مانسہرہ کی فضہ حسین سے حریم شاہ کے سفر کی دلچسپ داستان،اہم انکشافات میں سب کا پول کھول دیا

90

رپورٹ :شہریار اشرف 

آخر یہ حریم شاہ کون ہیں؟ کہاں سے آئی ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ وہ اہم ترین شخصیات اور مقامات تک پہنچ کیسے جاتی ہیں؟ ان کے شاہانہ طرزِ زندگی کے اخراجات کون اٹھاتا ہے؟ غیر ملکی دوروں پر کیسے جاتی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔یہ تمام وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں ہرکوئی جاننا چاہتا ہے۔

حریم شاہ  پاکستان ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا کی مشہور اور متنازع شخصیت ہے جو ٹک ٹاک پر اپنی ویڈیوز کی وجہ سے مشہور ہوئیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے شناختی کارڈ کی معلومات کے مطابق حریم شاہ کا اصل نام فضہ حسین ہے  مذکورہ شناختی کارڈ کے مطابق وہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی تحصیل اوگی کی رہائشی ہیں۔اسی شناختی کارڈ پر ان کی تاریخ پیدائش 28 دسمبر 1991 درج ہے۔حریم شاہ کہتی ہیں کہ ان  کی چار بہنیں اور تین بھائی ہیں جبکہ ان کے والدین دونوں سرکاری افسران ہیں۔جبکہ ضلع مانسہرہ میں حریم شاہ کے آبائی علاقے کے ایک سکول ٹیچرجو اپنا اصل نام نہیں بتانا چاہتے اُن کا کہنا ہے حریم شاہ کے والد محکمہ جنگلات میں گارڈ کی حیثیت سے ملازم تھے اور ان کے چچا ایک سکول میں بطور چپڑاسی کام کرتے ہیں ان کی والدہ ایک قریبی گاؤں کے پرائمری سکول میں استانی ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ حریم شاہ نے مقامی سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، ان کی شادی اپنے خالہ زاد سے ہوئی تاہم یہ شادی زیادہ عرصہ نہیں چل سکی، اس شادی سے ان کی ایک بچی بھی ہے۔

گزشتہ دنوں پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ٹک ٹاکر حریم شاہ کی غیر ملکی کرنسی کے ساتھ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے اسے انٹرنیٹ پر ’ریاستی اداروں اور حکومتِ پاکستان کی تضحیک اور ہتک‘ کا عمل قرار دیا ہے۔ایف آئی اے کے سربراہ سائبر کرائم زون سندھ عمران ریاض کے مطابق حریم شاہ کے خلاف سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی نے انکوائری کا آغاز کر دیا ہے اور حریم شاہ کو اپنی وضاحت پیش کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔حریم شاہ کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں وہ بڑی تعداد میں غیر ملکی کرنسی تھامے بیٹھی ہیں۔

ویڈیو میں اْنہیں یہ کہتے ہوئے سْنا جا سکتا تھا کہ وہ یہ کرنسی لے کر پاکستان سے برطانیہ پہنچیں مگر پاکستان میں متعلقہ حکام انہیں روکنے میں ناکام رہے۔’’پہلی مرتبہ میرا تجربہ ہوا کیونکہ پاکستان سے میں بھاری رقم لے کر لندن آ رہی تھی، یہ سچ ہے پاکستانی پیسے کی اور پاسپورٹ کی کوئی وقعت نہیں۔مجھے کسی نہ کچھ نہیں کہا اور کہہ بھی نہیں سکتے، میں تو آسانی سے محفوظ طریقے سے آ گئی تھی۔واضح رہے کہ کیش کی صورت میں بھاری تعداد میں کرنسی ملک سے باہر لے جانا منی لانڈرنگ یا کالا دھن سفید کرنے کے زمرے میں آتا ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں جرم ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے اس معاملے کا نوٹس لیے جانے کے بعد حریم شاہ کا موقف سامنے آیا کہ انہوں نے یہ ویڈیو تفریحی مقصد کی غرض سے بنائی اور پوسٹ کی تھی۔ایف آئی اے عہدیدار  کے مطابق حریم شاہ کے منی لانڈرنگ کے جُرم کا اعتراف کرنے اور بعد میں اسے ’تفریحی ویڈیو‘ قرار دے کر انکار کرنے کا ایف آئی اے سائبر کرائم سندھ نے نوٹس لیا ہے۔یہ اقدام انٹرنیٹ کے ذریعے حکومتِ پاکستان اور ریاستی اداروں کی ’’تضحیک اور ہتک‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔ سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی میں اْن کے خلاف انکوائری درج کر لی گئی ہے اور اْنہیں اپنا مؤقف دینے کے لیے باقاعدہ نوٹس بھی جاری کیا گیا۔

