سانحہ مری: ’’حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘‘

20

پاکستان میں اس وقت آپ کسی بھی مسئلے کی تہہ میں جانے کے لیے حالات و واقعات کا  مشاہدہ کریں گے تو اس کے پیچھے آپ کو مہنگائی نظر آئے گی۔ جس واقعہ نے اس وقت پوری قوم کو ہلا کے رکھ دیا ہے یعنی مری کا سانحہ جس میں 23 افراد لقمۂ اجل بن گئے اس کی بنیادی وجہ بھی مہنگائی ناجائز منافع خوری ، لالچ پیسے کی ہوس اور حکومتی نا اہلی شامل تھی۔ آخر یہ کس کی ذمہ داری تھی کہ 4 ہزار روپے یومیہ کرائے کے ہوٹل کے کمرے کے 40 ہزار روپے وصول کیے جا رہے تھے۔
وزیراعظم پاکستان اپنی پالیسی تقاریر میں پاکستان کی آمدنی میں اضافہ کے لیے دو چیزیں بطور خاص ذکر کرتے رہے ہیں ایک بھنگ کی کاشت اور ایکسپورٹ اور دوسرا سیاحت جس سے ہم زر مبادلہ کما سکتے ہیں لیکن جب حالت یہ ہو کہ بھنگ کی پیداوار ایکسپورٹ کرنے پہ دوائیوں میں استعمال کرنے کی بجائے نشے کے عادی افراد کے ہاتھ چڑھ جائے اور ٹورازم سے ملک کو فائدہ پہنچانے کی بجائے صرف مری کے ہوٹل مالکان کی جیبیں بھرنے کا انتظام کیا جائے تو ملک کیا ترقی کرے گا۔
مری میں جو کچھ ہوا ہے یہ اچانک نہیں تھا بدنظمی منافع خوری اور حکومتی نااہلی کی ایک طویل داستان ہے جو سالہا سال سے جاری ہے سیاح لٹ رہے ہیں مگر کسی کے پاس وقت نہیں۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
یہ شعر شاید مری کے لیے ہی لکھا گیا تھا۔ گزشتہ کئی برسوں سے سوشل میڈیا پر بائیکاٹ مری مہم چل رہی ہے کہ مری میں سیاحوں کے ساتھ مقامی افراد کا طرز عمل دیکھ کر مری کا بائیکاٹ کیا جائے اس میں بعض اوقات میڈیا بھی شامل ہو جاتا رہا ہے لیکن عوام میں یکجہتی نہ ہونے اور سیرو تفریح کے محدود مواقع کی وجہ سے اس مہم کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی جس کی وجہ سے 70 روپے والا منرل واٹر کی ایک لیٹر کی بوتل کو مری والے ایک ہزار روپے میں بیچ کر موجیں کر رہے ہیں۔
مری میں توسیلفی بنانے کے بھی پیسے ہیں کچھ سال پہلے ہمیں فیملی کے ساتھ مری جانے کا اتفاق ہوا وہاں گاڑی پارک کرنے پر بھاری رقم وصول کی جا رہی تھی یہ ہمارے لیے حیرت کی بات تھی۔ وہاں کے لوگ بڑی تخلیقی ہین وہ آپ کی جیب سے پیسے نکالنے کے نت نئے طریقے سوچ لیتے ہیں ہم نے ایک شخص کو دیکھا جو سڑک کنارے باز لیے کھڑا تھا سیاح باز کے ساتھ تصویر بنوا کر اسے منہ مانگا معاوضہ دے رہے تھے۔ ایک جگہ پر ایک بندہ سیلفی بنانے والوں سے پیسے لے رہا تھا اس کا کہنا تھا کہ پیچھے پس منظر میں جو سین آ رہے ہیں ہم نے یہاں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ جو یہاں تصویر بنائے گا ہمیں پیسے دے گا۔ جب اس سے زیادہ بحث کی تو اس نے اپنا ہمدردی کارڈ کھیلا کہ وہ بہت غریب ہے۔ سیلفی فیس نہ دیں ویسے مدد کر دیں اس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ "Beg, borrow or steal” کہ جیسا بھی ہو انہیں پیسے چاہئیں۔
تاریخی طور پر دیکھیں تو مری کو تاج برطانیہ نے 1850ء میں آباد کیا یہ ایک Sanitorium تھا یعنی صحت افزا مرکز تھا جس کا مقصد افغان سرحد پر لڑنے والے انگریز فوجیوں کی راحت کا عارضی بندوبست کرنا تھا یہ لوگ جنگ سے واپس آ کر یہاں عیش و عشرت کے لیے وقت گزارتے تھے۔ یہاں چرچ بھی بنایا گیا تھا۔ اس وقت مری میں مقامی لوگوں کا داخلہ ممنوع تھا۔
انگریز فوجیوں کو یہاں قیام کے دوران گھریلو نوکروں کی ضرورت تھی جو وہاں ان کی خدمت گزاری کر سکے اس طرح انہوں نے پنڈی کے گرد و نواح سے باورچی، قلی، کتوں اور خچروں کی دیکھ بھال کرنے والے، مساج کرنے والے اور اس طرح کے کام کرنے والوں کو اپنے پاس بھرتی کیا۔ ویسے انگریز ان کو فوج کی نوکری کے لیے نا اہل اور ان فٹ سمجھتے تھے۔
