جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف تحقیقات غلط طریقے سے کرائی گئیں: سپریم کورٹ کا فیصلہ

46

 

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی نظر ثانی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،عدالت نے 9 ماہ دو دن بعد نظر ثانی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا،جسٹس یحی آفریدی نے اضافی نوٹ تحریری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف تحقیقات غلط طریقے سے کرائی گئیں۔عدلیہ کا احتساب ضروری ہے لیکن قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

 

نیو نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی نظر ثانی کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،عدالت نے 9 ماہ دو دن بعد نظر ثانی درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کیا.

 

تحریری فیصلہ جسٹس مقبول باقر جسٹس مظہر عالم ،جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس امین الدین نے تحریر کیا ۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ تحریری کیا۔

 

سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ 26 اپریل 2021 کو سنایا تھا ۔ دس رکنی لارجر بینچ نے چھ چار کے تناسب سے سرینا عیسی کے حق میں فیصلہ سنایا۔

 

فیصلے کے مطابق اہلیہ سرینا عیسی کی نظر ثانی درخواستیں اکثریت سے منظورکرلی گئی ،قطع نظر کسی عہدہ یا پوزیشن کے ہر پاکستان قانون کے مطابق سلوک کا حقدار ہے۔ ہر شہری اپنی زندگی،آزادی،ساکھ،جائیداد سے متعلق قانون کے مطابق سلوک کا حق رکھتا ہے۔

 

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 9 سے 28 تک ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں اگر کوئی شہری پبلک آفس ہولڈر ہے تو اسے بھی قانون کا تحفظ حاصل ہے ۔ یہ فیصلہ واضع الفاظ کیساتھ سنایا جاتا ہے کہ اس عدالت کے جج سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں ۔ دوسری طرف کوئی بھی شخص چاہے وہ اس عدالت کا جج کیوں نہ ہو اس کو قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

 

فیصلے کے مطابق اہلیہ سرینا عیسی کی نظر ثانی درخواستیں اکثریت سے منظورکرلی گئی ،قطع نظر کسی عہدہ یا پوزیشن کے ہر پاکستان قانون کے مطابق سلوک کا حقدار ہے، ہر شہری اپنی زندگی،آزادی،ساکھ،جائیداد سے متعلق قانون کے مطابق سلوک کا حق رکھتا ہے۔

 

فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 9 سے 28 تک ہر شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں،اگر کوئی شہری پبلک آفس ہولڈر ہے تو اسے بھی قانون کا تحفظ حاصل ہے،یہ فیصلہ واضع الفاظ کیساتھ سنایا جاتا ہے کہ اس عدالت کے جج سمیت کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔ دوسری طرف کوئی بھی شخص چاہے وہ اس عدالت کو جج کیوں نہ ہو اس کو قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

 

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمرہ عدالت شیشے کے گھر جیسا ہوتا ہے جج صاحبان شیشے کے گھر نما کمرہ عدالت میں بیٹھ کر بلا خوف فیصلے کرتے ہیں ۔ شیشے کے گھر نما کمرہ عدالت میں بے خوف فیصلے کے سبب بعض اوقات انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں ۔ بعض اوقات جج صاحبان کی ساکھ متاثر کرنے کیلئے کوششیں ہوتی ہیں ۔

 

فیصلے کے مطابق جج صاحبان کے پاس اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے عوامی فورم بھی نہیں ہوتا ایسی صورتحال میں عدلیہ کی بطور آئینی ادارہ عوام کی نظر میں ساکھ متاثر ہوتی ہے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو مکمل دفاع کا موقع دیے بغیر  معاملہ ایف بی آر بھیجا گیا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور انکے بچے عام شہری ہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور انکے بچوں کے ٹیکس معاملات پر آرٹیکل 184 کی شق تین کا اختیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

تبصرے بند ہیں.