تعلیمی اداروں کی منتقلی کے خلاف حکم امتناعی…!

29

5 جنور ی کو عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینج نے چھائونی کے علاقوں میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی منتقلی کے خلاف دائر نظر ثانی درخواستوں کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کیلئے حکم امتناعی کا جاری کردیا جس کے تحت ان اداروں کی کینٹ بورڈز ایریا سے منتقلی یا بندش کے فیصلے پر عمل درآمد رُک گیا ہے۔ بلاشبہ حکم امتناعی کا اجرا بہت ہی حوصلہ افزا پیش رفت ہے اور اسکی وجہ سے اس تشویش، پریشانی ، اذیت اور تکلیف دہ صورتحال سے کچھ نجات ملی ہے جس سے ملک بھر کے 43 کنٹونمنٹ بورڈز میں واقع تقریباً 8300 پرائیویٹ تعلیمی اواروں کے منتظمین ، ان میں ہزاروں بلکہ اس سے بھی زیادہ تعداد میں کام کرنے والے مرد وخواتین اساتذہ اور کم و بیش 37 لاکھ زیر تعلیم طلبا و طالبات اور انکے والدین دوچار تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کنٹونمنٹ بورڈ ایریاز سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی منتقلی یا انکی بندش کا معاملہ کوئی اتنا سادہ نہیں ہے۔ ایک طرف سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کا فروری 2017 کا فیصلہ موجود ہے جس میں سیکرٹری دفاع اور ڈائریکٹر ملٹری لینڈز و کنٹونمنٹ بورڈز سے کہا گیا ہے کہ وہ کینٹ ایریاز میں قائم یا تعمیر کیے گئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی یہاں سے مرحلہ وار منتقلی کو یقینی بنائیں ۔ لیکن اس فیصلے میں صرف اتنا ہی نہیں کہا گیا ہے کہ بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کینٹ بورڈ کے رہائشی علاقوں میں موجود تمام کمرشل بلڈنگز کو بھی مرحلہ وار یہاں سے ختم کیا جائے ۔اس کے ساتھ اس فیصلے میں بطورخاص اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کینٹ بورڈز کے علاقوں میں تعلیمی سہولیات مہیا کرنا اور اس کے لیے تعلیمی ادارے قائم کرنا بھی کینٹ بورڈز کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور اسکا شمار بھی ان دیگر سہولیات میں ہوتاہے جن میں کینٹ ایریا ز میں صفائی ، سینی ٹیشن، پینے کے پانی کی فراہمی اور سیر وتفریح کیلئے پارکوں کے قیام جیسی سہولیات شامل ہیں ۔
سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ کے فیصلے کیخلاف دائر نظرثانی کی درخواستوں پر حتمی طور پر کیا فیصلہ سامنے آتا ہے ، اس کے بارے میں کچھ کہنا یا کسی رائے کااظہار کرنا میرے جیسے قانون اور قانونی پیچیدگیوں سے نابلدایک عام فرد کے بس کی بات نہیں ۔اس کے حوالے سے میرٹ، ڈی میرٹ، قانونی نکات اور دیگر پہلووںکے بارے میں ماہر ین قانون ہی کسی رائے کااظہار کرسکتے ہیں ۔لیکن ایک دو پہلو ایسے ہیں جن کے بارے میں کچھ خیال آرائی کی جاسکتی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ بلاشبہ ہماری عدالتیں بالخصوص اعلیٰ عدالتیں جن میں صوبوں میں قائم ہائی کورٹس اور ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ بطور خاص شامل ہیں کے عزت مآب ججز فیصلے کرتے ہوئے عدل و انصاف کے تقاضوں، آئین و قانون کی پاسداری اور سابقہ عدالتی فیصلوں کی نظیروں کو پوری اہمیت دیتے ہیں۔ امید واثق ہے کہ ان نظر ثانی درخواستوں کا فیصلہ بھی انہی پہلو وں کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔ تاہم اس سے جڑی ایک دو باتیں ایسی ہیں جنہیں ضرور سامنے رکھا جانا چاہیے ۔ دیکھنا ہوگا کہ کیا ملک بھر میں کینٹ بورڈز اپنے ایریازمیں تعلیمی سہولتیں مہیا کر رہے ہیں؟ اس کا جواب بڑے واضح لفظوں میں نفی میں دیا جا سکتا ہے۔ پنڈی اور چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈز کی مثالیں ہی سامنے رکھ لیتے ہیں۔ یقینا ان کا شمار ملک کے بڑے اور باوسائل کینٹ بورڈز میں کیا جا سکتا ہے۔ یہاں حالت یہ ہے کہ دونوں کینٹ بورڈزنے مل ملا کر چند ایک پرائمری سکول قائم کر رکھے ہیں۔ لاکھوں کی آبادی کیلئے چندایک پرائمری سکولوں کا موجود ہونا اس سے بڑھ کر ستم ظرفی اور کیا ہوسکتی ہے ۔
