قصّہ پاکستان اور آئی ایم ایف کا

16

2022ء کی آمد پر جب دنیا بھر کے کل اور آج کا موازنہ کیا تو اندازہ ہوا کہ ہر طرف بے شمار تبدیلیاں ہوئی ہیں اور ہورہی ہیں، مگر یہ بھی محسوس ہوا کہ پاکستان کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور دور دور تک تبدیلی کا کوئی امکان نظر بھی نہیں آتا۔ میرے ان جملوں سے کئی مطلب نکالے جاسکتے ہیں۔ اور سیاسی طورپر حکمران اور دوسری سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طور پر اس کا مفہوم نکالیں گی۔ بعض ضرور یہ کہیں گے کہ دیکھا اس تجزیہ نگار نے بھی کہہ دیا کہ تین برس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ البتہ حکمراں جماعت کے رہنما یہ کہیں گے کہ دور دورتک حکومت کی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ دیکھا جائے تو تبدیلی تو صاف نظر آرہی ہے۔ مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ پاکستان کے عام لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دنیا بھر میں اشیائے ضرورت کے حوالے سے ہوش ربا گرانی ہے۔ یہاں امریکا میں ہر چیز 30فی صد سے زیادہ مہنگی ہوگئی ہے اور مزید ہورہی ہے۔ اشیاء کے وزن اور حجم میں واضح کمی ہوتی جارہی ہے اور قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ جائیداد کی قیمت کو بھی جیسے پر لگ گئے ہوں۔ گاڑیوں کے ڈیلرز کے پاس گاڑیوں کی سپلائی جیسے رک سی گئی ہو۔ نئی گاڑیوں کے نہ ملنے کی وجہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں کہ لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوگئی ہے۔ کرایے کے مکان کی بھی یہی کیفیت ہے۔ گاڑیوں کے پرزے تک نایاب ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے آٹو باڈی شاپس میں گاڑیوں کی مرمت کرانے والوں کو دنوں کے بجائے اب ہفتوں نہیں مہینوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ گھر میں استعمال ہونے والے فرنیچر خریدنے جائیں، تو قیمتوں کو تو چھوڑیے آرڈر دینے کے باوجود ڈلیوری میں کئی کئی مہینے لگ رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکا یا یورپ میں صفائی کرنے والوں کا رہائشی سٹائل اس کے باوجود بلند ہے۔ بعض شعبوں میں ایسا ہے کہ ان کی اجارہ داری ہے ور وہ اچھا بزنس کررہے ہیں، جیسے ایمازون وغیرہ۔ مگر لوگوں کے بزنس متاثر ہوئے ہیں اور بے شمار تجارتی مراکز بند ہوچکے ہیں۔ اکثر بینکوں میں صرف چند کیشیئر کھڑکیوں سے کام کرتے ہیں۔ افسروں کو یا تو دوسری شاخوں میں ٹرانسفر کردیا ہے یا ان کی چھٹی کردی گئی ہے۔ ایسی صورت میں ان کی رہائش کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی مشکل ہوگئی ہے۔ گاڑیاں قرضوں پر لی جاتی ہیں، ان کی ادائیگی مشکل ہوگئی ہے۔ جن کے مکان کرایے پر لگے ہوئے ہیں، انھیں کرایہ نہیں مل رہا،
کیوں کہ کرایے داروں کی آمدنی رک گئی ہے۔ یہ بھی ٹھیک ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اپنے شہریوں کی مالی امداد بھی کی ہے، مگر وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ چند مہینوں کے لیے گھر کے قرض کی ادائیگی میں چھوٹ دی گئی ہے، مگر وہ معاف نہیں کیے گئے، بلکہ انہیں بعد میں ادا کرنا پڑے گا۔ تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد سے اس میں بھی رخنہ آیا ہے اور اب تو اور مشکل ہورہی ہے، لیکن یہ کہنا قطعی غلط ہے کہ امریکا یا یورپ کا موازنہ پاکستان سے نہ کیا جائے۔ پاکستان میں سرکار اگر عام لوگوں کی مدد نہیں کررہی تو کم از کم پاکستان ان ممالک میں شاید سرفہرست ہے، جہاں بے تحاشا خیراتی ادارے ہیں اوردنیا بھر میں سب سے زیادہ چیریٹی دی جاتی ہے۔ امریکا میں اس وقت افراطِ زر میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے معیشت پہلے جیسی نہیں ہے۔
