دیگر صوبوں کو چیلنج کرتا ہوں گمبٹ جیسا ایک بھی ہسپتال ہو تو بتا دیں، بلاول بھٹو زرداری

32

گمبٹ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وسیلہ صحت کارڈ کا نام تبدیل کر کے صحت کارڈ کا نام دیا گیا جبکہ سندھ میں عوام کو بنیادی سہولتیں میسر اور چیلنج کرتا ہوں گمبٹ جیسا ایک بھی ہسپتال ہو تو بتا دیں۔

 

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں بون میرو ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کیا اور سندھ کے شعبہ صحتِ عامہ کی ترقی پر اپنی مسرت کا اظہار کیا ہے اور اعادہ کیا کہ وہ اپنے وژن کے تحت صحت عامہ کی مفت سہولیات کو پاکستان بھر میں فراہم کریں گے۔

 

پی پی چیئرمین نے اعلان کیا کہ گمبٹ میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کا علاج 100 فیصد مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جیسا اور کوئی ہسپتال نہیں جہاں جگر، گردے، بون میرو اور کینسر کا مفت علاج کیا جاتا ہو۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد تھیلیسیمیا اور اس جیسی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں اور بون میرو ٹرانسپلانٹ علاج کی سہولت کا مریضوں کی زندگیوں کے لیئے اچھا ثابت ہوگا۔

 

بلاول بھٹو نے کہا کہ گمبٹ میں کینسر کا علاج سو فیصد مفت اور عالمی معیار کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ٹریفک حادثات میں اضافے کی پیشِ نظر ریپڈ ریسپانس ایمرجنسی کی سہولت بھی شروع کی گئی ہے۔ اس کا مقصد دوسرے شہروں میں بھی اس طرح کے مراکز بھی کھولنا ہے تاکہ آتشزدگی اور حادثات سے شدید زخمی ہونے والوں کا بہترین علاج ممکن بنایا جا سکے۔ گمبٹ آج سے پاکستان میں شعبہ میڈیکل دارالخلافہ ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ میں ملک کی تمام صوبائی حکومتوں کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جیسا ایک ہسپتال بنائیں، جہاں جگر، گردے، بون میرو اور کینسر کا مفت علاج کیا جائے۔ سندھ نے لیور ٹرانسپلانٹیشن کے 550 مفت کیسز کرکے قومی یکارڈ توڑا ہے۔ ان کیسز میں سے 52 فیصد مریضوں کا تعلق سندھ، 29 فیصد کا تعلق پنجاب، 15 فیصد کا بلوچستان اور 3 فیصد کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں جگر اور گردے کا ایک ادارہ ہے جو ٹرانسپلانٹ کرتا ہے لیکن گمبٹ سے علاج کروانے والے پنجاب کے لوگوں کی تعداد مذکورہ ہسپتال میں علاج کرانے والے مریضوں سے زیادہ ہے۔ یہ شہید محترمہ بنظیر بھٹو کا وژن تھا کہ ملک میں صحت عامہ کے نظام کو بہتر بنایا اور بزرگوں کی زندگیوں کو بچایا جائے جبکہ یہی ویژن ہمارا پورے پاکستان کے لیئے ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں غریب شہریوں کے لیے وسیلہ صحت کارڈ متعارف کرایا گیا تھا۔ میاں صاحب آئے تو انہوں نے نام بدل کر اس کا نام پی ایم ہیلتھ کارڈ رکھ دیا جبکہ اب پی ٹی آئی اسے صحت انصاف کارڈ کہتی ہے۔ نقل کرنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح سے وہ ہمارے کارڈ کو چلا رہے ہیں وہ درست طریقہ نہیں ہے۔ ہم نے اسے غریبوں کے لیئے بنایا تھا جبکہ ان کا کارڈ پرائیوٹ ہسپتالوں کو 5-6 لاکھ کی سبسڈی دیتا ہے۔

 

تبصرے بند ہیں.