بلوچستان سلگ رہا ہے اور کشمیر۔۔

21

بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں نے سکیورٹی اداروں کی صلاحیت پر بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں کہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں اس قدر منظم حملے کیسے کر رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کرنے والی افواج بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا پہلے سے سراغ کیوں نہیں لگا سکیں۔ نوشکی اور پنجگور میں ہونے والے حملوں نے دہشت گردوں کی صلاحیت میں اضافے کی نشان دہی بھی کی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے کی بات کر رہے ہیں لیکن یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ دہشت گرد ایف سی پر منظم انداز میں حملہ کرنے میں کیسے کامیاب ہو چکے ہیں اور ان حملہ آوروں کو کہاں کہاں سے مدد مل رہی تھی۔ افغانستان اور ایران میں کون ان حملہ آوروں کی مدد کر رہا ہے۔ قوم کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی لیکن پاکستان میں ہونے والے حملوں کے تانے بانے افغانستان تک کیوں جا رہے ہیں اور اگر افغان طالبان دونوں طرف اپنے معاملات ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ان پر واضح کرنا ضروری ہے کہ آپ فیصلہ کریں کہ کس کے ساتھ ہیں۔
داخلہ اور خارجہ معاملات میں کمزوری کی وجہ سے پاکستان شدید مسائل سے دوچار ہے۔ ایک طرف ٹی ٹی پی سرگرم عمل ہے تو دوسری طرف بلوچستان میں دہشت گردی کی منظم کارروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ کئی حلقے اس پر بحث کر رہے ہیں کہ ریاست کے خلاف ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل دونوں میں یہ اشتراک موجود نہیں تھا۔ بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی کی کارروائیوں میں جس قسم کا اسلحہ استعمال ہوا اور جس انداز میں حملہ کیا گیا وہ اس کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان دہشت گردوں کو باقاعدہ تربیت دی گئی تھی۔ یہ تربیت گاہیں کیا بلوچستان میں موجود ہیں یا افغانستان اور ایران میں ٹریننگ کیمپ قائم ہو چکے ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے افغان طالبان نے پاکستان کے موقف کی تائید نہیں کی اور اب بھی ٹی ٹی پی کے پاس افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ افغان طالبان اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں تو پاکستان اپنی حفاظت کے اختیار کو استعمال کر کے خود ان کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز نہ کرے۔ یہ وقت دفاعی جنگ کا نہیں بلکہ آگے بڑھ کر ان پناہ گاہوں کو ختم کرنے کا ہے۔ اس جنگ میں حکومت کی کمٹمنٹ نظر آنی چاہیے اور اس مسئلہ پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا چاہیے۔
نوشکی اور پنجگور میں ہونے والے حملوں نے عام پاکستانی کو پریشان کر دیا ہے۔ ایک عرصہ سے بلوچستان میں فوجی آپریشن ہو رہا ہے اور عملی طور پر یہ صوبہ عسکری قیادت کے پاس ہے اس کے ساتھ ساتھ چین کی سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے اس صوبے میں امن ہونا بھی ضروری ہے ورنہ گوادر اور سی پیک کے منصوبے کھٹائی میں پڑ جائیں گے۔ سی پیک کے حوالے سے حکومت پر پہلے ہی شکوک ظاہر کیے جا رہے ہیں اور اگر ان حملہ آوروں کی پشت پناہی کرنے والے گروہوں اور افراد کے خلاف منظم کارروائیاں نہ ہوئیں تو یہ شکوک یقین میں تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز بھی کر دیا گیا۔ پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام لانے کی بات کون کر رہا ہے اور یہ سارا کچھ کس کے اشارے پر ہو رہا ہے۔ 1973 کے آئین کو ختم کرنا یا اس کی روح کے خلاف کسی دوسرے نظام کی کوشش کا مطلب اس ملک کو تقسیم کرنے کے مترادف ہو گا۔ 1973 کا آئین کس مشکل سے بنا تھا جسے سب نے قبول کیا تھا اب اس میں چھیڑ چھاڑ سے وفاق کی اکائیوں اور اس میں بسنے والے لوگوں کا ریاست پر اعتماد متزلزل ہو جائے گا اور ایسی صورت میں احساس محرومی جنم لے گا۔ اس قسم کی تحریک آئین پاکستان سے انحراف ہے اور جو طبقات اسے چلا رہے ہیں انہیں کٹہرے