اب آئیے، پاکستان کی معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نے پاکستانی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ یہ بات ٹھیک بھی ہے، مگر یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ دنیا میں سونے کا بھائو کس حساب سے بڑھا اور خام تیل کی قیمتوں میں کس طرح اضافہ ہوا ہے اور یقیناً ان کی وجہ سے ایک ترقی پذیر ملک کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ جہاں تک تعلق ہے آئی ایم ایف سے قرض لینے کا تو ہمیں دیکھنا یہ ہوگا کہ اس ڈگر پرپاکستان کب سے چلا اور کون سی ایسی حکومت آئی جس نے پچھلی حکومت سے زیادہ قرض نہیں لیا۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آئی ایم ایف کڑی شرائط کیوں عاید کررہی ہے۔ پاکستان کی معیشت کی بدحالی کی ایک وجہ بھی ہے کہ ملک کے اندر وسیع پیمانے پر کرپشن ہوتی رہی ہے اور کسی نہ کسی طرح اب بھی ہورہی ہے۔ ایسے ملزمان اگر پکڑے بھی جاتے ہیں تو ناقص نظام کی وجہ سے سزا نہیں دی جاتی ہے۔ منی لانڈرنگ بھی پاکستان کی ڈھکی چھپی نہیں۔ پھر یہ کہ افغانستان اور بھارت کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں رہتا ہے۔ بجٹ کا زیادہ حصّہ دفاع پر چلا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ آپ کو قرض دیتا ہے اور وہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ اس کے قرض کی ادائیگی ضرور ہو۔ اور آئی ایم ایف کی شرائط میں ماضی کے مقابلے میں بے تحاشا بڑھی ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے رقم کے تحفظ کے لیے مقروض ممالک پر دبائو ڈالتے ہیں کہ ایسا نظام وضع ہو کہ ان کی ادائیگی ضرور ہو۔
اب آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس پاکستان پہلی بار کب گیا اور پھر کیا ہوتا رہا۔ سب سے پہلے جنرل ایوب خان نے آئی ایم ایف سے قرض لیا۔ 25ملین کے لیے معاہدہ ہوا، مگر لیا نہ جاسکا پھر 1965ء اور 1968ء میں 112ملین قرض لیا جا سکا۔ ذوالفقار علی بھٹو 1972ء سے 1974ء تک اس عالمی ادارے کے پاس قرض کے لیے جاتے رہے اور دوبارہ 1977ء میں 314ملین کا قرض مل سکا۔
جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں 1981-89ء میں آئی ایم ایف سے 2.187بلین کا معاہدہ ہوا، مگر 1.079بلین ملا۔ 1988ء سے 1997ء کے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار میں کل قرض 1.64بلین لیا جاسکا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں نو سال کی مدت میں دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس پاکستان گیا اور 1.33بلین کا قرض حاصل کیا جاسکا۔ یہ قرض پچھلی حکومت کے مقابلے میں کم تھا۔ 2008ء کے بعد جب پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو اس نے اس عالمی ادارے سے سب سے بڑا قرض لیا، یعنی 4.94بلین۔ اور اسی دور میں آئی ایم ایف نے پاکستان پر سخت شرائط عاید کیں۔ یعنی ٹیکس کے شعبے کے علاوہ کچھ ٹیکس چھوٹ کاخاتمہ اور شرح سود میں تبدیلی وغیرہ۔
2013ء سے 2016ء کے دور میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی 4.399بلین قرض لیا گیا۔ اس موقع پر آئی ایم ایف نے مزید سخت شرائط عاید کیں۔ اب اس دور میں قرض کی حد 13.79بلین ہوگئی ہے جس میں 47فی صد پی پی کا سکیورڈ ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) کا 35فی صد شامل ہے۔ اس حساب سے فوجی ڈکٹیٹرز 18فی صد کے ساتھ سویلین حکومتوں سے پیچھے رہے ہیں۔ آج کا دور ماضی کے ہر دور سے مختلف ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کو افغانستان کے معاملات کو دیکھنا پڑ رہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان اور اس سے پہلے دیگر دہشت گرد گروپوں کا قلع قمع کرنے میں کتنے اخراجات ہورہے ہیں۔ پھر کورونا کی وجہ سے تجارت، برآمدات، پیداوار بے حساب متاثر ہوا اور گیہوں اور چینی کی ذخیرہ اندوزی عام ہوگئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس میں بڑے بڑے سیاسی تاجر زیادہ ملوث ہیں۔
آخر میں ایک اہم بات۔ پاکستان کا بنگلہ دیش کی معیشت سے موازنہ کیا جاتا ہے۔ ذرا یہ دیکھئے اس کی برآمدات اور مینوفیکچرنگ میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟ اگر گارمنٹس کو نکال دیا جائے، تو بنگلہ دیش کیا پیدا کرے گا اور کیا برآمد کرے گا؟ گارمنٹس بھی اس لیے بوم پر ہے کہ اس کو امریکا اور دوسرے یورپی ممالک نے کوٹہ کی چھوٹ دی ہوئی ہے اور پھر یہ کہ وہاں کی حکومت غریبوں کی حالت اب تک ٹھیک نہیں کرسکی ہے۔

تبصرے بند ہیں.