سینئر خاتون اینکر مبینہ توہین پر گرفتار

270

استنبول:  ترکی میں ایک سینئر خاتون اینکر صدف قباس کو صدر رجب طیب اردگان کی مبینہ توہین پر گرفتار کر لیا گیا۔ صدر کی توہین کے قانون کے تحت انہیں عدالت سے ایک سے چار سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

 

خاتون اینکر نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ اگر کوئی بیل محل پر چڑھ جائے تو وہ بادشاہ نہیں بن جاتا البتہ محل باڑہ ضرور ہو جاتا ہے۔ ان کے اس ٹویٹ پر انہیں ہفتے کی رات دو بجے گرفتار کر لیا گیا  ور اتوار کو انہیں عدالت نے جیل بھیجوا دیا۔ صدف قباس کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ آزادی اظہارِ رائے کی خلاف ورزی ہے اور وہ اس کیس کا بھرپور دفاع کریں گے۔

 

یاد رہے کہ جب سے طیب اردگان ترکی کے صدر بنے ہیں تب سے لاکھوں لوگ ان کی توہین کے قانون کے تحت زیر ِ عتاب آچکے ہیں۔ ترکی میں صدر کی توہین پر ایک سال سے چار سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

 

الجزیرہ ٹی وی کے مطابق 2014 میں جب طیب اردگان ترکی کے صدر بنے اس کے بعد اب تک گزشتہ سات سالوں کے دوران صدر کی توہین پر ایک لاکھ 60 ہزار 169 تحقیقات کی جا چکی ہیں۔  اب تک صدر کی توہین پر 35 ہزار 507 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور عدالتوں نے 12 ہزار 881 افراد کو اردگان کی توہین کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائیں سنائی ہیں۔ 

 

تبصرے بند ہیں.