قومی سلامتی پر جامع پالیسی اک زبردست قدم!

20

ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 26-2022 کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم عمران خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی سے قوم کا قبلہ درست کیا گیا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کا استحکام اور دنیا میں مقام حاصل کرنا پالیسی کی نمایاں خصوصیات ہیں، جسے یقینا مکمل سول ملٹری اتفاق رائے کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تیاری اورمنظوری تاریخی اقدام ہے۔ ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی ہے،جسکا محور عام شہری کا تحفظ ہے اور معاشی سکیورٹی ہے۔ دستاویز میں قومی سلامتی کے ڈھانچے، ضرورت اور نظریے کو واضح کیا گیا ہے۔قومی مفاہمت کے قیام، ملک کے معاشی مستقبل کے تحفظ، دفاع اور سرحدی سالمیت، داخلی سکیورٹی اور بدلتی دنیا میں ملک کی خارجی پالیسی اور شہریوں کے تحفظ کی بھی بات کی گئی ہے۔خوش آئند ہے کہ پاکستانی معاشرے میں معاشی تفریق،ملک کو درپیش موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل کے باعث درپیش مشکلات، حکومتی لائحہ عمل اور مستقبل کے ممکنہ حل کے متعلق سفارشات بھی مرتب کی گئی ہیں۔ منظور ہونے والی قومی سلامتی پالیسی سے متعلق بریفنگ کا حزب اختلاف نے بائیکاٹ کیا تھا۔ ماضی میں بھی جب ضرورت پڑی پارلیمان کے ایکٹس، آرڈیننسز اور بلوں پر ہی گزارا کیا جاتا رہا،جن میں تحفظ پاکستان ایکٹ اور انسداد دہشتگردی ایکٹ شامل ہیں۔
اگر معاشی پالیسی درست نہ ہوتو قرضوں کی وجہ سے قومی سکیورٹی متاثر ہوتی ہے کیونکہ پاکستان کے پاس کبھی بھی ہمہ جہت قومی سلامتی کا تصور نہیں رہا۔مجبوری میں جب قرض لینے کے لیے عالمی اداروں اور بڑی طاقتوں سے مانگا جاتا ہے توانکی کڑی شرائط بھی ماننی پڑتی ہیں اور جب شرائط مانتے ہیں تو کہیں نہ کہیں قومی سلامتی متاثر ہوتی ہے جو لازمی نہیں کہ سکیورٹی فورسز سے متعلق ہو، بلکہ اسکا مطلب یہ کہ آپکو اپنی عوام پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے اورسب سے بڑی سیکیورٹی یہ ہوتی ہے کہ عوام آپکے ساتھ کھڑی ہو۔درحقیقت قومی سلامتی پالیسی ہماری سلامتی پر اثر انداز ہونے والے روایتی اور غیر روایتی مسائل کے وسیع تناظر میں تشکیل دی گئی ہے۔قومی سلامتی پالیسی میں معاشی سلامتی، جیوسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل پہلوؤں کااحاطہ کیا گیا ہے۔ یہ طے ہے کہ ملکی سلامتی کا انحصار شہریوں کی سلامتی میں مضمر ہے۔کسی بھی قومی سلامتی پالیسی میں قومی ہم آہنگی اور لوگوں کی خوشحالی کو شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ بلاامتیاز بنیادی حقوق اور سماجی انصاف کی ضمانت ہونی چاہیے۔
نئی پالیسی کے مطابق قومی ذرائع آمدن بڑھاکرروایتی، انسانی سیکیورٹی پر تقسیم کرنے کا نظریہ اپنایا گیا ہے، اورہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ خوش آئند ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا ہر قیمت وصورت میں تحفظ کیا جانے کو یقینی بنایا گیا ہے۔کم لاگت، خود انحصاری پر مبنی جدید دفاعی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز ہوگی، مسلح افواج کو مضبوط بنانے کے لیے روایتی استعداد کار کو تقویت دی جائے گی، دفاعی پیداوار، جنگی میدان کی آگاہی، الیکٹرانک وارفیئر صلاحیت کو تقویت دیں گے۔قومی سلامتی پالیسی کے مطابق ہمسائے میں جارحانہ، خطرناک نظریے کا پرچار پرتشدد تنازعہ کا باعث ہوسکتا ہے، دشمن کی کسی بھی وقت بطور پالیسی آپشن طاقت کے استعمال کے ممکنات موجود ہیں، جنگ مسلط کی گئی تو دفاع کے لیے قومی طاقت کے تمام عناصر کے ساتھ بھرپور جواب دیا جائے گا۔
