اے خاک نشینو اُٹھ بیٹھو!

25

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس حکومت کے دور میں ڈھنگ کا کوئی کام ہو سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر آپ کو اپنا معائنہ کرانا چاہیے۔ میرا ماننا ہے کہ عمران خان کو اس وقت صرف وہی سپورٹ کر سکتا ہے جس کا کوئی نہ کوئی مفاد وابستہ ہے ورنہ ملک جس مقام پر پہنچ گیا ہے اس سے آگے تباہی اور بربادی کا راستہ ہے۔ ترقی اور خوشحالی کا کوئی اشاریہ ایسا نہیں ہے جو اوپر کی طرف گیا ہو، ہاں مہنگائی، لاقانونیت اور بیڈ گورننس کے اشاریے تیزی کے ساتھ اوپر جا رہے ہیں۔ ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں اور جواب دیں کہ کیا آپ ایسا پاکستان چاہتے تھے۔ عمران خان کا کوئی ایک بیان بتا دیں جو اس کے منہ پر نہیں مارا گیا۔ اس میں ذرا برابر شک نہیں کہ تمہاری باتیں ہی تمہارے منہ پر دے ماری جائیں گی۔ اپوزیشن میں رہتے ہوئے جو ڈانس پارٹی میں ناچ ناچ کر ہلکان ہو جاتے تھے انہیں ڈھونڈ کر لائیں اور پوچھیں کہ کہاں ہے وہ خوبصورت نعرے اور دھنیں جس پر آپ رقص کرتے تھے اور جب آئے گا عمران کے ترانے گاتے تھے۔ وہ لوگ معاشرے میں نظر نہیں آ رہے، پتہ نہیں انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔ لوگ جھولی اٹھا کر بددعائیں کر رہے ہیں پتہ نہیں ان کی کب سنی جائیں گی یا ابھی مزید امتحان مقصود ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک حکمران کو کسی جلسے میں جوتا دکھایا اور وہ گھر چلا گیا۔ ایک اور کو جوتا دکھایا تو وہ کہنے لگا کہ مجھے علم ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے جوتے مہنگے ہو گئے ہیں اب حالات یہ ہیں کہ جوتے دکھائیں تو کہیں گے کہ میں ابھی جوتے پالش کر رہا ہوں، ان سے فارغ ہوں گا تو دیکھوں گا۔ سٹیٹ بنک کی خودمختاری کی آڑ میں آئی ایم ایف کو براہ راست کنٹرول حاصل ہو گیا ہے اور اب وہ پاکستان کے مالی مفادات کا براہ راست نگران بن جائے گا۔ معیشت کے ذریعے ملکوں کو کنٹرول کرنے کا فارمولہ آئی ایم ایف کو بخوبی معلوم ہے اور وہی کام وہ یہاں کر رہے ہیں۔ ملک کا کون سا ایسا اثاثہ ہے جو ہم نے رہن نہیں رکھا۔ سب کچھ تو گروی رکھ چکے ہیں۔ کچھ چین کے سپرد کر دیا اور باقی آئی ایم ایف اور اس کے حلیف اداروں نے لکھوا لیا۔ ایک دوست کا فون آیا کہنے لگا مجھے سو فیصد یقین ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا کہ اس ملک کو تباہ و برباد کر دیا جائے اور لانے والے اپنے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ عوام کی شنوائی کہاں ہونی ہے لیکن جو بہی خواہ تھے جب ان کے پر جلنے لگیں گے تو شاید بہتری کی کوئی صورت نکلے۔ ابھی تو شانتی ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے۔
صحت کارڈ کے نام پر اربوں روپے پرائیویٹ سیکٹر کو دینے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا چکا ہے۔ صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے بجائے ہم نے صحت کارڈ کے نام پر سیاست کو چمکانے کی کوشش کی ہے۔ گذشتہ حکومت نے لیپ ٹاپ اسکیم شروع کی تھی اور اس حکومت نے صحت کارڈ کا اجرا کر دیا ہے اور انشورنس کمپنیوں اور پرائیویٹ سیکٹر کی چاندی ہو گئی ہے۔ یہ کیسی انشورنس پالیسی ہے جس میں آپ کووڈ کا علاج کرانے سے قاصر ہیں۔ اس کارڈ پر آپ معائنہ کرا سکتے ہیں اور نہ اس کے ذریعے ادویات کی خریداری کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بہت شور اٹھا کہ صحت انصاف کارڈ پر ڈاکٹرز ہسپتال میں دل کا پہلا آپریشن کر دیا گیا۔ پی آئی سی میں روزانہ کی بنیاد پر اس طرح کے آپریشن ہوتے ہیں۔ دل کے ہسپتال بنانے کی طرف توجہ کم دی گئی اور اس طرح کے منصوبے شروع کرنے پر توجہ زیادہ رہی۔ پی کے ایل آئی کا جو حشر کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ کسی نے پوچھا کہ اس ادارے کو تباہ کرنے کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما تھے اور اس کے کردار آزاد کیوں گھوم رہے ہیں۔ کب تک نظریں چرا کر ان معاملات پر بات کرنے سے گریز کیا جائے گا۔
