ ہماری خواہش یہی تھی کہ وہ ڈیلیور کرتے اور ملک میں دو پارٹی نظام کی جو شکل موجود تھی اس کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کرتے مگر وہ عوامی حمایت سے زیادہ بیساکھیوں کے سہارے آئے اور انہی بیساکھیوں پر چل رہے ہیں۔ ترکی کی ایک کہاوت ہے کہ ایک مسخرہ جب محل میں داخل ہوتا ہے تو وہ پورے محل کو تھیٹر میں بدل دیتا ہے۔ یہ محاورہ لکھتے لکھتے اس لیے یاد آگیا کہ اس پر ترک صحافی کو پابند سلاسل کر دیا گیا۔ شکر ہے کہ پاکستان میں ابھی یہ صورتحال نہیں ہے۔ عمران خان اگر اپنی جماعت کو بڑی پارٹی بنانا چاہتے ہیں تو انہیں عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو آگے بڑھانا ہو گا ورنہ وہ لوگ جنہیں ہانک کر اقتدار کی بگھی میں سوار کرایا گیا تھا وہ کسی بھی وقت اتر سکتے ہیں۔ ہیلتھ کارڈ جس کا بہت زیادہ کریڈٹ لیا جا رہا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس پر عوام پیناڈول کی ایک گولی نہیں لے سکتے۔ کہنے کو ان کی جیب میں دس لاکھ موجود ہیں مگر عملی طور پر انہیں کچھ حاصل نہیں۔ علاج ان کی پہنچ سے باہر ہے۔ مہنگائی نے جینا دوبھر کر دیا ہے۔ تعلیم کے دروازے آہستہ آہستہ ان پر بند کر رہے ہیں اور سکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ بیرونی قرضے آسمان کو چھو رہے ہیں او ر حکومت کے وزیر مشیر دن رات لوگوں کو یہ کہانیاں سنا رہے ہیں کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔ ترقی ہو گی تو ساری دنیا کو نظر آئے گی۔ ان کے اردگرد موجود ٹولے نے یہ ہنر سیکھ لیا کہ صاحب کن باتوں سے خوش اور کن باتوں سے ناراض ہوتے ہیں سو وہ اپنا کمال دکھا رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے حلیف کچھ مجبوریوں کی وجہ سے ان کے ساتھ ہیں جس دن انہیں آزاد کر دیا گیا اور وہ اپنے فیصلے مرضی کرنے سے کرنے لگے سارا منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔ اس ملک میں جمہوریت ناکام نہیں ہوئی بلکہ زبردستی کی جمہوریت ناکام ہو رہی ہے اور ووٹ کے تقدس کو پامال کرنے کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے۔ جمہوریت کو پنپنے کا موقع ہی کب ملا ہے اور ریاست کے منہ زور ادارے جمہوریت کو اپنے تابع اور منشا کے مطابق چلانے کے گر آزماتے رہے ہیں۔ دو مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ مکے دکھا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے والا دبئی میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گذار رہا ہے اور دوسرا منصف اعلی جس نے سارے نظام کو تہہ و بالا کر دیا تھا وہ عوام میں جانے کی جرات نہیں کر سکتا اور چھپ کر زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔ وزیراعظم بننا ایک اعزاز ہے لیکن اس سے زیادہ یہ ذمہ داری ہے۔ عمران خان کو اگر یہ اعزاز نصیب ہوا تو وہ اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ کو محسوس کریں۔ وہ تو اس ریاست کے بنانے کا دعوی کرتے ہیں کہ جہاں پر ایک بھوکے کتے کی موت پر حکمران سے باز پرس ہو گی۔
جناب وزیراعظم، بہت اچھا، بہت خوب، ظل سبحانی جیسے القاب اور الفاظ کانوں کو بہت بھلے لگتے ہیں لیکن اپنے کانوں کو ان کا عادی نہ بنائیں۔ ان سے کام لیں اور جو کام کرنے کے اہل نہیں ہیں اور محض کہانیاں سنا کر وقت پورا کر رہے ہیں ان کو فارغ کریں گے۔ ظل سبحانی اپنی رعایا پر رحم کریں کہ وہ مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔ عوام کو ساتھ ملائیں گے تو کوئی اتحاد اور کوئی حلیف آپ کو بلیک میل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا۔ اپوزیشن کے مقابلے میں جلسے کرنے سے سیاسی درجہ حرارت ضرور اوپر جائے گا لیکن اس سے یہ تاثر بھی مضبوط ہو گا کہ آپ کی حکومت کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں اور آپ کے اتحادی دیگ پکنے کے منتظر ہیں۔ سب نے اپنا حصہ اپنے جثہ سے زیادہ وصول کیا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب یہ لوگ آپ کی صفوں سے نکل کر دوسری جانب کھڑے نظر آئیں گے۔ یہ منظر ماضی میں ہم نے دیکھ رکھے ہیں کہ راتوں رات کس طرح لوگ اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں۔ الیکشن قریب ہے اب نئی صف بندیاں اور نئے اتحاد بنانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ لوگ آج بھی بھٹو کو یاد کرتے ہیں۔ بے نظیر کے گھن گانے والے ملک میں بہت زیادہ ہیں اور نواز شریف کو جسے آپ اور آپ کی ٹیم نے قوم کا سب سے بڑا لٹیرا ثابت کرنے میں سارا وقت گذار دیا وہ اب بھی سیاست کے ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر موجود ہے۔ کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے، گیندیں کم اور اسکور زیادہ ہے۔ ایسے وقت میں ٹپ ٹپ کر کے گیندیں گذارنے سے میچ ہار جائیں گے۔ ذرا اپنے بازوؤں کی طاقت کو آزمائیں اور لمبی ہٹ لگائیں، نتیجہ یہی نکلے گا یا آپ کامیاب ہو جائیں گے یا باؤنڈری پر کیچ  ہو۔ تماشائیوں کو یہ کہنے کا موقع تو دیں کہ کیا خوب اننگز کھیلی ہے۔

تبصرے بند ہیں.