میں لا کر ان کے خلاف ریاست مخالف سرگرمیوں میں شریک ہونے کے مقدمات درج کرنے چاہئیں۔ اس ملک کو مذاق بنانے کی روایت کر ختم کرنا چاہیے۔ آئین کا تقدس بحال رکھ کر لوگوں کے دل و دماغ کو جیتا جا سکتا ہے۔ ہم پہلے ہی بہت سی غلطیاں کر چکے ہیں اور مزید غلطیوں کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اس حکومت سے یہ امید ہرگز نہیں ہے کہ وہ کوئی ڈھنگ کا کام کرے گی کہ اس کی بصارت چند فٹ سے زیادہ نہیں ہے، یہ دور تک کیسے دیکھ سکتے ہیں مگر جن کے پاس دور تک دیکھنے کی صلاحیت موجود ہے وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔ ساحل اور وسائل پر حق کی بات ایک لاابالی نعرہ نہیں ہے بلکہ اپنے حقوق کی جنگ ہے۔ لوگوں کو یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ ساحل بھی ان کے ہیں اور وسائل بھی ان کی دسترس میں ہیں۔
ایک ٹی وی چینل پر یہ بحث ہو رہی تھی کہ بھارت کشمیر کا جواب بلوچستان میں دے رہا ہے۔ ان کی لاعلمی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہم نے کشمیر میں کیا کیا ہے۔ محض 5 فروری منا کر ہم نے اپنا فرض پورا کیا اور دوسری طرف بھارت کو ہر طرح کی مدد فراہم کی کہ وہ کشمیر پر اپنے قبضے کو مضبوط بنائے۔ کیا سیز فائر کر کے ہم نے بھارت کے کشمیر پر قبضے کو عملی طور پر قبول نہیں کر لیا۔ کیا ہم نے دانستہ طور پر کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل نہیں کر دیا۔ بھارتی جرنیل یہ بات کیوں کر رہے ہیں کہ پاکستان کو طاقت کے زور پر سیز فائر پر مجبور کیا گیا۔ بھارت بلوچستان میں بہت کچھ کر رہا ہے اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے مگر ہم کشمیر میں کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم صرف چاند ماری کر رہے ہیں یا دھوئیں کے بم چلا رہے ہیں۔ بلوچستان او ر کشمیر کے مسئلہ کو ایک دوسرے کے ساتھ نہ جوڑیں کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جس پر دعوے کے فریق ایک سے زیادہ ہیں جبکہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور اس پر کسی کے دعوے کو کیوں کر قبول کیا جا سکتا ہے۔
یہ تسلیم کر لیں کہ بلوچستان میں بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے اور یہ صرف بلوچستان کے اندر سے کنٹرول نہیں ہو رہا۔ سب کچھ باہر بیٹھ کر کیا جا رہا ہے لیکن انہیں بلوچستان کے اندر سے افرادی قوت مل رہی ہے۔ پہلے یہ گروہ اپنے ٹارگٹ پر حملہ کرتے تھے اور پہاڑوں میں چلے جاتے تھے مگر اس بار انہوں نے دو بدو جنگ کی ہے۔ ریاست کو بلوچستان کے حوالے سے اپنی صلاحیت کو بڑھانے سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کے دل و دماغ کو جیتنے کی کوشش کرے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ ان میں موجود احساس محرومی کو ختم کیا جائے۔ مشرقی پاکستان کے تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ خاکم بدہن اگر ہم اسی روش پر چلتے رہے تو کوئی بڑا سانحہ نہ رونما ہو جائے۔ بلوچستان کے حالات کا جائزہ لینا ہے تو لوگوں کے پاس جائیں اور انہیں یقین دلائیں کہ ہم سب ایک ہیں۔ وہ اس ریاست میں برابر کے شہری ہیں اور ان کو جن لوگوں نے غلام بنا رکھا ہے ان سے آزاد کرائیں۔ قبائلی نظام کے ہوتے ہوئے لوگ دہشت گردوں کے پاس کیوں کر جا رہے ہیں اس کا جواب تلاش کرنا بھی ضروری ہے۔

تبصرے بند ہیں.