مہنگائی پر تو ان کا کنٹرول بالکل بھی نہیں۔ کھانے کا تیل جو ڈیڑھ سو روپے لٹر تھا اب وہ پانچ سو کے ہندسے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دال آٹے اور اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے اور ان پر سترہ فیصد جی ایس ٹی لگا دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک دوست نے کہا پرچون فروش سے پڑیا میں ہلدی اور مرچیں لے آیا کریں اس پر ٹیکس نہیں ہے اور دوسرا پرچون فروش کو کاغذ کی پڑیا بنانے کی پریکٹس بھی ہو جائے گی۔ کتنے ظالم ہیں کہ اس مہنگائی میں بھی تفریج طبع کی بات ڈھونڈ لیتے ہیں۔ کس کس کا رونا روئیں۔ کوئی شرم اور کوئی حیا ہوتی ہے سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت ہے۔
مغرب کو سب سے زیادہ جاننے والے حکمران نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت کرائیں گے اور 2022 کا پاسپورٹ انڈیکس اس کے برعکس کہانی سنا رہا ہے۔ پتہ ہے کہ پاکستان کے پاسپورٹ کی کیا عزت ہے؟ دنیا کے بدترین پاسپورٹس میں پاکستان کا نمبر چوتھا ہے یعنی ہم آخری چار میں شامل ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ بوٹا گالیاں نکالتا(دیتا) ہے۔ بیچارہ بوٹا، اس کی گالیوں میں بھی اب کوئی اثر نہیں رہا۔ ہاں یہ خوشی کی خبر ضرور سنائی گئی ہے کہ پاکستان میں اب بھنگ کی کاشت شروع ہو گئی ہے۔ سورج مکھی کا تیل کھانے کے لیے مل نہیں رہا اور زیتون کی کاشت کے کامیاب تجربے ہو گئے ہیں، پہلے لوگوں کو کھانے کے لیے تیل تو مہیا کر دیں۔ جو کینولہ اور سورج مکھی کا تیل خریدنے کی سکت نہیں رکھتے وہ زیتون کا تیل ہزار روپے لیٹر والا تیل کیسے کھائیں گے۔ اس حکومت کے انداز نرالے ہیں۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ جس دور کی کرپشن کی بات کرتے ہیں اس دور میں تو یہ سب کچھ نہیں تھا سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا آپ نے کرپشن بھی نہیں کی تو یہ حال ہے، کرپشن کرتے تو کیا ہوتا۔ سدا بادشاہی صرف اللہ کی ہے اور سب کو ایک دن لوٹ کر جانا ہے۔ عمران خان ہو یا کوئی اور سب کا عارضی ٹھکانہ ہے۔ ویسے عمران خان کو کس بات کی فکر ہو سکتی ہے کہ اس کی آنے والے نسلوں نے کونسا یہاں رہنا ہے۔ وہ شروع سے ننھیال میں رہ رہے ہیں، باقی زندگی بھی وہاں گذرے گی۔
امپائر کی انگلیوں پر نظر رکھنے والے امپائر کر خریدنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ کھیل اسی وقت دلچسپ ہو گا جب امپائر غیر جانبدار ہو کر کھیل کا مزا لے۔ ایک فریق کے ساتھ مل کر کھیلے جانے والے کھیل کو میچ فکسنگ کہتے ہیں۔ اس لیے امپائر بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کریں، گراؤنڈ میں موجود تماشائیوں کو سب کچھ نظر آ رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سب کچھ تلپٹ ہو جائیں۔
فیض کی نظم یاد آ رہی ہے۔
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو
وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے
جب تاج اچھالے جائیں گے
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں
اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اْٹھے ہیں
تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
اے ظلم کے ماتو لب کھولو
چپ رہنے والو چپ کب تک
کچھ حشر تو اِن سے اْٹھے گا
کچھ دور تو نالے جائیں گے

تبصرے بند ہیں.