سال گزشتہ کے وسط میں عروسی جوڑا پہن کر حریم شاہ نے اپنے ٹک ٹاک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس پر تصاویر شیئر کیں جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ان کی شادی سے متعلق قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔ان تصاویر وہ مختلف رنگوں کے لباس، میک اپ اور جیولری میں نظر آ رہی ہیں۔یہ تصاویر دیکھ کر جب نیوز چینلز نے حریم شاہ سے رابطہ کیا تو حریم شاہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی شادی سندھ اسمبلی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے ایک صوبائی وزیر سے ہوئی ہے۔لیکن لاکھ اسرار پر بھی حریم شاہ نے اپنے مبینہ شوہر کا نام نہیں بتایا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے ’شوہر پہلے سے شادی شدہ ہیں لہذا جب وہ اپنی پہلی بیوی کو منا لیں گے تو وہ اس شادی کے بارے میں سب کو بتا دیں گے۔حریم شاہ کے دعوے کو شاید پہلے کوئی سنجیدگی سے نہ لیتا مگر پھر سندھ کے متعدد وزرا اور رکن صوبائی اسمبلی میڈیا کے سامنے صفائیاں دیتے نظر آئے۔حریم شاہ کی شادی کے جوڑیِ میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کے بارے میں مزید جاننے کے لیے جب نجی بیوٹی سیلون کی میک اپ آرٹسٹ سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ تصاویر تشہیر کے لیے کروائے گئے فوٹو شوٹ کی ہیں جس کے لیے لباس، میک اپ اور یہاں تک کے فوٹو شوٹ کی لوکیشن بھی ان کی طرف سے فراہم کی گئی تھی اور حریم شاہ کو اس کے لیے معاوضہ بھی دیا گیا تھا۔یہ فوٹو شوٹ 18 جون کو کراچی کے نجی سیلون میں ہوا تھا۔ اس بارے جب حریم شاہ سے رابطہ کیا کہ آیا یہ تصاویر ان کی شادی کی ہیں تو ان کا دعویٰ تھا کہ یہ تصاویر ان کے نکاح کی ہیں۔جب انہیں بتایا گیا کہ میک اپ آرٹسٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ تصاویر ان کے سلون کی تشہیر کے لیے کیے گئے فوٹو شوٹ کی ہیں تو حریم شاہ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتی کہ کن تصاویر کی بات ہو رہی ہے۔ میک آپ آرٹسٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ حریم شاہ اور ان کی دوست سندل خٹک کو اس کے لیے معاوضہ بھی دیا گیا تھا۔دوسری طرف حریم شاہ نے کہا کیونکہ وہ شادی کو خفیہ رکھنا چاہتی تھیں اس لیے ان کی جانب سے بیوٹی پارلر والوں کو حقیقت نہیں بتائی گئی اور صرف یہی کہا گیا کہ وہ بیوٹی پالر کی تشہیر کے لیے تیار ہو رہی ہیں۔

پاکستان میں ایک عام آدمی کے لیے اعلی سرکاری دفاتر کے انتہائی اندر تک خصوصی دعوت کے بغیر رسائی حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔تاہم30 دسمبر 2019 کو اسلام آباد میں ایک سرکاری دفتر کے اندر بنائی گئیں حریم شاہ کی تصاویر سامنے آنے پر وہ ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت بنیں۔اْس وقت بھی جو سوال پوچھا جا رہا تھا، وہ یہی تھا: آخر حریم شاہ ہیں کون؟حریم شاہ اپنے ٹوئٹر اور ٹِک ٹاک اکاؤنٹس کے ذریعے خود سے ایسی تصاویر اور ویڈیوز جاری کر چکی ہیں جن میں وہ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری مقامات پر مختلف تحریکِ انصاف کے سیاستدانوں کے ساتھ دکھائی دے رہی ہیں۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے ممبران کے لیے مختص پارلیمنٹ لاجز سے بھی ان کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔پاکستان تحریکِ انصاف پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ جماعت کے اندر کوئی عہدہ نہیں رکھتیں۔ تاہم وہ خود کو پی ٹی آئی کے کارکن کے طور پر ظاہر کر کے کئی تقریبات اور دفاتر وغیرہ تک رسائی حاصل کر چکی ہیں۔پاکستان تحریکِ انصاف کی ایک سرکردہ خاتون رکن کا حریم شاہ کے حوالے سے کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حریم شاہ کو جماعت کی سطح پر کوئی خصوصی حیثیت حاصل ہے یا وہ کسی قسم کا اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔بس وہ اپنے عورت ہونے اور اپنے خوبصورت ہونے کا فائدہ اٹھا کر سیاستدانوں اور وزرا تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔مبینہ طور پر حریم شاہ مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے اور سوشل میڈیا پر بھی یہ دعویٰ کر چکی ہیں کہ ان کے پاس دیگر کئی وزرا کی ویڈیوز یا راز موجود ہیں جو وہ افشاکر سکتی ہیں اگر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔پی ٹی آئی کی خاتون رکن کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی بات میں سچائی ہو اور ان کے پاس کوئی ویڈیوز موجود ہوں مگر مرد (وزیر یا سیاستدان) ڈرے ہوئے ہیں۔ ہر کسی کو اپنی عزت پیاری ہے۔

