سری لنکا نے عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس جانے سے انکار کر دیا

11

کولمبو: سری لنکا نے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانے سے انکار کردیا ہے۔

 

سری لنکا کے مرکزی بینک کے گورنر اجیت نیوارڈ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کوئی جادو کی چھڑی نہیں بلکہ اس کے بجائے ہم چین سے ایک اور قرض لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

 

سری لنکن مرکزی بینک کے گورنر پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لے لیں تاہم انہوں نے اس دباؤ کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر آپشنز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ نئے قرض پر بات چیت حتمی مراحل میں ہے اور جلد نیا معاہدہ ہو جائے گا۔

 

گورنر اسٹیٹ بینک نے چین کے ساتھ قرض کے معاہدے کا حجم نہیں بتایا البتہ یہ کہا کہ برآمدات سے جڑے وسیع معاملات کی فنڈنگ کیلئے بھارت کے ساتھ بھی ایک ارب ڈالر کے قرض کی بات چیت جاری ہے۔

 

خیال رہے کہ پاکستان نے معاشی بحران کے پیش نظر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لیا تھا جس کی قسطیں وقتاً فوقتاً جاری ہوتی ہیں۔ پاکستان کو قرض کی نئی قسط جاری کرنے سے قبل آئی ایم ایف کا جائزہ اجلاس جنوری کی 12 تاریخ کو ہونا تھا لیکن پاکستان کی درخواست پر اسے مؤخر کر دیا گیا۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے قرض کی قسط جاری کرنے سے قبل آئی ایم ایف کا جائزہ اجلاس اب 28 یا 31 جنوری کو ہو گا۔ اس اجلاس سے قبل حکومت نے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے جس پر ان دنوں بحث جاری ہے اور ضمنی مالیاتی بل اب تک پاس نہیں ہو سکا ہے۔

 

تبصرے بند ہیں.