ہاں یہ درست ہے کہ کینٹ ایریاز میں وفاقی نظامت تعلیمات کینٹ اینڈ گریثرن کے تحت ایف جی نام والے تعلیمی ادارے قائم ہیں ۔ بلاشبہ ان اداروں کا تعلیمی معیار بھی بہتر ہے لیکن انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ ان میں داخلے کیلئے کوٹہ سسٹم رائج ہے اور یہ کینٹ بورڈز میں آبا د لاکھوں کی سویلین آبادی کی بمشکل زیادہ سے زیادہ پانچ ، چھ فیصد تک ہی تعلیمی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ کینٹ ایریازمیں آرمی پبلک سکولز و کالجزبھی قائم ہیں۔ لیکن ان میں داخلہ لینا اور انکے تعلیمی اخرجات برداشت کرنا ہر کسی کے بس کے بات نہیں۔ اس معروضی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے کیا یہ نہیں کہا جاسکتاہے کہ کینٹ بورڈز ایریاز میں قائم پرائیویٹ تعلیمی ادارے ان علاقوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرتے ہوئے ایک بہت بڑا قومی فریضہ ادا نہیں کررہے ہیں ۔ یقینا ایسا ہی ہے اور سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معزز وکلاء نے جو عدادوشمار پیش کیے ہیں وہ اسکی گواہی دیتے ہیں۔
معزز وکلاء کے مطابق ملک بھر کے 43 کنٹونمنٹ بورڈز میں 8700 کے لگ بھگ پرائیویٹ تعلیمی ادارے قائم ہیں اور ان میں 37 لاکھ طلبا وطالبات زیر تعلیم ہیں۔ اب ان اداروں کو کینٹ بورڈز کے رہائشی علاقوں سے منتقل کردیا جاتا ہے یایہ بندش پر مجبور ہوجاتے ہیں تو کیا اتنی بڑی تعداد میں طلباوطالبات جس میں اکثریت چھوٹی جماعتوں کے طلبا وطالبات کی ہوسکتی ہے اپنے گھروں کے نزدیک تعلیمی سہولیات سے یکسرمحروم نہیں ہوجائیں گے ۔یا تو انہیں تعلیمی اداروں کو خیرباد کہنا ہوگا یا پھر کینٹ ایریاز سے باہر دوردراز جگہوں منتقل کیے جانے والے تعلیمی اداروں میں تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کی صورت میں انکے والدین کو کئی طرح کے معاشی اور معاشرتی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اسی طرح 8300 تعلیمی اداروں سے ہزاروں بلکہ اس سے بھی زیادہ تعداد میںاساتذہ اور دیگر سٹاف منسلک ہے۔ ان میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے جوگھروں کے نزدیک قائم تعلیمی اداروں میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے مہنگائی اور افراط زرکے اس انتہائی مشکل دور میں اپنے گھر اور کنبے کے اخراجات پورا کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی کسی دور دراز جگہ پر منتقلی کی صورت میں ان خواتین کی بڑی تعداد کیلئے اپنے موجودہ فرائض سرانجام دینا ممکن نہیں رہے گا۔ اس صورت میں بھی جو تکالیف اورمعاشی مشکلات سامنے آئیں گی ایسی نہیں ہے کہ جنہیں نظر انداز کیا جاسکے۔
ہوسکتاہے کہ یہ نکات اور بیان کردہ حقائق قانون کے نظروں میں زیادہ اہمیت کے حامل نہ ہو لیکن ان سے وابستہ انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کے پہلو ایسے ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینااس سے ایک ایسی افراتفری ، بے اطمینانی ، بے سکونی ، عدم اعتماد اور تعلیمی ومعاشی قتل عام کی فضا جنم لے گی جس کا مداوا آسان نہیں ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.