ایک اورویڈیومیں حریم شاہ ایک وفاقی وزیر کے ساتھ ویڈیو چیٹ کرتی سنائی دیتی ہیں۔ویڈیو میں انہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’میں نے کبھی آپ کا کوئی راز فاش نہیں کیا، آپ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے؟‘ اس کے جواب میں دوسری طرف نظر آنے والا شخص اْن سے کہتا ہے کہ ’’آپ جو مرضی کر لیں جی، اللہ مالک ہے۔اس بات کے جواب میں حریم شاہ ان پر ایسا الزام عائد کرتی ہیں جو اگر درست ہو تو جنسی ہراسانی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔اس پر دوسری جانب موجود شخص کال ختم کر دیتا ہے۔اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر حریم شاہ کی ذاتی نوعیت کی تصاویر گردش کرتی رہیں جس میں انہیں بظاہر کسی کمرے میں ایک شخص کے ساتھ اس طرح بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کرسی پر بیٹھا ہے اور حریم ان کی ٹانگ پر بیٹھی ہیں۔ تاہم اس شخص کا چہرہ چھپایا گیا ہے۔اسی دن ایک اور آڈیو کال کی ریکارڈنگ بھی گردش کرتی رہی جس میں مبینہ طور پر حریم شاہ کی صوبہ پنجاب کے ایک وزیر کے ساتھ گفتگو سنی جا سکتی ہے۔

19جنوری 2021 کو حریم شاہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے معروف مذہبی سکالر مفتی عبد القوی کو ایک خاتون کی جانب سے ان کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا۔اس ویڈیو کے ساتھ حریم شاہ نے الزام عائد کیا کہ مفتی قوی نے انہیں جسمانی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی جس کے ردعمل میں انہوں نے یہ کیا۔تاہم مفتی صاحب نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ معاملہ ’’اللہ پر چھوڑ‘‘ رہے ہیں اور یہ کہ حریم شاہ نے یہ سب ’’سستی شہرت‘‘ حاصل کرنے کے لیے کیا۔حریم شاہ اور مفتی قوی کے درمیان ماضی میں بھی مختلف معاملات پر اختلافات کا سلسلہ سامنے آتا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد یہ سوال پوچھا جانے لگا ہے کہ آخر مفتی عبد القوی کو تھپٹر کیوں مارا گیا؟حریم شاہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے مفتی عبدالقوی کو اپنے پروگرام میں بطور مہمان دعوت دی تھی۔ ’’میں چاہتی تھی کہ لوگوں کے سامنے پچھلے اختلافات کی حقیقت اور ان کی وضاحت کر دی جائے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’مفتی صاحب نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں اْن کی منکوحہ ہوں جو غلط تھا۔اس بار جب وہ شو میں آئے تو شو شروع ہونے سے پہلے اور بعد میں وہ مجھ سے عجیب و غریب گفتگو کرتے رہے۔مفتی صاحب نے مختلف اقسام کے نشے اور دیگر نازیبہ باتیں کیں۔ انہوں نے مجھے بھی کہا کہ میرے بہت بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات ہیں اور تم بھی چاہو تو۔ایک دن کے 10، 12 لاکھ کما سکتی ہو۔دوسری طرف حریم شاہ کے ان دعوؤں کی مکمل تردید کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی کا کہناتھا ’میں کراچی میں ایک نجی چینل کی دعوت پر پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے گیا تھا۔ اس دوران حریم وقفے وقفے سے میرے ساتھ ویڈیوز بنا رہی تھیں۔‘’میں نے چینل کی انتظامیہ سے پہلے ہی کہا تھا کہ انہیں روکیں کہ یہ مت کریں۔ جس پر مجھے یہ یقین دلایا گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور حریم یہ ویڈیو ویسے ہی بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر حریم شاہ کی جانب سے تھپٹر والے معاملے سے جڑی مزید کچھ ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن میں مفتی عبدالقوی اور حریم شاہ کو آپس میں ان الزامات پر بات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ حریم شاہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ کر رہی ہیں۔