اس طرح عباسی قبیلے کے سب سے نچلے درجے کے غریب اور ان پڑھ لوگ مری Murrree Hills کے اردگرد آباد ہونا شروع ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد جب مری کو عوام کے لیے کھول دیا گیا تو یہ خاندان ترقی کر کے آج ارب پتی بن چکے ہیں آج بھی دنیا بھر کے ہوٹلوں میں سب سے اچھے باورچی جو ملیں گے ان کی اکثریت کا تعلق مری سے ہے کیونکہ انہوں نے کھانے پکانے کی تربیت انگریزوں سے حاصل کر رکھی ہے۔ البتہ انگریزوں نے ان کو میزبانی یا Hospitality نہیں سکھائی۔ یہ لوگ اخلاقی لحاظ سے بڑے رف ہیں معمولی سی بات پر لڑنا شروع کر دیتے ہیں اور گالی گلوچ ان کا تکیہ کلام ہے۔ یہ حقائق مری کے موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔
سانحہ مری پر حکومت کا ردعمل بڑا افسوسناک ہے پہلے تو یہ قرار دیا گیا کہ سیاح موسم کا حال بتانے والوں کی وارننگ کو نظر انداز کر گئے کبھی کہا گیا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو وہاں جانا نہیں چاہیے تھا وغیرہ وغیرہ۔ حکومتیں ماضی سے سبق سیکھتی ہیں لیکن اس حکومت نے اصلاح احوال کا سبق سیکھنے کی بجائے یہ سیکھا ہے کہ اس میں سے خود کو بری الذمہ کیسے کرنا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ حکومت میں بطور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کسی بھی اس طرح کے حادثے یا کرائم کی صورت میں ہیلی کاپٹر پر موقع پر پہنچتے تھے اور وہاں جا کر پولیس کے ضلعی سربراہ اور ڈپٹی کمشنر کی شامت آجاتی تھی انہیں معطل کیا جاتا تھا اور کارروائی ہوتی تھی یہ اتنے تواتر سے ہونے لگا کہ لوگ اس سے بھی بیزار ہو گئے۔ لاہور میں 14 اگست کو مینار پاکستان پر عائشہ اکرم کے واقعہ میں جب وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اعلیٰ پولیس افسروں کو ہٹایا تو عوام نے کہا کہ ذمہ داری کے اصول کے تحت تو اصولاً وزیراعلیٰ کو ہٹایا جانا چاہیے تھا۔
اب حکومت نے سوچا کہ اگر پولیس اور سول انتظامیہ کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پی ٹی آئی کی حکومت  میں یہ غلط ہوا ہے اور حکومت ذمہ دار ہے لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ بیورو کریسی کو اس واقعہ میں کلین چٹ دیدی جائے تا کہ نا اہلی کا کھرا وزیراعلیٰ کے دفتر کی جانب نہ آئے اس لیے حکومت ہر سطح پر یا تو متاثرین کو قصور وار ٹھہرا رہی ہے یا یہ کہا جا رہا ہے کہ ساری اموات برفباری سے نہیں بلکہ کاربن مونو آسائیڈ سے ہوئی ہیں حالانکہ جن فیملیز نے گاڑیوں میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا اس کے پیچھے 40 ہزار روپے یومیہ کمرے کا کرایہ کارفرما تھا۔ حکومت نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ کسی معاملے میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کریں گے۔
حکومت کی ہر نا اہلی گوارا کی جا سکتی ہے لیکن وزیراعلیٰ صاحب کی وہ بے حسبی قطعی ناقابل معافی ہے کہ جب مری میں 23 افراد کی اندوہناک موت کی خبریں آ رہی تھیں تو عین اس وقت عثمان بزدار صاحب اور گورنر پنجاب اورپارٹی کی کلیدی قیادت لاہور میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری کے لیے میٹنگ میں مصروف تھی اور پارٹی نے خود تسلیم کیا کہ یہ انتخابی منصوبہ بندی میٹنگ ڈھائی گھنٹے تک جا ری رہی۔ ان سے یہ توقع نہیں تھی ۔ انسانی جانوں کی اس قدر ناقدری ۔ حکومت کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ کتنا بڑا واقعہ ہو گیا۔ واقعہ کے تیسرے دن وزیراعلیٰ صاحب مری کا فضائی دورہ پر گئے جس کی مووی بنا کر خبر نامے کو دی گئی۔ الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.