دریائے راوی کے کنارے شہر بسانے کا منصوبہ

34

مشیر اطلاعات و ترجمان پنجاب حکومت محترم حسان خاور نے کہا کہ راوی ریور فرنٹ منصوبہ وزیر اعظم کے خواب کی تکمیل ہے۔ منصوبے کا پہلا زون چاہار باغ آج شروع کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد کا حکم دیا ہے۔
’’نیا پاکستان‘‘ تعمیر کرنے کے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے تحت شروع کیا جانے والا راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ (آرآر ایف یو ڈی)منصوبہ کی تکمیل نہ صرف لاہوریوں کیلئے پانی کی کمی کے بڑھتے ہوئے بحران‘ آلودگی کو روکنے کے لئے مددگار ثابت ہو گی بلکہ46 کلو میٹر پر محیط اس منصوبہ کی تکمیل سے عوام کو آلودگی سے پاک،صاف اور جدید شہروں کی طرح تمام جدید سہولیات بھی میسر آئیں گی۔راوی سائفن سے ہڈیارہ تک 46 کلو میٹر لمبی جھیل، سڑکوں کا جال اور 12 نئے ہائی ٹیک شہروں کی تعمیر اس منصوبے کی اہم خصوصیات ہوں گی۔ اس شاندار منصوبہ سے دریائے راوی جو سوکھ کر ایک گندے نالے کی شکل اختیار کر چکا ہے، کو دوبارہ ایک دریا کی شکل ملے گی۔
جناب حسان خاور کا کہنا تھا کہ راوی ریور فرنٹ شہری پھیلاو روکنے میں مدد گار ہوگا۔ اس سے زیرِ زمین پانی کی سطح بلند اور دریائے راوی کو بحال کرنے میں مدد ملے گی ۔پہلا مرحلہ 15ہزار ایکڑ پر محیط ہوگا جس میں سیفائر، ایگری، نالج، ایمرلڈبے، ٹوپاز بلاک، بیراجز اور جھیل شامل ہیں۔ منصوبہ نجی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ لائے گا۔یہ منصوبہ دریا ئے راوی کو ری چارج کرے گا جبکہ اس سے لاکھوں روزگار کے مواقع پید ا ہونگے۔
یہ ایک تاریخی موقع ہے جب پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے کا خواب عملی تعبیر میں بدل رہا ہے ۔ لاہور کی پہچان بننے والا دریائے راوی گندے نالے میں بدل چکا ہے لیکن کسی کو اس
کی فکر نہیں ۔لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی آ گئی ہے ۔ہم دریائے راوی کی گزر گاہ میں 46کلو میٹر جھیل بنائیں گے ۔یہ ماحول دوست منصوبہ ہے،یہاں لگائے جانے والے 60لاکھ سے زائد پودے ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی لائیں گے۔پانی کیلئے بیراج اورویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ بنائے جائیں گے۔جھیل میں بارشوں کا وہ پانی ذخیرہ کیا جائے گا جو اس سے قبل ضائع ہو جاتا تھا۔ جھیل بننے سے نہ صرف دریا کا ایکو سسٹم بہتر ہوگا بلکہ زیر زمین پانی کا لیول بھی بحال ہوگا۔ اس جھیل سے تقریباً ایک ارب لیٹر پانی زیر زمین جائے گا اور آبی بخارات کی صورت میں موسم کو خوشگوار بنانے کا سبب بنے گا۔
ماضی کی حکومتوں نے بھی یہ منصوبہ بنایا تھا مگر یہ صرف ایک سوچ ہی رہی ۔ عملی طورپر اس کا آغاز موجودہ حکومت نے کیا۔ چونکہ اس منصوبے پر اخراجات بہت زیادہ تھے اس لئے کوئی بھی حکومت اس کو شروع کرنے کی ہمت نہیں کرسکی۔یہ پاکستان کا سب سے بڑا پراجیکٹ ہے۔ عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے اس چیلنج کو قبول کیا اور اسے مکمل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔اس پراجیکٹ سے معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔
محترم حسان خاور نے بتایا کہ اس منصوبے میں 90 فیصد میٹریل مقامی طورپر تیار شدہ استعمال ہو گا جس سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا اورمعیشت کو فائدہ پہنچے گا اور روز گار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ مستقبل کے نئے منصوبہ سازوں کیلئے کئی دہائیوں تک ایک مثال ہوگا۔ پراجیکٹ کے حوالے سے با اختیار اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے اور یہ اتھارٹی اپنے رولز اور ریگولیشن خود بنائے گی۔ کوئی اس اتھارٹی میں مداخلت نہیں کر سکے گا ۔
لاہور میں ریور راوی فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ منصوبے کے پہلے فیز کی اراضی کا پلان مرتب کرلیاگیاہے۔ ریور راوی فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے فیز ون کی اراضی ایک بیراج،ریور راوی فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے فیز ون 44 ہزار 817 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہوگا۔ریور راوی کنال چینل 3 ہزار 944 ایکڑ پر مشتمل ہوگا۔فیز ون میں 2 ہزار 557 ایکڑ اراضی جنگلات اور گرین ایریاز پر مشتمل ہوگی۔2 ہزار 572 ایکڑ اراضی شاہراہوں اور سیٹلمنٹ کیلئے استعمال ہوگی۔نیٹ لین ایریا 35 ہزار 744 ایکڑ اراضی کا 50 فیصد 17ہزار 872 ایکڑ اراضی پر ہاؤسنگ اور الائیڈ فیسیلیٹیز کے مختص کرلیاگیا۔فیز ون میں 16 کلومیٹر طویل جھیل جبکہ ایک بیراج تعمیر ہوگا۔فیز ون میں بارہ لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیرکا تخمینہ تیار کیاگیا۔فیز ون میں ایک 172 کلومیٹر کے ماس ٹرانزٹ انفراسٹرکچر کا تخمینہ تیار کیاگیا۔فیز ون میں ایک سروفیس جبکہ دو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے راوی ریور اربن پراجیکٹ (آر آریو ڈی پی) کے افتتاح کے موقع پر کہاکہ تھا کہ ’’عظیم خیالات کے ذریعے ہی عظیم قوم تشکیل دی جاسکتی ہے‘‘کچھ بڑا کام کرنے کے لئے کچھ بڑے خواب دیکھنا پڑتے ہیں‘‘۔ راوی ریور فرنٹ پروجیکٹ کا اجرا بھی اس عظیم خیالات اور عملی اقدامات کے سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے جو گزشتہ دو سال سے کامیاب جوان پروگرام، صحت انصاف کارڈ، بلین ٹری منصوبہ، پناہ گاہوں اور نیا پاکستان ہاؤسنگ کی شکل میں شرو ع کئے جا چکے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ نیا پاکستان کہاں ہے؟ انھیں راوی ریور فرنٹ جیسے منصوبوں میں نئے پاکستان کا ظہور دیکھنا چاہئے۔

تبصرے بند ہیں.