23 اکتوبر 2019 کو حریم شاہ کو اسلام آباد کی ایک سرکاری عمارت میں ٹِک ٹاک ویڈیو بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔زیادہ تر لوگوں نے حکومت کو بھی اس بات پر آڑے ہاتھوں لیا کہ اس خاتون کو اس ’حساس سرکاری عمارت‘ تک رسائی کیسے حاصل ہوئی؟سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جاری رہی کہ ویڈیو میں نظر آنے والی عمارت کیا وزیرِ اعظم کے دفتر کی ہے یا کسی دوسری وزارت کی؟ سوشل میڈیا پر سرکاری عمارت کی ویڈیو سے قبل حریم شاہ کی وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ کندھے پر ہاتھ رکھ کر اتاری گئی تصویر بھی وائرل ہو چکی ہے۔اس کے علاوہ حریم شاہ بیشتر سیاسی شخصیات کے ساتھ بھی تصاویر اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنا چکی ہیں جن میں شیخ رشید اور فیاض الحسن چوہان بھی شامل ہیں۔حریم شاہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو شئیر کی جس میں ان کو ایک سرکاری ادارے کی عمارت کے ایک آفس میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم بعدازاں انہوں نے یہ ویڈیو اپنے اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دی۔حریم شاہ نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا تھا کہ انہوں نے یہ ویڈیو ’’وزیر اعظم آفس میں بنائی ہے‘‘۔ جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین سمیت پی ٹی آئی کے ورکرز نے بھی اس ویڈیو پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور اس پر شدید تنقید کی۔تاہم حریم شاہ نے وہ ویڈیو وزارت خارجہ کے کانفرس روم میں بنائی تھی۔دفترِ خارجہ میں بنائی گئی حریم شاہ کی مزید ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن میں حریم شاہ کو دفتر خارجہ کی لابی اور دیگر جگہوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔دفتر خارجہ کے جس کانفرنس روم میں ویڈیو بنائی گئی وہاں اہم امور پر میٹنگز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

تاہم اس واقعہ کے بعد وزیر اعظم آفس کی جانب سے اس واقعے کی انکوئری شروع کر دی گئی۔حریم شاہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ویڈیو انہوں نے دفتر خارجہ کے کانفرنس روم میں بنائی تھی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو بنا کر ان کا مقصد کسی کی تذلیل کرنا نہیں تھا۔اس کمرے میں تمام کرسیاں خالی تھیں اس لیے میں وہاں بیٹھ گئی۔حریم کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا صارفین ’میری حالیہ ویڈیو پر بلاوجہ مسئلہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی بنی گالہ، پی ایم آفس اور عمران خان کے ساتھ میری تصاویر بنی ہوئی ہیں اس لیے اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ باتوں سے بہت سارے لوگ جُڑے ہوتے ہیں اس لیے میں ان کا نام نہیں بتا سکتی ہوں کیونکہ اگر میں ان کا نام لوں گی تو لوگ ان پر بھی تنقید کریں گے۔مجھے سرکاری دفتر کے اندر جانے کی اجازت باآسانی مل گئی تھی کیونکہ میری گاڑی کا نمبر پہلے سے ہی گیٹ پر درج کروا دیا گیا تھا۔ اس لیے گیٹ پر مجھ سے گارڈز نے کسی قسم کی شناخت کروانے کو نہیں کہا اور میں اندر داخل ہو گئی۔حریم شاہ کے مطابق میں وہاں بطور ورکر گئی تھی کیونکہ میں عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ ایک عرصے سے منسلک ہوں اور پارٹی کے لیے کام کرتی ہوں اس لیے اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ انہیں ٹِک ٹاک ویڈیوز بنانے کا شوق ہے اور جب دفتر خارجہ والی ویڈیو بنی اس وقت وہ وہاں اکیلی تھیں۔
٭٭٭

تبصرے بند ہیں.