ایران کی سب سے قابل اعتماد فورس میں بھی اسرائیلی جاسوسوں کا انکشاف،برطانوی میڈیا کا دعویٰ 

33

تہران :ایران کی  سب سے خطرناک فورس میں بھی اسرائیلی جاسوسوں کے دعوے نے ہر طرف تھر تھلی مچا دی ،یہ خبر اس وقت نکل کر سامنے آئی جب ایران کے انٹیلی جنس کے وزیر محمود علوی نے بھی یہ دعویٰ کا کہ جس مقام پر محسن فخری زادہ کو گولیاں ماری گئی تھیں اس مقام کی نشاندہی دو ماہ قبل ہی کر دی گئی تھی ۔

ایرانی انٹیلی جنس کے وزیر محمود علوی نے مزید بتایا کہ کہ قتل کی منصوبہ بندی کرنے والا شخص  مسلح افواج کا رکن تھا اور ہم مسلح افواج کے خلاف انٹیلیجنس آپریشن نہیں کر سکتے تھےلیکن انھوں نے یہ اشارہ دیا کہ مجرم، ایران کی سب سے اعلیٰ فوجی یونٹ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کا رکن تھا۔ اگر ایسا ہے تو یقیناً وہ ایجنٹ آئی آر جی سی میں کافی اونچے عہدے پر فائز ہو گا تبھی وارننگ کے باوجود وہ مقررہ تاریخ، وقت اور مقام پر محسن فخری زادہ کے قتل کے منصوبے کو انجام دینے کے قابل ہوا۔

بی بی سی کی طرف سے جاری رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ جنوری 2018 میں بھی چند نامعلوم افراد نے تہران میں بڑی کامیاب ڈکیتی کی تھی جہاں سے انہوں نے ایک گودام  میں موجود 32 کے قریب تجوریوں میں سے 27 تجوریوں کے تالے توڑے تھے ،اور انہیں معلوم تھا کہ ان ہی تجوریوں میں وہ تمام معلومات،سی ڈیز اور نقشے انہیں ملیں گے ۔

رپورٹ کے مطابق تہران کی اس بڑی ڈکیتی کی خاص بات یہ تھی کہ جو چیزیں ان تجوریوں سے چڑائی گئی تھیں ان میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خفیہ معلومات تھیں جو صرف تین ماہ بعد ہی اسرائیل کے شہر تیل ابیب میں منظر عام پر لائی گئی تھیں ۔

ان خفیہ دستاویزات کے بارے میں اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم کا دعویٰ تھا کہ درجنوں دستاویزات اور سی ڈیز  موساد کے ایجنٹ تہران سے چوری کر کے اسرائیل لائے تھے،لیکن اب اس بات میں کتنی حقیقت ہے کہ وہ موساد کے ایجنٹ تھے یا ایرانی فورسز میں موجود اسرائیلی ایجنٹس کی کاروائی تھی ۔

تبصرے بند ہیں.