بی جے پی کے 2 وزرا اور 3 ارکان اسمبلی پارٹی چھوڑ گئے

5

نئی دہلی: مودی سرکار کے 2 وزرا اور 3 ارکان اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ 

 

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش میں 24 گھنٹے کے دوران دوسرے وزیر نے بھی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

 

اترپردیش کے 11 اضلاع کی 58 نشستوں پر انتخابات 10 فروری کو ہوں گے تاہم اس سے قبل ہی ارکان اسمبلی نے ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں جانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

 

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مودی سرکار کی نفرت انگیز، متعصبانہ اور اقلیت مخالف پالیسیوں کے باعث 2 وزرا اور 3 ارکان اسمبلی پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

 

ریاست اترپردیش کے وزیر سوامی پرساد موریا نے بھی استعفیٰ دے دیا اور انہوں نے وزارت اور پارٹی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی میں شمولیت حاصل کر لی۔ انہوں نے بی جے پی پر دلتوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

 

قبل ازیں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان اسمبلی روشن لال ورما، بریجیش پراجاپتی اور بھگوتی ساگر نے پارٹی سے اپنی راہیں جدا کر لی ہیں۔ حکمراں جماعت کے مستعفی ارکان نے اپنے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر اقلیتوں کے خلاف زہریلی تقریریں کرنے اور انہیں نظرانداز کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

 

واضح رہے کہ بھارت میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے اور گاؤ ماتا کی حفاظت کے نام پر اقلیتوں کو قتل کر دینا عام بات ہو گئی ہے۔

 

تبصرے بند ہیں.