باعث اطمینان ہے کہ پالیسی میں ملکی دفاع کے لیے کم سے کم جوہری صلاحیت کوحددرجہ برقرار رکھنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، پاکستان کی جوہری صلاحیت علاقائی امن کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے،یوں نیم فوجی دستوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت پر توجہ مرکوز ہوگی، فضا، بحری، ساحلی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ایوی ایشن سیکیورٹی پروٹوکول بہتر کیا جائے گا، مضبوط فضائی نگرانی، مواصلاتی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو وسعت دی جائیگی۔تصفیہ طلب مسائل،سرحدی مسائل بالخصوص ایل او سی پر توجہ مرکوز کی جائے گی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب پر توجہ مرکوز ہوگی۔ قومی سلامتی پالیسی میں دہشت گردی کو قومی سلامتی اور ہم آہنگی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ اہم ہے کہ نئی پالیسی میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی میں وسعت اور اسے مستحکم کیا جائے گا،جعلی اطلاعات اور اثر انداز ہونے کے لیے بیرونی آپریشنز کاہرسطح پرمقابلہ کیاجائے گا،اطلاعات، سائبروڈیٹاسیکیورٹی ترجیح ہو گی، یوں نگرانی کی استعداد بڑھائی جائے گی، سیکیورٹی کو وسعت، سرکاری امور کی راز داری یقینی بنائی جائے گی، جبکہ اقتصادی سلامتی خطرات کے خلاف مستند اور قابل اعتماد دفاعی صلاحیت کی ضمانت ہو گی۔قومی سلامتی پالیسی میں سی پیک سے متعلق منصوبوں میں دیگر ممالک کو سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی، کشمیر بدستور پاکستان کا اہم قومی سلامتی کا مفاد رہے گا۔نئی پالیسی کے مطابق بھارت کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں، مسئلہ کشمیر کا حل تعلقات کا مرکزی نکتہ رہے گا۔ایران کے ساتھ انٹیلی جنس تبادلے،سرحدی علاقوں کی پٹرولنگ سے باہمی تعلقات میں بہتری آئے گی۔امریکاکے ساتھ پاکستان سرمایہ کاری، انرجی، انسداد دہشت گردی میں تعاون کا خواہاں ہے، پاکستان امریکاکیساتھ سیکیورٹی و انٹیلی جنس کے شعبوں میں تعاون کا خواہاں رہے گا، افغانستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ معاشی رابطے کا دروازہ ہے۔قومی سلامتی پالیسی کے مطابق پاکستان افغانستان میں امن کا حامی ہے، مذہب و لسانیت کی بنیاد پر انتہاپسندی معاشرے کو درپیش بڑا چیلنج ہے۔
ماضی میں بھی سول و فوجی حکومتیں اس بارے بات کرتی رہی ہیں اور پالیسیاں بناتی رہی ہیں۔ 2014 کی طرح آج بھی قومی سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم سے یہ پالیسی منظور کی گئی ہے۔اگرچہ یہ پالیسی یا انسداد دہشتگردی ایکٹ تقریباً مکمل مماثلث ہے، بہرحال مثبت اقدام ہے کہ قومی سلامتی کی پالیسی تشکیل دی گئی۔ تاہم معیشت میں بہتری اس وقت ممکن ہے جب پالیسیوں میں تسلسل اور حکومت میں استحکام ہو اورہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات ہوں۔ کشمیر کے خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد فوج یا حکومت اب یہ افورڈ نہیں کر سکتے کہ وہ انڈیا کے ساتھ کشمیر کی موجودہ حیثیت میں بات کریں۔ جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان کے مثبت اور آگے بڑھنے کے پیغامات کو مثبت انداز میں نہیں لیا گیا۔ پی ٹی آئی کے دور میں معیشت اپنی بدترین سطح پر پہنچ رہی ہے، ایک ایسی حکومت جسکے دور میں معاشی بدحالی ہوئی، وہ معاشی سیکیورٹی کی بات کر رہی ہے، یہ خاصامشکل ہے۔ تاہم اکیلی موجودہ حکومت اسکی زمیدار نہیں ہے کہ انھوں نے معیشت تباہ کی ہے۔ حقیقت ہے کہ قومی سلامتی پر جامع پالیسی اک زبردست قدم ہے، مگرمحض پالیسی ملک کو مشکلات سے نہیں نکال سکے گی، بڑے پیمانے پر ریفارمز اور جامع نمو کی لازمی ضرورت ہو گی۔ضروری ہے کہ حکومت، قوم کا قبلہ درست کرنے کے ساتھ اپنا قبلہ بھی درست کرے، وگرنہ آپ اپنے آپکو طویل عرصے تک محفوظ نہیں رکھ سکتے۔

 

تبصرے بند ہیں.