حکومت کے 22 اراکین ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، شاہد خاقان عباسی کا دعوی

59

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے 22 اراکین رابطے میں ہیں۔

 

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپنی سیاست کررہی ہے اور اس نے خود ہی پی ڈی ایم کو چھوڑا تھا۔ پیپلزپارٹی کا اپناراستہ ہے اور ہمارا اپنا راستہ ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اعتماد کا فقدان ہے۔ اگر پیپلزپارٹی پی ڈی ایم مارچ میں شامل ہونا چاہتی ہے تو غور کیا جا سکتا ہے۔

 

شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا کہ آج کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کا ذکر نہیں ہوا اور لانگ مارچ 23 مارچ کو ہی ہو گا۔ احتجاج کا مقصد عوام کو احساس دلانا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور لانگ مارچ عدم اعتماد کی فضا قائم کرنی کی کوشش ہے۔

 

خیال رہے کہ آج اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد(پی ڈی ایم) نے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے پر اتفاق کیا۔ 

 

اجلاس میں 23 مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ان ہاؤس تبدیلی کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات پر غور کیا گیا اور پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔

 

پی ڈی ایم نے وفاقی حکومت کی جانب سے 23 مارچ کے احتجاج کو چند روز آگے لے جانے کے مطالبے کے بعد حکومت مخالف اتحاد نے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج 23 مارچ کو ہی ہو گا اور 23 مارچ کے لانگ مارچ کے اسلام آباد میں قیام کو خفیہ رکھا جائے گا۔

 

اجلاس کے دوران حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ نے ملک بھر میں پھیلنے والی صدارتی نظام کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا نظام کا نفاذ خطرناک ثابت ہوگا، صدارتی نظام ملکی تشخص پر وار تصور ہوگا۔ سٹیٹ بینک ترمیمی بل اور منی بجٹ کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر ٹیکسوں کے اضافہ بوجھ کو مسترد کرتے ہیں۔

 

اجلاس میں رہنماؤں نے سٹیٹ بینک خود مختاری کے نام پر ترمیمی بل کا سینیٹ میں راستہ روکنے پر اتفاق کیا۔

 

تبصرے بند ہیں.